آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیونے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ایرانی صدر حسن روحانی سےبراہ راست ملاقات کرکے مذاکرات کریں ۔

مائیک پومپیو نے اس بات کا اظہار امریکی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہو ئے کیا،ان کا یہ بھی کہناتھا کہ صدر ٹرمپ ہر لمحہ کسی نہ کسی رہنما سے ملاقات پر خوشی کا اظہارکرتے ہیں اس معاملے پر وہ کافی کشادہ نظر بھی ہیں۔

مائیک پومپیو کا کہناتھا کہ امریکی صدر عوامی سطح پر متعدد مرتبہ ایرانی سربراہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہارکرچکے ہیں،اگر ان کی جانب سے ملاقات کی خواہش کا اظہار سامنے آتا ہے تو یہ ملاقات طے ہو سکتی ہے اور اس کا انعقاد عمل میں لایا جا سکتا ہے کیوں کہ ہم بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور خاص طور پر وہاں جہاںمعاملہ جنگ کے دہانے پر پہنچ رہاہو۔

امریکی سیکریٹری خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایرانی سربراہ مملکت سے ملاقات کی خواہش ضرور رکھتے ہیں لیکن ہماری یہ منشاء یا مقصد نہیں ہے کہ پہلے حسن روحانی کی جانب سے اس ملاقات کا مطالبہ یا خواہش کا اظہار سامنے آئے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی واضح طور پر اعلان کرچکے ہیں کہ واشنگٹن سے مذاکرات ہماران انتخاب نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے ایران پر امریکا اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کی حامی بھری تھی۔

اوباما انتظامیہ کے دور میں ہونے والے اس معاہدے سے ٹرمپ انتظامیہ نے یہ کہتے ہو ئے علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ معاہدے میں بہت سی خامیاں ہیں جس میں ایران کے مفادات کوزیادہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔

امریکی علیحدگی کے اعلان کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے برسلز میں ملاقات کی تھی اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی تھی ، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں