آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (نمائندہ جنگ، صباح نیوز) عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران 10سالہ بچی امل عمر کے جاں بحق ہونے کے معاملے کی سماعت کے دوران پولیس ٹریننگ اور قواعد میں ضروری ترامیم، پرائیویٹ اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج اور واقعے کے ذمہ داران کے تعین کیلئے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ اور عمائمہ ایڈووکیٹ پر مشتمل دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واقعہ کے حوالے سے پولیس پہلے جھوٹ بولتی رہی۔چیف جسٹس نے کہاکہ غیرتربیت یافتہ پولیس والے کوایس ایم جی رائفل پکڑائی گئی ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران ،نیشنل میڈیکل سنٹر کراچی کے ایڈمنسٹریٹر اور مرحومہ ایمل کے والدین پیش ہوئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں