آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

چیزیں اتنی بگڑ چکی ہیں کہ اب ان کو ٹھیک کرنا حکمرانوں کے بس کی بات نہیں لگتی۔ جمہور کی سلطانی ممکن ہو یا نہ ہو، سلطانوں کی سلطانی مسلسل خطرے میں رہتی ہے۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی حکمرانی مشکل ہی نہیں شاید ناممکن ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب کا عنوان بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ جو کام ناممکن ہے، اسے کیسے کریں لیکن اس ملک کی قسمت میں ایسے حکمراں بھی آچکے ہیں کہ جو حکمرانی کو سہل جانتے تھے۔ وہ کیا کچھ کر گئے، اس کا حساب ہم ابھی تک نہیں کر پائے ہیں۔ مجبوری یہ ہے کہ ہم حساب کتاب میں بہت کچے ہیں اور ہماری یادداشت بھی کافی کمزور ہے۔

تو پھر میرا اشارہ یا دھیان کدھر ہے؟ تو لیجئے میرا ایک سوال آپ سے ہے۔ آپ سوچئے کہ یہ بات کس نے کہی تھی۔ ’’لوگ کبھی کبھی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا مجھے ملک کو چلانا زیادہ آسان لگتا ہے یا فوج کو تو میں سچ بتائوں کہ مجھے ملک چلانا زیادہ آسان لگتا ہے۔‘‘ جی ہاں…! یہ الفاظ ہیں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے جو پاکستان کے پہلے فوجی حکمراں تھے۔ پہلے مرد آہن کہ جنہوں نے خود کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کے جملے کا میں نے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے اور یہ بات انہوں نے سوچ سمجھ کر کی تھی۔ یوں کہ جیسے وہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہوں۔ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں، اس کی وضاحت ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ایوب خان واقعی ایک بڑے لیڈر تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کئی ملکوں میں جو بڑے لیڈر سیاست کی بساط پر نمودار ہوئے، ایوب خان کو بھی ان میں شمار کیا جاسکتا ہے جیسے ڈی گال، سوکارنو، نہرو، ناصر اور کینیاٹا وغیرہ…! تاریخ سے انہیں ایک خاص لگائو تھا اور وہ اس خطے اور ملک کی تاریخ میں اپنا مقام بنانے کے خواہاں تھے۔ اس کا ایک ثبوت ان کی سیاسی خودنوشت تھی جس کا اردو ترجمہ ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ جب فاطمہ جناح کے خلاف انہوں نے صدارت کا انتخاب جیت لیا، جس طرح بھی جیتا، تو وہ جیسے ایک سیاسی فاتح بن کر پاکستان کے سیاسی افق پر چھا گئے۔ تب ان کے مایہ ناز ترجمان الطاف گوہر نے کہ جو ترجمانی کی تاریخ میں اپنا مقام رکھتے ہیں، یہ بندوبست کیا کہ ایوب خان کی زندگی، تجربے اور فلسفے کے بارے میں تفصیلی انٹرویو کئے جائیں تاکہ ایک معتبر سوانح عمری کیلئے مواد حاصل کیا جاسکے۔ آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے یہ انٹرویو اور ایوب خان کی چند دوسری تقریروں پر مشتمل 2010ء میں ایک کتاب شائع کی ۔جس جملے کا میں نے حوالہ دیا ہے، وہ اسی کتاب سے لیا گیا ہے۔ یہ شاید بتانے والی بات ہے کہ میں ان دنوں اتنی زندگی جی لینے کے بعد، پڑھی ہوئی کتابوں کو دوبارہ دیکھ لیتا ہوں۔ سو چند دن پہلے یہ کتاب میں نے اٹھا لی اور اس نے جیسا کہ کہتے ہیں، مجھے پکڑ لیا۔ میں نے سوچا کہ موجودہ سیاست کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کونسا راستہ تھا جس پر چل کر ہم یہاں تک پہنچے ہیں اور اس راستے پر کب کب ہمارا قافلہ لوٹا گیا، کب کب ہم نے امید کے سورج کو طلوع ہوتے دیکھا اور ان حادثوں کی وقت نے کیسے پرورش کی جو بظاہر اچانک رونما ہوئے۔ اس تاریخ میں ایوب خان کی اہمیت واضح ہے۔ بنیادی حقائق سے ہم واقف ہیں۔ ایوب خان نے فوج کے سربراہ کی حیثیت میں جیسے ایک نیا پاکستان بنانے کا خواب دیکھا، یہ کام انہوں نے انتہائی سنجیدگی اور لگن کے ساتھ کیا اور جسے وہ انقلاب کہتے اور سمجھتے تھے، اسے نافذ کرنے سے پہلے کافی تیاری بھی کی۔ بنیادی طور پر انہوں نے یہ دیکھا اور سمجھا کہ سیاستدان اس ملک کے دکھوں کا علاج نہیں کرسکتے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو منظر ان کی نظر میں تھا، وہ کیسا تھا یعنی سیاسی صورتحال کیا تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بات وہ بھی عوام کی اور جمہوریت کی کرتے تھے البتہ ان کی گفتگو میں کہیں کوئی ایسا اشارہ نہیں کہ جن انتخابات کے ذریعے وہ پاکستان کے صدر بنے، وہ منصفانہ نہیں تھے۔ میرا مقصد یہاں ایوب خان کے دور پر کوئی سیاسی تبصرہ کرنا نہیں ہے۔ ان کے اچھے اور برے اقدامات پر نظر ڈالنے کا بھی یہ موقع نہیں ہے۔ میں تو اس کتاب کے چند جملوں کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ ایوب خان کو ملک چلانا، فوج کو چلانے سے آسان لگتا تھا۔ اس بات کی وضاحت انہوں نے یوں کی کہ حکومت کے دائرے میں ہونے والے نتائج سے وہ زیادہ مطمئن تھے۔ انہوں نے سول سروس کے کئی ذہین اور قابل افسران کی بھی تعریف کی کہ جو ان کے خیالات کو سمجھتے تھے اور ان کی تعمیل کرسکتے تھے۔ یہ جملے میں نے اس انٹرویو سے لئے ہیں جو ان کے پرنسپل سیکرٹری این۔ اے فاروقی نے 16؍فروری 1965ء کو لیا تھا یعنی 1965ء کی جنگ اور اس کے بعد کے مشرقی پاکستان کے سانحے سے پہلے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں چند عناصر ایسے ہیں کہ جو اتنے احمق ہیں کہ مغربی پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ وہ انڈیا سے گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں مشرقی پاکستان میں ہوتا تو مغربی پاکستان سے الگ ہونے کے خیال ہی سے میری جان نکل جاتی۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ پاکستان میں کرپشن دوسرے مشرقی ملکوں سے کم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں آپ کا سب سے بڑا کارنامہ کیا ہے تو جواب تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس ملک کو ایک بہت اچھی فوج دی ہے اور یہ بات اس ملک کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ بے شمار باتیں ہیں جن کو نقل کرنے کو جی چاہتا ہے اور کسی نہ کسی سطح پر ایوب خان نے جو کچھ کیا اور جو کچھ کہا، اس کے اثرات ہماری زندگی پر اب بھی پڑتے ہیں اور اتنا زمانہ گزرنے کے بعد ملک کے جو حالات ہیں، انہیں بدلنے کی ضرورت باقی ہے۔