آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی تھوڑے سے دن ہوئے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کے حوالے کیاگیا ہے۔اسےصاحبان ِ کھیل نےاچھا فیصلہ قرار دیا۔اس عہدےکےلئے شاید ہی کوئی ان سے مناسب شخص ہو ۔وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر رہ چکےہیں ۔مگر ان کے آتے ہی پہلے ٹورنامنٹ میں کرکٹ ٹیم نے جس مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اُس پر پوری قوم ششدر ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہواکہ ہماری ٹیم افغانستان سے اتفاقاً جیت گئی وگرنہ ہم آئینہ دیکھنے کے قابل نہ رہتے ۔نو وکٹوں سے بھارت سے شکست اور پھر بنگلہ دیش سے اتنی بری شکست ۔کیا کہوں ۔مجھے لندن کا وہ گرائونڈ یاد آگیا ہے جہاں ہم پہلی بار بنگلہ دیش سے سے زبردستی ہارے تھے۔ پھر کئی بار ہارے ۔اب پھر کیوں نہ ہارتے آخر ایک عظیم کرکٹر اس وقت ہمارے ملک کا وزیر اعظم ہے۔ اسے تو شرمندہ کرنا تھا نہ۔وہ پہلے ہی حیران و پریشان ہیں جس محکمہ کو،جس ادارے کو دیکھتے ہیں وہی مکمل برباد نظر آتا ہے ۔ عمران خان کی ساری ٹیم کی تو نیند یں اڑی ہوئی ہیں کہ کس چیز کو کہاں سے درست کیا جائے۔ بیوروکریسی کا جن بھی بوتل میں بند ہونے کو تیارنہیں ہے۔

پاکستان کر کٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان نے دوہزار پندرہ میں ٹیم کی بنگلہ دیش سے شرمناک شکست پر کہا ہے ’’وائٹ واش شکست سے کھلاڑی گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ بنگلادیش کیخلاف سیریزکے بعد شکست کی وجوہات معلوم کی جائیں گی،فی الحال ٹیم مینجمنٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ۔ شہریار خان نے کہا تھاکہ شائقین کی طرح اس شرمناک ہار پر انہیں بھی سخت مایوسی ہوئی۔ابھی تک ایسا کوئی بیان احسان مانی کا نہیں آیا،آنا بھی نہیں چاہیے۔چیئرمین کاکام شرمسار ہونا نہیں بلکہ شکست کے اسباب تلاش کرکے ان پر قابو پانا ہوتا ہے۔احسان مانی سے ابھی بہت توقعات ہیں مگر وہ کیا کریں ۔انہیں جس ٹیم کا کپتان بنایا گیا ہے وہ انہیں کام کرنے دے گی توکچھ درست نتائج برآمد ہونگے۔ ابھی تک وہ اپنا چیف آپریٹنگ آفیسر یعنی چیف ایگزیکٹو نہیں بدل سکے ۔کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ بدستور چودہ سالوں سے ایک ہی شخص اِس عہدے پر فائز چلا آرہا ہے ۔پاکستان میں شاید ہی گورنمنٹ کا کوئی ادارہ ایسا ہو جس میں چیف ایگزیکٹو کی ملازمت کا دورانیہ تین سال سے زائد ہو۔ اگر کسی کو اس میں توسیع ملی بھی تو تین سال سے زیادہ نہیں ملی ۔

بنگلہ دیش سے موجودہ شکست پر لوگوں نے اپنے اپنے تبصرے کئے ۔کسی نے کہا ۔’’جوا لگا تھا ‘‘ ۔کسی نے کہا ۔’’کچھ کھلاڑی کپتان سرفراز احمد کو بدلنا چاہتے ہیں انہوں نے جان بوجھ کر میچ ہرایا ۔ وغیرہ وغیرہ۔یہ بات کسی نے ابھی تسلیم نہیں کی کہ جو ٹیم منتخب کرکےبھیجی گئی تھی وہ درست نہیں تھی ۔حالانکہ سچی بات ہے کہ وہ ٹیم اس قابل نہیں تھی کہ میج جیت سکتی ۔اگر کسی کھلاڑی نے جان بوجھ کر اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا تو پھر اسے تو ہمیشہ کےلئے ٹیم سے فارغ کردینا چاہئے ۔

یہ خبر بھی ہے کہ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹوکےخلاف ایف آئی اے نے باقاعدہ انکوائری شروع کر رکھی ہے۔ و ہ اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئے ۔یہ پانچوں ساتھی برسوں سے پی سی بی کو چمٹے ہوئے ہیں ۔دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ شایدنیب نے بھی اُن کےمتعلق تحقیقات شروع کرا دی ہیں کہ ایک شخص جو پاکستان کرکٹ بورڈ میں ٹائپسٹ بھرتی ہوا تھا اور پھر چیف آپریٹنگ آفیسر بن گیا اس کےپاس کروڑوں کےگھر اور گاڑیاں کہاں سے آئی ہیں اور بھی بہت سے الزام ہیں۔37افراد کوغیرقانونی طور پر بڑی بڑی تنخواہوں پر بھرتی کرنے کا معاملہ بھی کورٹ میں ہے ۔قذافی اسٹیڈیم میں بنائی گئی دکانوں اور ریستورانوں میں شرکت داری کا الزام بھی ہے۔اسلام آبادا سٹیڈیم بنانےکےلئے جو ٹینڈر جاری کئے گئے تھے اور اس طرح کےکئی دوسرے معاملات میں بھی تفتیش جاری ہے ۔

کرپشن کے خلاف جنگ میں اُس وقت تک فتح حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اس کا آغاز بیورو کریسی سے نہیں ہوگا۔کیونکہ موجودہ نظام کے تحت ممکن ہی نہیں کہ بیوروکریسی کی مدد کے بغیر کرپشن کی جاسکے ۔یعنی اس ملک میں ہونے والی ہر کرپشن میں بیوروکریسی ملوث رہی ہے ۔موجودہ حکومت کے وزیروں اور بیورو کریسی کے درمیان ابھی تک جنگ جاری ہے ۔یقیناً یہ صورتحال عمران خان کےلئے پریشانی کا باعث ہے ۔وہ مسلسل یہی سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کون درست کہہ رہا ہے اور کون غلط ہے ۔ایک بیوروکریٹ کے متعلق کچھ لوگ آکر کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بہتر اور ایمان دار افسر کوئی نہیں ۔ دوسرا گروپ آتا ہے اور اسے کرپشن کا بادشاہ قرار دیتا ہے ۔نیب نے تمام بیوروکریٹس کے اثاثوں کی چھان بین کا کام شروع کردیا ہے ۔عمران خان نے بھی چیئرمین نیب کو احتساب کی رفتار تیز ترکرنے کےلئے کہا ہے ۔تبدیلی کا آغاز ہورہا ہے۔ تقریباً پچاس سے زائداداروں کے سربراہ تبدیل ہونے والے ہیں ۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جنہیں سیاسی طور پر اِن عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔اس کے بعد شایدمحسوس ہونا شروع ہوگا کہ حکومت تبدیل ہوگئی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں