آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت اور پاکستان کےتعلقات ایک بار پھر تنائو کا شکار ہوگئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی بھارتی رویے کومتکبرانہ اور منفی قراردیاہے۔ نریندرمودی حکومت نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کامثبت جواب نہیں دیا۔پہلے نئی دہلی حکومت نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستانی اور بھارتی وزیرخارجہ کی ملاقات اور مذاکرات کاعندیہ دیاتھالیکن ابھی اس بھارتی اعلان کو24گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ ہندوستان ایک بار پھر مکر گیا اور مذاکرات سے بھاگ گیا۔پاک بھارت تعلقات ہمیشہ اتار چڑھائوکاشکار رہے ہیں۔گزشتہ سات دہائیوں سے جموں وکشمیر پر بھارت کاغاصبانہ تسلط قائم ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ 70برسوں سے ہندوستان کشمیریوں کواپنے مستقبل کاخود فیصلہ کرنے کابنیادی حق نہیں دے رہا حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے بھارت پابند ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دے۔یہی وجہ ہے کہ انڈیا ایک طویل مدت سے مذاکرات کے ذریعے جموں وکشمیر کے اہم اور حساس معاملے کو حل نہیں کررہا بلکہ وہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی جانب دوستی کاہاتھ بڑھایاتھا مگر ہندوستان نے روایتی ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتے ہوئے امن کوششوں کوناکام بنادیا۔بھارتی رویے سے ثابت ہوتاہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کا حل نہیں چاہتا اورخطے میں حالات کوکشید ہ رکھنا چاہتاہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھارتی سیاسی قیادت پر حاوی ہوچکی ہے۔انڈین آرمی چیف کاحالیہ پاکستان مخالف بیان اس امر کی عکاسی کرتاہے۔بھارتی آرمی چیف کی گیڈربھبکیوں کاپاک فوج نے منہ توڑجواب دیا ہے۔پاک فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفورنے واضح طورپر کہہ دیاہے کہ پاکستانی قوم کااپنا انتخاب امن کاراستہ ہے اور وہ کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتی۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔اس پر جنگ مسلط کی گئی تو جارح قوت کو ناقابل فراموش سبق سکھایاجائے گا۔بھارتی آرمی چیف نے ہرزہ سرائی کی ہے کہ پاکستان سقوط ڈھاکہ کابدلہ لینا چاہتاہے اورکشمیریوں کو آزادی کی امید دلاکر اکسایا جارہارہے۔ان کامزید کہناتھا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔انڈین آرمی چیف کابیان ’’کھسیانی بلی کھمبانوچے‘‘ کے مترادف ہے۔انڈیا مقبوضہ کشمیر میں مکمل طورپر ناکام ہوچکاہے۔اس لیے وہ پاکستان کے خلاف جھوٹااور بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہا ہے۔بھارتی آبی جارحیت کاتوڑکرنے کے لیے بھی ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ہندوستان چھوٹے بڑے 62ڈیم بناچکا ہے۔وہ پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں کاپانی چوری کررہا ہے۔پاکستان کوورلڈبنک کواس جانب متوجہ کرنا چاہئے۔کیونکہ ورلڈبنک سندھ طاس معاہدے کاضامن ہے۔اس ضمن میں ہمیں عالمی عدالت انصاف سے بھی رجوع کرنا چاہئے۔واقفان حال کاکہنا ہے کہ چونکہ بھارت میں آئندہ چند مہینوں میں الیکشن ہونے والے ہیں اسی لیے نریندرمودی حکومت مذاکرات سے جان چھڑارہی ہے۔کیونکہ وہ ہندوستانی عوام کو پاکستان مخالف موقف اپنا کر ایک بار پھر گمراہ کرنا چاہتی ہے۔تحریک انصاف کی نئی حکومت کوبھی بھارتی دھمکیوں کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا اصل ذمہ دار بھارت ہے۔حکومت پاکستان کو عالمی بردار ی کو آگاہ کرنا چاہئے کہ جب تک انڈیا اپنا جارحانہ رویہ نہیں بدلے گا اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ہندوستان پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے بھی خائف ہے۔سی پیک پر جس قدر تیزی سے کام ہواہے اس سے بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔کیونکہ انڈیا جانتاہے کہ پاک چین اکنامک کوریڈور کی تکمیل کے بعد چین اور پاکستان کو جنوبی ایشیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔سعودی عرب کی اس عظیم منصوبے میں تیسرے بڑے پارٹنرکے طور پر شمولیت سے ظاہر ہوتاہے کہ سی پیک کس قدر اہمیت کاحامل پروجیکٹ ہے۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پاکستان،چین،مصر اور یورپی ممالک کے وزراء اور اہم حکام کے چار روزہ اجلاس میں چینی صدر کی جانب سے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور نئے شراکت داروں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔واقفان حال کامزیدکہنا ہے کہ چین میں ایشیاکی طرح افریقہ میں بھی نئی تجارتی راہیں کھولنا چاہتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اب وہ افریقہ کی طرف بھی توجہ دے رہا ہے۔چونکہ مصرافریقہ کا گیٹ وے ہے اس منظر نامے میں نہر سویزمصرمیں بحیرہ روم اور بحیرہ احمراور یورپی ممالک کوملانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔نہرسویزمصر میں بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کوملاتی ہے۔سی پیک کانہر سویزکی راہداری سے ملنا ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔اس سے ایشیا،افریقہ اور یورپ میں ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی نہر سویزکے راستے افریقی اور یورپی ساحلوں تک رسائی سے یہ عظیم منصوبہ عالمی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔اس وقت امریکہ اور بھارت سی پیک کے سب سے بڑے مخالف ہیں جبکہ روس،سعودی عرب،ترکی،ایران اور خطے کے دیگر ممالک پاکستان اور چین کے ساتھ کھڑے ہیں اور سی پیک سے ممکنہ ثمرات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جموں وکشمیر میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد حالات یکسرتبدیل ہوچکے ہیں۔بھارت کشمیری عوام پر ظلم وبربیت کے تمام حربے آزماچکا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں تحریک آزادیٔ کشمیر تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے مسلسل کرفیو اور ریاستی دہشتگردی سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔کشمیری قوم کے جذبہ آزادی کے سامنے بھارتی فوج بے بس دکھائی دیتی ہے۔ہندوستان بخوبی جانتاہے کہ جموں وکشمیر اب اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔جموں وکشمیر کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ہے۔انڈیا کو جلد یابدیر اس پر عمل کرنا ہوگا۔ہندوستان کومقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ فوری بندکرنا چاہئے۔مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کوختم ہونا چاہئے اوربین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کو انسانی حقوق کی صورتحال کاجائزہ لینے کے لیے جموں وکشمیر کا دورہ کرنا چاہئے۔بھارتی مظالم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔اب وقت آگیاہے کہ عالمی برادری کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنا کردار اداکرے۔کشمیری عوام نے بھارت سے نجات کے لیے تاریخی اور لازوال قربانیاں دیں ہیں۔جموں وکشمیر کے عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔وہ ہرسال 14اگست کو پاکستان کایوم آزادی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم جب انڈیا سے جیتتی ہے تو وہاں فتح کاجشن منایاجاتاہے۔اگر تمام اسلامی ممالک بھارت کاتجارتی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیں تو وہ گھٹنے ٹیک دے گا ۔انڈیا نے ہمیشہ مذاکرات کاڈھونگ رچایاہے۔پاکستان کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کامخالف نہیں لیکن مذاکرات بامعنی اور بامقصد ہونے چاہئیں۔ہندوستان اگر واقعی کشمیر کامعاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرناچاہتاہے تو اسے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔اور اپنے جارحانہ طرزعمل کو ترک کرنا ہوگا

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)