آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آئین ، قانون ، ضابطے اور قاعدے، الفاظ سے ترتیب پاتے ہیں۔ ہر لفظ ایک معنی رکھتا یا دوسرے الفاظ کو بامعنی بنانے میں معاونت کرتا ہے۔ جملوں کی صورت میں ڈھل جانے والے الفاظ صرف معنی ہی نہیں رکھتے، ایک روح کے بھی حامل ہوتے ہیں۔ سو عدالتیں، وکلا اور ماہرین، کسی بھی آئینی شق اور قانونی ضابطے کی تشریح و تعبیر کرتے وقت الفاظ اور جملوں کی ساخت اور معانی کے ساتھ ساتھ ان کے اندر دھڑکتی روح کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں تاکہ ممکنہ حد تک درست مفہوم تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
ہمارے آئین کے آرٹیکل 63 میں بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ کون سے افراد پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے یا رہنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ایسی نااہلیتوں کی تعداد کوئی درجن بھر کے لگ بھگ ہے۔ اسی آرٹیکل کی ایک ذیلی شق 63-1(C)کے الفاظ ہیں۔
"If he ceases to be a citizen of Pakistan or acquires the citizenship of a foreign state"
”اگر وہ شخص پاکستان کا شہری نہیں رہتا یا وہ کسی بیرونی ریاست کی شہریت قبول کرلیتا ہے“۔
یہ شق دو صورتوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ پہلی یہ کہ کوئی شخص کسی بھی وجہ سے پاکستان کا شہری نہیں رہتا۔ اس صورت کو تقسیم ہند اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے تبادلہ آبادی کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، اس کے امکانات آج بھی موجود ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ایسے بیرونی ملک کی شہریت

قبول کر لے جس کی اجازت ریاست پاکستان نے دے رکھی ہے۔ پہلی صورت میں تو اس شخص کی پاکستانی شہریت ہی ساقط ہوجائے گی اور وہ پاکستانی نہیں رہے گا۔ دوسری صورت میں وہ بدستور پاکستان کا شہری رہے گا، اسے آئین و قانون کے تحت تمام حقوق بھی حاصل رہیں گے لیکن وہ اپنے ایک استحقاق سے محروم ہوجائے گا اور وہ یہ کہ اب وہ کسی صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی یا سینٹ کا رکن منتخب نہیں ہو سکتا۔
الفاظ اور معنی و مفہوم کی حدیں یہاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس قدغن کی روح کیا ہے؟ یاد رہے کہ یہ آرٹیکل کسی فوجی ڈکٹیٹر کا متعارف کردہ نہیں۔ یہ پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تیار کئے گئے 1973ء کے اس آئین کے اولین مسودے کا حصہ ہے جو عمومی اتفاق رائے کے ساتھ منظور اور نافذ ہوا۔ ہمارے اس آئین کی تیاری سے قبل بھارتی آئین نافذ ہو چکا تھا اور سٹیزن شپ ایکٹ آف انڈیا 1955ء بھی بروئے کار آ چکا تھا۔ یہ حکمت دونوں ممالک کے دستور سازوں کے ذہن میں موجود تھی کہ طویل عرصے تک برطانوی کالونی رہنے کے سبب ہمیں شعوری طور پر ایسے افراد کو حکمرانی کے دائرے سے دور رکھنا ہوگا جو برطانیہ یا کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھتے ہوں۔ بھارتی آئین و قانون کا تذکرہ ذرا بعد میں کرتے ہیں البتہ پاکستان کے دستور سازوں نے طے کیا کہ بعض مخصوص ممالک کی شہریت حاصل کر لینے والے کسی پاکستان کو شہریت سے تو محروم نہیں کرتے لیکن اس کا یہ حق سلب کر لیتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہو سکے۔ اس حق کے ساقط کرنے کی واضح اور غیرمبہم وجہ یہ تھی کہ دہری شہریت کا حامل شخص بھلے پاکستانی رہے لیکن وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں ہو سکے گا۔ نہ کسی ایوان میں بیٹھ سکے گا، نہ رائے دے سکے گا، نہ قانون سازی میں شریک ہوگا، نہ کابینہ کا حصہ بنے گا، نہ وزیر و مشیر ہوگا اور نہ وہ ایسے مخصوص ریاستی دائرے میں داخل ہوگا جہاں رازداری کا قانون نافذ ہے۔ اس سب کچھ کی وجہ یہ کہ دوسرے ممالک کی شہریت قبول کرنے والے ان ممالک سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں لہٰذا انہیں پاکستان کی فیصلہ سازی کے دائرے سے خارج رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی تقسیم شدہ وفاداریوں میں تصادم نہ ہو۔ اس صورت حال کو اب اس زاویے سے دیکھئے کہ ستمبر 2012ء میں وزیر داخلہ رحمن ملک کی دہری شہریت کا معاملہ اٹھا سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت وہ مستعفی ہوگئے۔ اسی شام انہیں وفاقی مشیر بنا لیا گیا جس کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر تھا۔ ان کے پاس بدستور وزارت داخلہ کا قلم دان رہا۔ وہ بدستور دونوں ایوانوں میں بیٹھتے اور تقریریں کرتے رہے۔ بدستور کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرتے اور فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ رہے۔ اب تازہ ترین واردات یہ ہے کہ دہری شہریت ہی کے سبب ایم کیو ایم کے دو ارکان اور وزراء سندھ صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہو گئے۔ اسی شام انہیں مشیر مقرر کر دیا گیا اور وزارتوں کے قلم دان بھی وہی رہے۔ حیدر عباس رضوی قومی اسمبلی سے مستعفی ہوئے اور انہیں حکومت سندھ میں وزیراعلیٰ کا معاون خصوصی مقرر کر دیا گیا۔ ان کا درجہ صوبائی وزیر کے برابر ہوگا۔
اس صورت حال کو آئین کی توہین و تضحیک کے علاوہ اگر کوئی اور نام دیا جا سکتا ہے تو بتایا جائے۔ جب آئین کی ایک شق واضح طور پر اپنے الفاظ، روح اور معنی و مفہوم کے اعتبار سے ایک شخص کو پارلیمنٹ کا رکن بننے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ شخص کس طرح مشیر یا معاون خصوصی یا کسی اور لقب کی قبائے فضیلت پہن کر ایوان میں فروکش ہو سکتا، کابینہ کا رکن بن سکتا، فیصلہ سازی اور رازداری کے مخصوص دائرے میں قدم رکھ سکتا ہے؟ ایسا مضحکہ خیز تماشا پاکستان جیسے کسی ملک میں ہی ہو سکتا ہے جہاں آئین کو جیب کی گھڑی اور قانون کو ہاتھ کی چھڑی خیال کیا جاتا ہے۔آئین کی واضح شق کا انحراف کرتے ہوئے پابندیوں کی فہرست میں آنے والے کسی شخص کو وزیر، مشیر اور معاون خصوصی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی متعلقہ شق کو ساقط کر دیا گیا ہے۔
بھارت کا آئین اور شہریت ایکٹ بڑا واضح ہے قانون انتہائی سادہ لیکن دوٹوک اور ایک آزاد و مختار ملک کی انا کے عین مطابق ہے۔ وہاں حتمی طور پر طے کر دیا گیا ہے کہ جس لمحے کوئی بھارتی شہری دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتا اور وہاں کا پاسپورٹ جیب میں ڈال لیتا ہے اس کی بھارتی شہریت عین اس لمحے ساقط ہو جاتی ہے وہ بطور بھارتی شہری اپنے تمام حقوق گنوا بیٹھتا ہے اس کا نام ووٹرز کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔ وہ بھارت میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا۔ اس پر وہ تمام قدغنیں لاگو ہو جاتی ہیں جو غیرملکیوں پر لگائی جاتی ہیں۔ وہ جب بھارت آتا ہے تو صرف اسی شہر یا محدود علاقے میں محدود عرصے کے لئے قیام کر سکتا ہے جس کی اسے ویزا کے اجراء کے وقت اجازت دی گئی۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے 1962ء میں اظہار احمد خان بنام یونین آف انڈیا کے مشہور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ”یہ حقیقت کہ کسی بھارتی شہری نے کسی بھی دوسرے ملک کا پاسپورٹ حاصل کر لیا ہے اس امر کا مکمل اور کافی ثبوت ہے کہ اس شخص نے اپنی آزادانہ مرضی سے کسی دوسرے ملک کی شہریت قبول کر لی ہے اور اب وہ بھارت کا شہری نہیں رہا۔ ”بھارت نے تمام ممالک کو اپنے اس قانون سے آگاہ کر رکھا ہے لہٰذا جب بھی کسی بھارتی شہری کو شہریت دی جاتی ہے تو اس کا بھارتی پاسپورٹ ضبط کر کے بھارتی سفارت خانے میں جمع کر لیا جاتا ہے۔
ہمارے آئین کے مطابق دہری شہریت کے باوجود کسی پاکستانی کی شہریت سلب نہیں ہوتی۔ صرف اس پر پارلیمان کا رکن نہ بن سکنے کی پابندی عائد ہوتی ہے لیکن اسے بھی سرکس کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو چاہئے کہ یا تو وہ بھٹو کے آئین کو بدل کر دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں پر عائد اس قدغن کو ختم کرا دے یا پھر اس آئین کی پاسداری کرے۔ آئینی قدغن کی زد میں آنے والے شخص کے سر سے وزیر کی پگڑی اتار کر مشیر کی ٹوپی رکھ دینا، آئین سے غداری ہے۔ کسی نہ کسی کو عدالت کا دروازہ ضرور کھٹکھٹانا چاہئے کہ اگر آئین ایک فرد کو اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی اجازت نہیں دیتا تو وہ شخص کس جواز پر ایوان میں بیٹھنے، وزارتوں کے قلمدان سنبھالنے، کابینہ کا حصہ ہونے، فیصلے کرنے اور رازداری کے دائرے میں داخل ہونے کا استحقاق حاصل کر لیتا ہے۔ ایک واضح آئینی شق، توانا میڈیا اور متحرک عدلیہ کے ہوتے ہوئے دستور کی یہ کھلی تضحیک برداشت نہیں کی جانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں