آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا تو رانا مشہود مصالحت کے مژدے سنا رہے تھے اور کیا گُن تھے جو وہ چھوٹے میاں صاحب کی مصلحت پسندی کے نہیں گا رہے تھے اور کیا بم ہے جو اَب مصلحت کوشی کے سر پر ضمنی انتخابات کے عین موقع پر مسلم لیگ نواز کے سر پہ آن گرا ہے۔ پنجاب اسپیڈ تو ہم نے خوب دیکھی تھی، احتساب کی پھرتیاں اب دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ہماری ایک ایک پائی کےحلال استعمال میں مشہور ہوئے خادمِ اعلیٰ خیر سے جب گزشتہ روز پینے کے صاف پانی کے لیے قائم کی گئی ایک کمپنی کے گھپلوں اور ناکامیوں کا حساب دینے احتساب بیورو کے دفتر پہنچے تو معلوم نہ تھا کہ آشیانۂ اقبال نامی ہاؤسنگ کمپنی کے ناکردہ گناہوں میں دھر لیے جائیں گے۔ سُنا ہے جن پتوں پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دے رہے ہیں۔ ولی عہد حمزہ شہباز اپنی مخصوص معصومیت کے ساتھ صفائیاں پیش کرتے تو نظر آئے، لیکن ذرہ بھر احتجاج پہ مائل ہوئے بنا۔ نواز لیگ کے دودھ پینے والے مجنوؤں کو آخر کچھ جوش آ ہی گیا اور وہ شہباز شریف کے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر خوب سینہ کوبی کرتے نظر آئے۔ اوپر سے ہمارے انصافیوں کی خوشیاں دیدنی تھیں کہ تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت کو احتساب کے نئے سلسلے نے اِک نئی جلا بخشی۔ وزرائے اطلاعات نے احتساب کے متوالوں کا خوں اور بھی گرما دیا کہ ابھی تو ابتدائے احتساب ہے، آگے آگے دیکھیے کون کون سے جغادری محتسب کا شکار بنتے ہیں۔ سُننے میں ہے کہ سعد رفیق و دیگر لیگی متوالے جلد ہی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ کیا تو میاں شہباز قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کے حصول کے لیے پوری اپوزیشن کی حمایت سے پر تول رہے تھے اور کیا اب خود احتساب بیورو کو بھگت رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمارے انصافیان ’’دودھ کی رکھوالی پہ بِلّے کو مامور کرنے سے رہے۔‘‘ بھلے قائدِ حزبِ اختلاف کو اس کمیٹی کی سربراہی دینے کی ایک اچھی پارلیمانی روایت کا کیسا ہی خون ہو جائے۔

میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہمارے متوازن دوست فواد چوہدری کیوں اتنے آگ بگولہ ہوئے جا رہے تھے۔ اس لیے بھی کہ اب تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پارلیمنٹ کو سلیقے سے چلانا اس کی اپنی ضرورت ہے۔ لیکن فواد چوہدری غالباً وزیراعظم عمران خان کی خاص ہدایت پر حزبِ اختلاف کے رہنماؤں پہ پلٹ پلٹ کر اس زور سے جھپٹ رہے تھے کہ اپوزیشن اسمبلیوں سے بھاگتی نظر آئے۔ ساتھ ہی وزیرِ اطلاعات بار بار قوم کو باور کرواتے نظر آئے کہ عدلیہ اور فوج عمران خان کی حکومت کی پشت پر ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی اپنی مہم کو پنجاب حکومت کے اُچکنے پہ چیف جسٹس نے خوب کہا تھا کہ جو کارِخیر سپریم کورٹ شروع کرتی ہے، اُسے پی ٹی آئی کی حکومت لے بھاگتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکپتن میں پولیس افسر کے تبادلے میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ملوث پائے جانے پر آئین کے آرٹیکل (1)62 الف کی تلوار پھر سے چمکتی نظر آ رہی ہے۔ اور ایسے وقت میں جب پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کے بدلنے میں فقط نصف درجن نشستوں کا فاصلہ ہے (جو کہ سینیٹ کے حالیہ انتخاب پر پنجاب اسمبلی میں ڈالے گئے درجن بھر ووٹوں کی اکثریت سے ہوا)۔ اس لیے ضمنی انتخابات نے بہت اہمیت اختیار کر لی ہے کہ یہ 19 صوبائی اور 11 قومی اسمبلی کی نشستوں پہ 14 اکتوبر یعنی اگلے ہفتے منعقد ہونے جا رہے ہیں اور اپوزیشن کی کامیابی کی صورت میں یہ حکومتی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ شہباز شریف کی ان ضمنی انتخابات سے ذرا پہلے گرفتاری نے سیاسی پنڈتوں کو عام انتخابات سے قبل میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو دی گئی سزاؤں کی یاد دلا دی ہے۔ میاں نواز شریف کو جیل بھیجنے سے یقیناًپنجاب میں عمران خان کے لیے میدان خالی ہو گیا تھا اور خالی وکٹوں پہ اُن کے باؤنسرز نے اپنا کام کر دکھایا تھا۔ اُس وقت بھی نواز لیگ والے اپنے قائد کی گرفتاری سے سیاسی فائدہ نہ اُٹھا سکے تھے، اور اب کی بار ضمنی انتخابات سے پہلے شہباز شریف کی گرفتاری سے نواز لیگ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

حزبِ اختلاف کو خطرے کی بُو مل چکی تھی اور یہ پہلے سے زیادہ متحد ہوتی نظر آئی۔ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی میں انتخابی اتحاد بھی وجود میں آ گیا جو ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ حُسنِ اتفاق کہیے کہ احتساب کی تلوار کے نواز لیگ پہ چلنے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہو سکتا تھا۔ آصف علی زرداری جو دہائیوں سے مبینہ کرپشن کے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے سبھی کیسوں میں بری ہوتے گئے تھے، اُنہیں پرانے کیسوں کے دوبارہ سُنے جانے اور نئے نئے مقدمات کا سامنا ہے۔ یہ وہی مقدمات ہیں جو نواز شریف کی سابقہ حکومتوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف بنائے گئے تھے، لیکن سرتوڑ کوششوں کے باوجود ان میں سے کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا تھا۔ اب جب کہ تبدیلی کی حکومت اپنے سو روزہ ہنی مون کا آدھا وقت گزار چکی ہے اور احتساب کے لیے بے چین متوالوں کو سوائے وزیراعظم ہاؤس کی بھینسوں اور گاڑیوں کی نیلامی کے کوئی کام کی خبر نہیں ملی تو احتساب کی گھن گرج اب نہیں تو پھر کب کام آتی۔ حکومتی کارکردگی ہم ڈیڑھ ماہ میں خاص طور پہ خارجہ اور معاشی میدانوں میں خوب دیکھ چکے۔ سی پیک سے سعودی سرمایہ کاری تک کون سی دُھول ہے کہ جو نہیں اُڑی۔ ضمنی بجٹ کا نظارہ بھی عوام خوب چکھ رہے ہیں اور آئی ایم ایف سے نئے معاہدے سے پہلے ہی ہم اُس کی ممکنہ شرائط پہ کمر باندھتے نظر آ رہے ہیں۔ خارجہ امور کا تو ذکر ہی کیا، دیکھتے ہیں برادر ملک کی فراخدلی پہ ہم کون سی خدمات انجام دیتے نظر آئیں گے اور اب افغانستان میں وہ کیا ہے جو ہم کریں گے کہ امریکی سرکار ہمیں درگزر کرتی نظر آئے یا کم از کم مشرقی محاذ کو ٹھنڈا کرنے میں ہماری بھارت سے داد رسی کا باعث بنے۔

سیاسی محاذ آرائی کے بڑھنے کے دو فائدے تو فوری ہوئے ہیں۔ گیس و بجلی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے سے عوام کی توجہ احتساب اور سیاسی گالم گلوچ کی جانب لگ گئی ہے اور شہباز شریف کی معافی تلافی کی لائن بھی بُری طرح پِٹ گئی ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف بننا بھی اُن کے کام نہ آیا اور پنجاب میں اُن کے برخوردار کے قائدحزبِ اختلاف ہوتے ہوئے حکومت کو کسی ہنگامے کی کچھ زیادہ فکر نہیں ہونی چاہیے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ مسلم لیگ کو اب قیادت کے لیے شریف خاندان کے باہر کوئی جغادری مسلم لیگی نہیں مل رہا۔ جانے خاندانِ شریفاں کب تک جمہوری قدروں کا امتحان لیتا رہے گا۔ لوگ اب کسی زوردار آواز کے منتظر ہیں، لیکن بدقسمتی سے سبھی چابی کے کھلونے ہوتے دکھائی پڑتے ہیں۔ اور وہ ہماری بہت ہی توانا مریم نواز جانے کب والدہ کی افسردگی سے باہر نکل کر نعرہ زن ہوں گی۔ جمہوری نظام کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز۔ ان کاٹھ کے گھوڑوں سے کوئی کیا توقع رکھے۔ کیوں نہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اپنے ان تمام لیڈروں سے جو مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں، کہیں کہ پہلے وہ اپنے نام صاف کروائیں اور پھر میدانِ کارزار میں اُتریں۔ ابھی آگے دیکھیے کہ کس طرح اور کس دھوم سے بی بی جمہوریت کا جنازہ نکلتا ہے اور حقِ اظہار حلق میں پھنس کر رہ جائے گا۔ بھلے پی ایف یو جے 9 اکتوبر کو حقِ اظہار کے لیے کیسا ہی احتجاج کرے۔ جدوجہد یا مصلحت میں ابھی مصلحت حاوی ہے۔ دیکھتے ہیں کب جدوجہد جدوجہد کا ورد ہوگا۔ بس یہی کچھ ہر دُہائی میں ہم ناکامیوں کے باوجود کرتے آئے ہیں تاآنکہ سانس بند ہو جائے۔ آزادئ جمہور کی صبح کا تو شاید ابھی دُور اُفق پہ کوئی نشاں بھی نہیں۔ آخر کب تک ہم ناکارہ جمہوری جماعتوں کے گناہوں کا حساب چکاتے رہیں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں