آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستانی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی و دینی ایشوز اور محب وطن دینی قائدین کے حوالے سے ذمہ دارانہ صحافتی طرز عمل کا مظاہرہ کرے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ملی یکجہتی کونسل کا غیرانتخابی پلیٹ فارم تو میڈیا کے چند کالم نگاروں اور اینکرز پرسنز کو ایک آنکھ نہیں بھاتا لیکن ملالہ،رمشا مسیح اور سوات میں خاتون کو کوڑے مارنے کی جعلی فلم پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیاآسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ میڈیا کا یہ طرزعمل بڑا افسوسناک ہے۔ محترم قاضی حسین احمد پر خودکش حملہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔ ملک کے دینی و سیاسی حلقوں نے اس واقعے کی پُرزور مذمت کی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ”ملالہ“ کے واقعے پر شور مچانے والے میڈیا نے اتنے اہم واقعے کو مناسب اور معقول کوریج نہیں دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا کس ایجنڈے پرکام کر رہا ہے؟جناب سلیم صافی اور دیگر قلم کاروں کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔ قاضی صاحب پر خودکش حملہ امریکی بلیک واٹر تنظیم اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کی کارروائی ہے۔ موصوف کالم نگار کو قاضی صاحب پر خودکش حملے پر امریکہ یا بھارت پر الزام کا دفاع نہیں کرنا چاہئے۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں، بلوچستان اور فاٹا میں بیرونی

عناصرکاہاتھ ہے۔
اپنے گزشتہ کالم میں برادرم سلیم صافی نے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے بارے میں اس انداز سے ذکر کیا کہ علماء مشائخ کانفرنس سے قاضی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے ملکی حالات کی بجائے بنگلہ دیش کے حالات کے بارے میں رونا رویا۔ اب حالیہ کالم میں میرے متعلق بھی ذاتیات پر اتر آئے اس سے ان کے ”اخلاقی معیار“کا اندازہ ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی ”ڈراموں اور خوابوں“ کی دنیا میں نہیں رہتی بلکہ حقیقت کی دنیا میں رہ کر ملکی اور اہم ایشوز پر اپنی پالیسی اور سوچ رکھتی ہے۔ کسی بھی قلم کار کے زبان و بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر سنجیدہ اور مہذب ہے۔ علمی سطح پر جواب دینے کی بجائے ذاتیات پر اتر آنا انتہائی ناپسندیدہ اور غیر مہذب امر ہے۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو امریکہ کی عدالت نے انصاف اور قانون کا خون کرکے86سال قید کی سزا دے دی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مظلوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر اسے پابند سلاسل کردیا گیا۔ پاکستانی حکومت میں اتنی اخلاقی جرأت بھی نہیں تھی کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کے بدلے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا کروا پاتی حالانکہ وہ بڑااہم موقع تھا کہ جب امریکی حکومت پر دباؤ ڈالاجا سکتا تھا۔
ملالہ کی طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی ہیں۔ حکومت پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو امریکی قید سے رہا کروا کر پاکستان واپس لایا جائے۔ پاکستانی میڈیا بھی ملالہ یوسف زئی کی طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لئے اپنی آواز اٹھائے۔ امریکی ڈرون حملوں میں سیکڑوں ملالہ قبائلی علاقوں میں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ معصوم بچوں کے چیتھڑے اڑ گئے، بے گناہ اور معصوم بچے، عورتیں اور نوجوان ڈرون حملوں میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔ پاکستانی میڈیا کے اینکرز پرسنز کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ ڈرون حملوں میں مرنے والی کئی ”ملالاؤں“ کے اندوہناک واقعات کو اپنے ٹاک شوز کا حصہ بنائیں تاکہ پاکستانی قوم یہ جان سکے کہ الیکٹرانک میڈیا یکطرفہ کردار ادا نہیں کر رہا۔ریمنڈڈیوس، ایبٹ آباد آپریشن، سلالہ اور ملالہ کے واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑیا ں ہیں۔ امریکہ کے”گریٹ گیم“کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے ذریعے پاکستان میں خون خرابے کا بازار گرم کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے امریکی خواہش پر شمالی وزیرستان میں آپریشن نہ کرکے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔کراچی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، پورے ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات، ریمنڈڈیوس نیٹ ورک اور امریکی بلیک واٹر تنظیم کی پاکستان میں خفیہ کارروائیاں،اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی پُراسرار سرگرمیاں پاکستانی قوم اور موجودہ حکمرانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ اب بھی ہمارے اہل علم و فکر اور ارباب بست و کشاد نے موجودہ تشویشناک منظرنامے پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو ملک و قوم کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
ملی یکجہتی کونسل ملک میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے لائق تحسین کاوش اور تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس میں 25دینی جماعتیں اور تمام مسالک کے قائدین موجود ہیں۔ اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے اسٹیج پر سید منور حسن، مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، علامہ ساجد نقوی، حافظ حسین احمد سمیت 25دینی جماعتوں کے قائدین موجود تھے۔ پورے ملک کو قاضی حسین احمد کی قابل قدر کوششوں سے دینی جماعتوں اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی، اخوت اور محبت کا پیغام پہنچا۔ سلیم صافی کو کھلے دل کے ساتھ اپنے کالم میں اس عظیم کاوش کی تحسین کرنی چاہئے تھی لیکن افسوس صد افسوس انہوں نے اپنا وہ کردار ادا نہ کیا جس کی ان سے توقع کی جاسکتی ہے۔ الحمد للہ جماعت اسلامی ایک اصولی اور نظریاتی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ ملک میں دینی قوتوں کو جوڑنے اور اتحاد امت کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں متحدہ مجلس عمل کے ذریعے دینی جماعتوں کا اتحاد جماعت اسلامی کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ ملی یکجہتی کونسل کا قیام بھی مملکت خداداد پاکستان میں فرقہ واریت کے خاتمے میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔ اپنے گزشتہ ٹاک شو میں سلیم صافی نے خصوصی طور پر ذکر کرنا ضروری سمجھا کہ انہوں نے قاضی حسین احمد کو اپنے پروگرام میں آنے کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے وقت نہیں دیا۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں