آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ بھی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تھی کہ پاکستان اور جاپان کے سفارتی تعلقات کے ساٹھ برس مکمل ہونے پر حکومت پاکستان، جاپان کی کسی بھی اعلیٰ حکومتی شخصیت کو پاکستان کے دورے کے لئے رضامند تو نہیں کر سکی تھی تاہم آج جاپان کے وزیر خارجہ کوئچیروگیمبا پاکستان کے یوم آزادی کی سفارتی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہورہے تھے، سفیر پاکستان سمیت دو درجن سے زائد ممالک کے سفرائے کرام اور جاپان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی پانچ سو سے زائد شخصیات جاپانی وزیر خارجہ کے انتظار میں مصروف تھیں جو کسی بھی وقت تقریب میں پہنچنے والے تھے کہ اچانک ایک ایسی شخصیت پاکستان اور جاپان کے پرچم لئے ہال میں داخل ہوئی جسے دیکھ کر جاپانی وزیر خارجہ کا انتظار کرنے والے تمام لوگ اس شخصیت کی جانب مبذول ہوگئے ، لوگوں کے ایک جم غفیر نے آٹوگرام اور تصاویر کے لئے اس جاپانی شخصیت کو گھیر لیا تھا، طویل قامت ، چہرے پر موجود جاذب نظر مسکراہٹ ، بہترین پوشاک میں ملبوس یہ شخصیت دراصل جاپانی قوم کی پسندیدہ ترین شخصیت انوکی تھے جنہیں دین اسلام کی قبولیت کے بعد محمد حسین انوکی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ محمد حسین انوکی جاپان کی تاریخ کے کامیاب ترین ریسلر رہ چکے ہیں تاہم اپنی عوام دوستی اور ملنسارطبیعت کے باعث نہ صرف جاپانی عوام بلکہ غیر

ملکیوں میں بھی کافی شہرت رکھتے ہیں، اسٹیج کے نزدیک موجود میں بھی ابھی تک جاپانی ریسلر محمد حسین انوکی کے ساتھ لوگوں کی محبت اور لگاؤ کا عمل دیکھنے میں مشغول تھا کہ اچانک میر ی نظرساتھ ہی کھڑے سول کپڑوں میں ملبو س دو سیکورٹی گارڈزکے درمیان کھڑی شخصیت پر پڑی ، بلاشبہ یہ جاپان کے وزیر خارجہ کوئچیرو گیمبا ہی تھے جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والے انوکی محمد حسین کی آمد کے کچھ دیر بعد ہی ہال میں داخل ہوئے تھے اور خاموشی سے اسٹیج تک پہنچ چکے تھے تاہم انوکی محمد حسین نے تمام حاضرین کی توجہ حاصل کر رکھی تھی جس کے باعث لوگوں کی توجہ جاپانی وزیر خارجہ کی آمد پر مبذول نہ ہوسکی، جاپانی وزیر خارجہ بھی اس بات کو محسوس کرچکے تھے اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ سارا منظر دیکھ رہے تھے یہی وجہ تھی کہ کوئی پاکستانی سفارتی میزبان بھی اس وقت جاپانی وزیر خارجہ کے ساتھ موجود نہیں تھا تاہم کچھ ہی دیر میں انوکی محمد حسین اپنی دیگر مصروفیات کے باعث تقریب سے روانہ ہوچکے تھے اور جاپانی وزیر خارجہ ایک بار پھر تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت حاصل کرچکے تھے، اس طرح کے کئی اہم واقعات جاپان کی معروف ترین شخصیات میں سے ایک انوکی محمد حسین کے حوالے سے میری یادداشت کا حصہ ہیں جہاں انہیں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات سے زائد شہرت اور اہمیت حاصل ہوجاتی ہے اور اہم سیاستدانوں اور حکومتی حکام کو بعض اوقات سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انوکی محمد حسین صرف جاپان میں ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی بہت مقبولیت رکھتے ہیں جس کی اہم وجہ اپنے کیرئیر کے عروج کے دور یعنی ستّر کی دہائی میں ان کا دورہ پاکستان اور وہاں کے معروف پاکستانی پہلوانوں بھولو اور جھارا پہلوان کے ساتھ ان کے ریسلنگ مقابلوں نے بین الاقوامی سطع پر انتہائی شہرت پائی اور انوکی کو پاکستانی عوام میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا تھا اور آج تک پاکستانی عوام میں انوکی محمد حسین کی مقبولیت اسی طرح موجود ہے، اپنے دورہ پاکستان کے دنوں میں ہی انوکی محمد حسین پاکستانی عوام کی محبت اور ملنساری سے روشناس ہوئے جس کے بعد سے انوکی محمد حسین آج تک پاکستانی قوم سے اپنی محبت کم نہیں کر سکے ہیں، انوکی محمد حسین پاکستانی قوم کے ان دوستوں میں سے ہیں جنہوں نے ہر موقع پر پاکستانی حکومت اور عوام کی پکار پر لبیک کہا ہے، جاپان میں پاکستان کے حوالے سے ہونے والی اہم تقاریب کے علاوہ پاکستان کی اعلیٰ ترین شخصیات کے دورہ جاپان کے موقع پر جب بھی انوکی محمد حسین کو سفارتخانہ کی جانب سے دعوت دی گئی ہے انہوں نے اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے ان تقاریب میں شرکت کی ہے اور اپنی پاکستان کے ساتھ محبت اور دوستی کا ثبوت دیا ہے، انوکی محمد حسین آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں وہ نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں میں ریسلنگ کے مقابلوں میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے بلکہ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں خصوصی ایوارڈ دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، اپنے دورہ پاکستان کے حوالے سے ٹوکیو میں پاکستانی سفارتخانے میں ایک پریس بریفنگ میں انوکی محمد حسین نے واضح طور پر کہا تھا کہ بعض اداروں اور دوستوں کی جانب سے بتایا گیا تھاکہ پاکستان کے حالات ان کے دورہ پاکستان کے لئے موزوں نہیں ہیں جبکہ پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے خبریں بھی آئے دن جاپانی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں تاہم انہوں نے تمام خدشات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کے دورے کا فیصلہ کیا ہے، انوکی محمد حسین کے بقول ان کے دورہ پاکستان کا مقصد دنیا میں امن کی کوششوں کو اجاگر کرنا ہے جبکہ وہ اپنے دورہ پاکستان سے دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک پُرامن اور محفوظ ملک ہے اور یہاں کے عوام ملنسار اور محبت کرنیوالے ہیں جن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ پاکستانی عوام تو خود دہشت گردی کا شکار ہیں جنہیں عالمی سطع پر ہمدردی کی ضرورت ہے انوکی محمد حسین نے کہا کہ ان کا دورہ، پاکستان کے دنیا میں منفی امیج کو ختم کریگا۔ انوکی محمد حسین کے مطابق انہوں نے اسّی کی دہائی میں عراق میں اسلام قبول کیا تھا تاہم دین اسلام سے رغبت ان کو دورہ پاکستان میں ہی شروع ہوئی تھی، انوکی محمد حسین کے مطابق ان کی پاکستان کے بھولو پہلوان اور جھارا پہلوان کے ساتھ بہترین یادیں وابستہ ہیں۔
انوکی محمدحسین دوسری جنگ عظیم سے قبل20 فروری 1943ء کو یوکوہاما میں پیدا ہوئے، ان کا پیدائشی نام کینجی انوکی رکھا گیا تھا،جو بعد میں ریسلنگ کے شعبے میں اینتینو انوکی کے نام سے معروف ہوئے اور دین اسلام کی قبولیت کے بعد انوکی محمد حسین کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، انوکی محمد حسین سات بھائی اور چار بہنوں پر مشتمل خاندان کے فرد ہیں جہاں ان کا نمبر چھٹا ہے، انوکی محمد حسین کے والد سجیرو انوکی جاپان کے معروف شہر یوکوہاما کی معروف کاروباری شخصیت اور سیاستدان تھے تاہم جب انوکی محمد حسین صرف پانچ برس کے تھے تو والد صاحب وفات پا گئے، انوکی محمد حسین کے تمام چاہنے والے شاید اس بات سے کم ہی واقف ہوں گے کہ ابتدائی تعلیم کے دور میں انوکی محمد حسین کراٹے کھیلا کرتے تھے تاہم ساتویں جماعت تک پہنچنے تک انوکی محمد حسین کا قد چھ فٹ ہوچکا تھا جس کے بعد اساتذہ کے مشورے سے اسکول کی باسکٹ بال ٹیم میں شمولیت اختیار کر لی جسے کچھ عرصے بعد خیر آباد کہہ کر شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرو میں قسمت آزمائی کی، انوکی محمد حسین کا جاپان میں یہ سفر زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد خاندان کو درپیش معاشی مسائل کے باعث چودہ برس کی عمر میں انوکی محمد حسین کو اپنے دادا اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ برازیل ہجرت کرنا پڑی جہاں ان کے دادا سفر کی مشکلات کے باعث بیماری میں مبتلا ہوکر وفات پاگئے تاہم مشکلات کے باوجود انوکی محمد حسین نے ہمت نہیں ہاری اور برازیل میں رہ کر کچھ ہی عرصے میں آل برازیل شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرو چیمپئن شپ جیتی، انوکی محمد حسین سترہ برس کی عمر میں جاپان واپس آئے اور پروفیشنل ریسلنگ کا آغاز کیا جس کے بعد جاپان کی ریسلنگ کی نئی تاریخ رقم کی، انوکی محمد حسین کی زندگی میں 30 نومبر 1979ء کا دن ہمیشہ یادگار رہے گا جب انوکی محمد حسین نے عالمی ریسلنگ چیمپئن باب بیک لن کو توکوشیما میں تاریخی شکست سے دوچار کرکے جاپانی قوم کے سرفخر سے بلند کردیئے تھے تاہم چند وجوہات کی بنا پر یہ میچ دوبارہ ہوا جس میں انوکی محمد حسین کو شکست ہوئی تاہم اس وقت کے ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن کے صدر نے اس ری میچ کو کینسل کرکے انوکی محمد حسین کو ہی ورلڈ چیمپئن قرار دے دیا تاہم انوکی محمد حسین نے اصولی بنیاد پر یہ ٹائٹل لینے سے انکار کردیا جس سے ان کی دنیا بھر میں عزت افزائی ہوئی، انوکی محمد حسین کی ریسلنگ کا یہ سلسلہ 80ء کی دہائی تک جاری رہا ، انوکی محمد حسین نے جاپان کی معروف ٹی وی آرٹسٹ سے شادی کی جن سے ان کی ایک بیٹی ہے، انوکی محمد حسین اب ریسلنگ سے ریٹائر ہو چکے ہیں تاہم جاپان میں انہیں ایک لیجنڈ کے طور پر جانا جاتا ہے، الیکشن کے دنوں میں تمام سیاسی جماعتو ں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انوکی محمد حسین کی خدمات کو حاصل کر کے عوام سے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے جائیں اور اس وقت جاپان میں بھی الیکشن کا سیزن ہے۔
اگلے چند ہفتوں میں جاپان میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور بلاشبہ جاپان کی تمام اہم سیاسی جماعتوں کی خواہشوں کے برعکس انوکی محمد حسین اس وقت پاکستان میں ریسلنگ کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کے فروغ کے لئے پاکستان زندہ باد کے سلوگن کے ساتھ موجود ہیں ، دنیا بھر میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ملک کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے افراد کو ہیرو کا درجہ دے کر عوام میں متعارف کرایا جاتا ہے تاکہ عوام کے ملک اور ریاست پر اعتماد میں اضافہ ہوسکے اور لوگ اپنے قومی ہیروز پر فخر کرسکیں۔ انوکی محمد حسین بھی ان جاپانی ہیروز میں سے ایک ہیں جن پر جاپانی قوم فخر کرتی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں