آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ الفاظ عزت مآب چیف جسٹس، جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ہیں۔
”دہشت گردی کی انتہا ہوچکی۔ شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کا باشندہ خیبرپختونخوا میں موجود نہیں۔ کوئٹہ میں ایسے غیر ملکی کاروباری لوگ مستقل بیٹھے ہوئے ہیں جو کوئی کاروبار یا سرمایہ کاری نہیں کررہے۔ آخر ملکی خود مختاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ تجارتی معاہدوں کے باوجود بھارت اب بھی ویزا ختم ہونے پر لوگوں کو قید میں ڈال دیتا ہے لیکن پاکستان میں ایسے افراد کے ویزوں کو کوئی چیک نہیں کرتا۔ کسی بھی غیر ملکی کے خلاف کارروائی کے لئے ملکی قوانین کا اطلاق ہونا چاہئے۔ ہر ملک باہر سے آئے ہوئے لوگوں پر اپنے قوانین سختی سے لاگو کرتا ہے۔ بھارت نے راحت فتح علی خان اور عدنان سمیع کو اپنے قوانین کے تابع بنایا۔ ملک چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک کی اپنی خودمختاری اور حاکمیت اعلیٰ ہوتی ہے“۔
ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دیئے گئے جناب چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ایک ایسی ریاست کی نشاندہی کرتے ہیں جو صحرائی بگولوں کی زد میں ہے، جہاں آئین و قوانین منہ زور، زور آوروں کی خواہشات کے تابع ہو کر رہ گئے ہیں، جہاں آزادی، خود مختاری اور حاکمیت اعلیٰ جیسے الفاظ، کاغذ کے پھولوں کی طرح دستور کے گل دان میں سجے رہ گئے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان، عالمی اوباشوں اور آوارہ خُو عناصر کی

پناہ گاہ بن گیا ہے۔ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے پر نگاہ نہیں ڈالی گئی کہ یہاں کن کن ممالک کے کون کون سے لوگ کیسے کیسے عزائم کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ نام نہاد جنگ دہشت گردی کے بعد تو ملک ایک چراگاہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ایک خود پرست ڈکٹیٹر نے محض اپنے اقتدار کے لئے پاکستان کی آزادی و خودمختاری ہی نہیں، غیرت و حمیت بھی امریکہ کے قدموں میں ڈال دی۔ بارہ سال ہونے کو آئے، کوئی بتانے پہ آمادہ نہیں کہ کس کس نام سے، کس کس بھیس میں کتنے امریکی، کہاں کہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمارے حساس قومی راز کس طرح بازیچہ اطفال بن کر رہ گئے ہیں۔ کسی ملک کی خفیہ ایجنسی کو اپنا ایک اہلکار دوسرے ملک داخل کرنے کے لئے سو سو حیلوں بہانوں کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن امریکی سی آئی اے کے ہزاروں کارندے یہاں دندناتے پھرتے ہیں۔ ریمنڈڈیوس نے سرعام دو قتل کئے۔ ایک تیسرا پاکستانی امریکی گاڑی نے کچل ڈالا۔ اس کے بعد کی ساری کہانی بے حسی اور بے حمیتی کا ایک باب ہے جسے کسی ادنیٰ درجے کی آزاد ریاست کے لئے بھی باعث تذلیل ہی سمجھا جائے گا۔ امریکی ڈرونز آئے روز ہماری فضاؤں میں نمودار ہوتے، ہماری بستیوں کو نشانہ بناتے، ہمارے شہریوں کے پرخچے اڑاتے اور اطمینان سے اپنے اڈوں کو لوٹ جاتے ہیں، نہ ہماری آزادی انگڑائی لیتی ہے ، نہ ہماری خود مختاری کے ماتھے پہ کوئی شکن آتی ہے نہ ہماری حاکمیت اعلیٰ کے دل میں درد کی کوئی لہر اٹھتی ہے۔ حکمران جب حرص اقتدار میں ذاتی مفاد کو ہی بالا ترین ترجیح بنالیں تو ریاستیں اسی طرح بے وقعت ہو جایا کرتی ہیں۔
گزشتہ روز میں نے دبئی کی ایک سڑک سے گزرتے ہوئے، ایک دفتر کے سامنے لمبی قطار دیکھی، زیادہ تر افراد پاکستانی اور بھارتی پہچان رکھتے تھے۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں رہائش کے حوالے سے کسی نہ کسی بے قاعدگی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے بعض شرائط کے ساتھ ایسے افراد کے لئے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ریاستوں میں دس مراکز قائم کردیئے گئے ہیں۔ ایسے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ لے کر آئیں۔ غیرقانونی قیام پر سزا ہوگی نہ جرمانہ۔ انہیں ملک سے نکل جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ اگر کسی کا پاسپورٹ کھو گیا ہے تو وہ اپنے سفارت خانے سے اجازت نامہ لے آئے۔ اگر کسی کے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں تو وہ اہتمام بھی ہوجائے گا۔ متحدہ عرب امارات کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں مقامی آبادی بہت کم ہے۔ 2010ء کی مردم شماری کے مطابق سات ریاستی اتحاد (متحدہ عرب امارات) کی کل آبادی 82لاکھ ہے جس میں سے مقامی آبادی صرف13فیصد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2020ء تک یہ تناسب صرف دس فیصد رہ جائے گا لیکن باہر کے ممالک سے آئی اتنی بڑی تعداد پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ یہاں آیا۔ واپسی پر امیگریشن حکام نے کہا کہ ہم نے تین دن زائد قیام کیا ہے لہٰذا فی یوم کے حساب سے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر پانچ چھ برس بعد آبادی کی تطہیر کا یہ عمل ہوتا ہے۔ پانچ سال پہلے 2007ء میں ساڑھے تین لاکھ افراد کو اس چھلنی سے گزرنا پڑا۔ اب کے بھی کہا جارہا ہے کہ تین لاکھ سے زائد افراد کو واپس جانا پڑے گا۔
جناب چیف جسٹس نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے راحت فتح علی خان اور عدنان سمیع کا حوالہ دیا۔ اکتوبر میں ہمارے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اجمیر شریف گئے تو سفر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے نام پر بھارتی ایجنسیز ایک گھنٹے تک ان سے سوال جواب کرتی رہیں یہاں تک کہ پاکستانی سفارت خانے کو مداخلت کرنا پڑی۔ ایسی ہی صورت حال جنرل (ر) پرویز مشرف کو پیش آئی جنہیں بھارت پہنچنے پر کہا گیا کہ ویزا کی رو سے انہیں مقامی پولیس اسٹیشن کو اپنی آمد کی اطلاع دینا ہوگی اور جاتے وقت بھی تھانے میں اندراج کرانا ہوگا، یہاں بھی پاکستانی سفارت خانے کو متحرک ہونا پڑا۔ میں دو روز پہلے اپنے کالم میں بتا چکا ہوں کہ شہریت کے حوالے سے بھی بھارت نے اپنی حاکمیت اعلیٰ کی دھار کتنی تیز رکھی ہوئی ہے۔
اس بات کو اب ڈھائی برس ہوگئے۔ برادر عزیز سلیم صافی نے مصدقہ ذرائع اور مستند دستاویزات کے ساتھ ایک چونکا دینے والی خبر دی تھی کہ دبئی کے پاکستانی قونصلیٹ سے 86/ امریکیوں اور 150 بھارتی باشندوں کو پاکستانی ویزا جاری کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق ان ویزوں کے اجرا میں دبئی کے زرداری ہاؤس نے مرکزی کردار ادا کیا۔ بیشتر ویزے ایک دن میں پروسیس ہوگئے۔ بعض ویزے چھٹی والے دن جاری کئے گئے۔ خواتین سمیت کئی ویزوں میں پاکستان آمد کا مقصد، صدر زرداری سے ملاقات بیان کیا گیا۔ رہائشی پتہ ایوان صدر بتایا گیا۔ یہ سارے ویزے قواعد و ضوابط اور ایجنسیوں کی چھان پھٹک کے بغیر جاری کردیئے گئے۔ آج تک اگست 2010ء میں روزنامہ ”دی نیوز“ میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید آئی نہ وضاحت۔ حسین حقانی لڑتے جھگڑتے ہی رہے کہ امریکیوں کے لئے ویزوں کی تعداد بڑھائی جائے اور انہیں ہر قسم کے خرخشوں سے آزاد کردیا جائے۔
کوئی نہیں جانتا کہ اس نوع کے کتنے ہزار ویزے مشرف اور پھر موجودہ دور میں جاری ہوئے؟ ان ویزوں پر آنے والوں میں سے کتنے واپس گئے اور کتنے پاکستان میں بیٹھے کیا کررہے ہیں۔ سرحدوں سے جڑے ممالک سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کو تو کبھی ویزا کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ مستقلاً یہاں آبسے ہیں اور پکے ٹھکانے بنا لئے ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک کا پاسپورٹ حاصل کرلینے کے بعد بھارت کا کوئی باشندہ بھارتی شہری نہیں رہتا۔ ہر رام لال کو باہر سے ویزا لے کر آنا پڑتا ہے، چاہے اس نے بھارت میں جنم لیا، برسوں وہاں رہا، وہیں سے تعلیم حاصل کی، وہیں کاروبار کیا، اب بھی اس کے والدین اور اہل و عیال وہیں بستے ہیں لیکن وہ بھارت کے لئے غیرملکی باشندہ ہے۔ ادھر ہمارا حال دیکھئے۔ نہ صرف غیر ملکی شہریت حاصل کرلینے والوں کی پاکستانی شہریت بھی برقرار رہتی ہے بلکہ انہیں آئین کے آرٹیکل 63 کی گرفت سے نکالنے اور پارلیمنٹ کی زینت بنانے کے لئے ایک نئی آئینی ترمیم لائی جارہی ہے۔ ادھر نامعلوم کیسے اور کس کے حکم پر ایسے سمندر پار ”پاکستانیوں“ کو بھی پاکستان کے بینکوں میں اکاؤنٹ کھلونے اور جائیدادوں کی خرید و فروخت کرنے کی اجازت عطا فرما دی گئی ہے جنہوں نے اپنی رضاکارانہ اور خوش دلانہ مرضی سے پاکستان کی شہریت ترک کردی ہے اور کسی اور ملک سے عہد وفا کو جزوِ ایمان بنا لیا ہے۔
کہاں کی آزادی، کیسی خودمختاری اور کونسی حاکمیت اعلیٰ؟ غریب کی خوبرو جورو کی طرح پاکستان زمانے بھر کی بھابھی بنا دیا گیا ہے اور اس کی حرمت و آبرو کے محافظ پانچ سال کی آرزو پہ نظریں جمائے، تسبیح روز و شب کا دانہ دانہ شمار کر رہے ہیں۔ جانے تھم سی جانے والی خزاں کی یہ ”لمبی رُت کب بدلے گی“۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں