آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے ابتدائی سو دنوں میں جو کچھ کردکھانے کے وعدے کیے تھے ، ابتدائی پچاس دنوں میں رونما ہونے والی صورت حال اس سے یکسر مختلف ہے۔ملک بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اوربے یقینی کی فضا اقتصادی سرگرمی کی رفتار کو مسلسل دھیما کرتی چلی جارہی ہے۔منگل کو محض ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں ساڑھے نو روپے کے اضافے سے بیرونی قرضے نو سو دو ارب روپے تک بڑھ گئے اورسونا باسٹھ ہزار روپے فی تولہ تک جاپہنچا۔ملک کی اقتصادی تاریخ میں اس معاشی افراتفری کی کوئی دوسری مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔یہ عذر کہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے تحریک انصاف کی قیادت کو یہ پتا ہی نہیں تھا کہ2016ء کی مثالی معاشی صورت حال جب زرمبادلہ کے ذخائر چوبیس ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے اور اسٹاک ایکسچینج پچپن ہزار کی تاریخ ساز بلندی کو چھو رہا تھا، دو سال کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے سبب کس تیزی سے زبوں حالی کی جانب جارہی ہے؟ اس صورت حال کا علم حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد ہوا اور یہی موجودہ ابتری کا اصل سبب ہے۔اگر یہ عذر سنجیدگی سے پیش کیا جارہا ہے تو یہ فہم و فراست کا یقیناًکوئی قابل رشک مظاہرہ نہیں۔ کاروبار مملکت چلانے کے لیے ایک نہایت باصلاحیت ٹیم رکھنے کی دعویدار جماعت کا حکومت سنبھالنے کے وقت تک ملک کے معاشی حقائق سے بے خبر ہو نا ہر گز قابل

فہم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کن خوش گمانیوں کے سبب قوم سے اتنے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے جن کی تکمیل کے ابھی دور دور تک کوئی آثار نہیں ۔نئی حکومت کے پچاس دنوں کے اقدامات سے پتا چلتا ہے کہ وہ بعض دوست ملکوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے مالی تعاون کی امید رکھتی تھی لیکن اس سمت میں کی جانے والی کوششوں کے کم از کم فوری طور پر کچھ زیادہ حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے جبکہ سابقہ موقف کے سبب آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ بھی آسان نہیں تھا چنانچہ اس کے باوجود کہ ماہرین معاشیات مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی پر جلد قابو نہ پایا گیا تو شدید معاشی ابتری رونما ہوگی،حکومتی حلقوں پر کئی ہفتے اس حوالے سے تذبذب کی کیفیت طاری رہی، لیکن بالآخر پیر کو یہ خبر ملی کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تاہم منگل کو فنڈ کے سالانہ اجلاس کے دوران آئی ایم ایف کے اہم ماہر معاشیات مورس اوبسٹ فیلڈ نے بتایاکہ پاکستان نے اب تک ہم سے باقاعدہ طور پر رابطہ نہیں کیا۔امید ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک آئی ایم ایف سے باقاعدہ بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی جاچکی ہوگی کیونکہ اس معاملے میں مزید لیت و لعل کے نتیجے میں مزید ابتری یقینی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ میں اضافے کی بھرپور کوششوں، بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کے پرکشش منصوبوں اور دیگر ذرائع سے بھی ملک کی مالیاتی صورت حال کو بہتر بنانے کی کوششیں پوری قوت سے جاری رکھی جانی چاہئیں۔ڈیم فنڈ کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں سے ایک ہزار ڈالر فی کس بھیجنے کی جو اپیل وزیر اعظم نے کی تھی، جائزہ لیا جانا چاہیے کہ اس کے متوقع نتائج کیوں نہیں نکلے اور اس سلسلے میں اور کیا ہونا چاہیے۔ملک کی مالی صورت حال میں بہتری کی ایک بڑی امید، بینکوں کا قرضہ واپس نہ کرنے والی ان 222کمپنیوں اور افراد سے وصولی کی خاطر چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سوموٹو کارروائی تھی جس کے نتیجے میں انتخابات سے پہلے 54 ارب روپے کی قومی خزانے میں آمد تقریباً یقینی نظر آرہی تھی۔اس معاملے کو بھی جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا چاہیے۔بظاہر قومی معیشت میں افرتفری کی موجودہ کیفیت کا اصل سبب حکومتی سوچ کا واضح نہ ہونا اور فیصلہ سازی میں تذبذب کا عمل دخل ہے۔ اس صورت حال سے نجات کے لیے وسیع تر مشاورت سے معاشی حکمت عملی کی تیاری ،فیصلہ سازی میں پارلیمنٹ کی بھرپور شرکت اور ایسی کارروائیوں سے گریز ضروری ہے جن سے سیاسی انتقام کی بو آتی ہو کیونکہ اس سے قومی یکجہتی متاثر ہوتی اور انتشار و بے یقینی کا ماحول جنم لیتا ہے جو بہرصورت قومی ترقی وخوشحالی کے لیے زہر قاتل کاسا اثر رکھتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں