آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ7؍ صفر المظفّر1440ھ 17؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات سے صرف چار دن قبل انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب محمد طاہر خان کا تبادلہ اور ان کی جگہ امجد جاوید سلیمی کو تعینات کر کے ملک کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف حکومت نے انتظامی مسائل کا پینڈورابکس بھی کھول لیا ہے تبادلہ وفاقی حکومت نے کیا تھا چیف الیکشن کمشنر نے اس قانون اور اصول کی بنیاد پر کہ انتخابی عمل کے دوران سرکاری افسروں کے تبادلے نہیں کئے جا سکتے طاہر خان کے تبادلے کا نوٹی فیکیشن معطل کردیا اور وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے وضاحت طلب کر لی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس نے حکومتی احکامات پر عمل نہیں کیا اس لئے انہیں ہٹایا گیا جبکہ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ طاہر خان کو ایک صوبائی وزیر کے کہنے پر ہٹایا گیا تاکہ ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی جا سکے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ آئی جی پولیس کو سانحہ ماڈل ٹائون میں مبینہ طورپر ملوث پولیس افسروں کو ہٹانے کے لئے کہا گیا تھا مگر انہوں نے انہیں دوسرے اضلاع میں اہم عہدوں پر تعینات کر دیا ایک خیال یہ بھی ہے کہ بعض ارکان اسمبلی اپنے اضلاع کے ڈی پی اوز سے خوش نہیں ہیں اور انہیں ہٹانا چاہتے ہیں مگر آئی جی نے انکار کردیا۔ وجہ کچھ بھی ہو ایسے فیصلے کرنے سے پہلے قانونی

تقاضوںاور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے سپریم کورٹ ہدایت دے چکی ہے کہ قانون کے مطابق کسی عہدے پر تعیناتی کی مدت مقرر کردی جائے تو اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتامحمد طاہر خان کو تعیناتی کے صرف 32روز بعد ہٹا دیا گیا پھر خود پارٹی کی اعلانیہ پالیسی بھی یہی ہے کہ پولیس اور بیورو کریسی کو غیر سیاسی بنا دیا جائے گا آئی جی پولیس اور ڈی پی او پاکپتن کے معاملات اس پالیسی کی خلاف ورزی نظر آتے ہیں سرکاری افسروں کی تقرری ، تعیناتی اور تبادلے معمول کا معاملہ ہیں جنہیں خوش اسلوبی سے نمٹانا چاہئے تاکہ کوئی قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو جیسا کہ طاہر خان کو ہٹانے سے پیدا ہوئی اور حکومتی ساکھ متاثر ہوئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں