آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (انصار عباسی) نیب نے شہباز شریف کیخلاف آشیانہ ہائوسنگ سوسائٹی کیس میں کالسنز (چوہدری لطیف اینڈ سنز) نامی کنسٹرکشن کمپنی پر امیدیں قائم کیے ہوئے ہے، کمپنی نے 2016ء میں ایک علیحدہ معاملے میں بے ضابطگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے نیب کے ساتھ پلی بارگین ڈیل کی تھی اور رقم واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ کالسنز کی تاریخ مسائل سے بھرپور ہے جس میں کمپنی کو نہ صرف بلیک لسٹ کیا گیا تھا بلکہ اسے پولیس کی ایف آئی آرز میں بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔ تاہم، نیب مستقل اسے اچھی نیت کا حامل کنٹریکٹر بنا کر پیش کرتا رہا ہے جس نے آشیانہ اقبال ہائوسنگ سوسائٹی تعمیر کرنے کا ٹھیکہ میرٹ پر حاصل کیا تھا لیکن شہباز شریف کی انتظامیہ نے اس کے ساتھ غلط کیا۔ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے کالسنز کا آشیانہ کا ٹھیکہ منسوخ کرایا تاکہ یہی کنٹریکٹ کسی پسندیدہ کمپنی کو دیا جا سکے۔ اسی آشیانہ کیس میں، نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد اور لاہور ڈویلپمنٹ

اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کو گرفتار کیا۔ ان ہائی پروفائل گرفتاریوں کی وجہ سے کالسنز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سرکاری ذرائع بتاتے ہیں کہ کالسنز کو اس وقت شہرت ملی جب اس نے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ کشمیر ہائی وے کو چوڑا کرنے اور اس کی ری ماڈلنگ کرنے کا ٹھیکہ حاصل کیا۔ لیکن پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت (2008ء تا 2013ء) میں تاخیر کی وجہ سے یہ پروجیکٹ اذیت کا باعث بن گیا اور دارالحکومت کے شہریوں کو لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے کے بعد یہ پروجیکٹ مکمل ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2013ء میں کالسنز کو اس وقت پنجاب حکومت کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیراعلیٰ کو شواہد موصول ہوئے کہ پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی (پی ایل ڈی سی) کی جانب سے آشیانہ کا کنٹریکٹ اس جوائنٹ وینچر کمپنی کو دیا گیا ہے جس میں کالسنز بھی شامل ہے۔ شہباز شریف نے یہ کیس کمیٹی کے سپرد کر دیا جس کی قیادت اس وقت کے سیکریٹری فنانس پنجاب طارق باجوہ، جو اب گورنر اسٹیٹ بینک ہیں، کر رہے تھے۔ کمیٹی نے معمالے کی مزید تحقیقات کی سفارش کی جس پر شہباز شریف نے معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) پنجاب کے سپرد کیا۔ نتیجتاً آشیانہ کا کالسنز کو دیا جانے والا ٹھیکہ منسوخ کر دیا گیا۔ (لطیف اینڈ سنز کو) دیے جانے والا ٹھیکہ پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی نے ستمبر 2013ء میں منسوخ کیا۔ ناراض ٹھیکیدار نے پی ایل ڈی سی کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کرائی جس کے تحت ٹھیکیدار کو بطور ہرجانہ 59؍ لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس طرح پہلا ٹھیکہ منسوخ ہوا۔ بعد میں 2015ء میں، کالسنز کو ایک مرتبہ پھر شہباز شریف حکومت کی ناراضی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب کمپنی کو آرنج لائن اربن ٹرین پروجیکٹ میں غلط حرکتوں کے الزام کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کالسنز پر کنٹریکٹ کے قوائد کی خلاف ورزیوں کا الزام تھا جس کی وجہ سے جوائنٹ وینچر سے کالسنز کو نکال دیا گیا۔ آرنج لائن پروجیکٹ میں کالسنز کے ساتھ پروجیکٹ میں ایک اور کمپنی شامل تھی جس کا نام مقبول ایسوسی ایٹس ہے۔ شہباز شریف انتظامیہ نے کمپنی کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس پر 90؍ کروڑ 20؍ لاکھ (902؍ ملین) روپے سے زائد کا جرمانہ کیا۔ آرنج لائن پروجیکٹ میں کالسنز کے کردار اور پنجاب حکومت کی جانب سے اس کیخلاف کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں چشم کشا انکشافات ہوتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقبول کالسنز جوائنٹ وینچر پیکیج دوم (آرنج لائن کے چوبرجی سے علی ٹائون) تک کی بولی میں حصہ لیا۔ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم اے) نے آرنج لائن پروجیکٹ میں سول ورک کا کام ایل ڈی اے کے سپرد کیا۔ کہا جاتا ہے کہ میسرز مقبول کالسنز جوائنٹ وینچر (ایم سی جے وی) کی جانب سے پروجیکٹ پر کام کا آغاز ہی خراب رہا۔ ٹھیکیدار نے انتظامیہ کی متعدد زبانی اور تحریری ہدایات پر کان نہیں دھرا اور کنٹریکٹ کی مختلف شقوں کے مطابق، ایل ڈی اے کی وارننگ کے باوجود، اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایم سی جے وی کی جانب سے جن خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہیں: 1) بروقت مشینری اور سامان حاصل کرنے میں ناکام، 2) متعلقہ کام کا تجربہ رکھنے والے تکنیکی اسٹاف کی تعیناتی میں ناکام، 3) کارکردگی کی ضمانت دینے اور اسے برقرار رکھنے میں ناکام، 4) مقررہ تاریخ تک دستیاب کام مکمل کرنے میں ناکام، 5) اپنی ذمہ داری اور کام کی رفتار برقرار رکھنے میں ناکام، 6) طے شدہ ڈرائنگ کے برعکس (دو گرڈز پر 22؍ پائل فائونڈیشن کو چھوٹا تعمیر کیا) کام کرکے پروجیکٹ سیفٹی اور عوام کی سیکورٹی کو زبردست خطرے میں ڈالا گیا، 7) ورک پروگرام جمع کرانے میں ناکام، 8) سیفٹی، سیکورٹی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام، 9) جس طرح ایم سی جے وی نے تھرڈ پارٹی کو کام دینے کی درخواست کی تھی اس انداز میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام۔ ذرائع کے مطابق، مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر شہباز شریف انتظامیہ مقبول کالسنز جوائنٹ وینچر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور 903.289؍ ملین (90؍ کروڑ 32؍ لاکھ 89؍ ہزار) روپے کا زر ضمانت ضبط کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب انتظامیہ نے یہ ٹھیکہ منسوخ کرنے کے بعد مقبول کالسنز پر 40؍ کروڑ روپے کا خام مال (سریہ، کرش، بجری، وائرنگ وغیرہ) حکومت کو واپس نہ کرنے کا قصور وار بھی قرار دیا جس کیلئے ایل ڈی اے کی جانب سے ادائیگی کی گئی تھی۔ ایل ڈی اے کی شکایت پر پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن نے چھوٹے پائلز بنانے کا سنگین جرم کرنے پر ایف آئی آر درج کرائی۔ شہباز شریف انتظامیہ نے ان ٹھیکے داروں کو پانچ سال کیلئے پی پی آر اے رولز کے تحت ایل ڈی اے کے ٹھیکوں میں بولی دینے کیلئے نا اہل قرار دیا۔ شہباز شریف انتظامیہ نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کو یہ ریفرنس بھی بھیجا کہ کالسنز اور مقبول ایسوسی ایٹس کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ تاہم، 2017ء میں، ایک رپورٹ کے مطابق عدالت نے کالسنز کو بلیک لسٹ قرار دیے جانے کے معاملے میں ریلیف دیا۔ ان کمپنیوں کے حوالے سے حالات نے ایک عجیب اور پریشان کن رخ اس وقت اختیار کیا جب اس جوائنٹ وینچر کو 86؍ ارب روپے کے پشاور میٹرو پروجیکٹ کا ٹھیکہ ملا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کنٹریکٹ میں پشاور ہائی کورٹ نے بھی نیب کو مقبول کالسنز پشاور میٹرو پروجیکٹ ایوارڈ کے حوالے سے نیب کو انکوائری کی ہدایت کی جس پر بعد میں سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا۔ 2016ء میں عامر لطیف، جسے نیب نے ایک علیحدہ معاملے میں گرفتار کیا تھا، نے نیب کو درخواست کی کہ اس کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی جائے جس کے تحت اس نے 25؍ کروڑ روپے واپس کرنا تھے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں یہ درخواست منظور کی گئی جس کی تصدیق ایک پریس رپورٹ کے ذریعے بھی ہوئی۔ رپورٹ میں نیب کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بیورو پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے سابق سپرنٹنڈنگ انجینئر میاں مسعود اختر، سابق ایگزیکٹو انجینئرز رانا سلیم اختر اور چوہدری حسن اختر، سابق اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر پرویز اقبال محمود اور سابق سب انجینئر اعجاز حسین اور ساتھ ہی عامر لطیف کے کیس کی انوسٹی گیشن کر رہا تھا جو چوہدری عبداللطیف اینڈ کمپنی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ہیں۔ دی نیوز نے کالسنز کے نمائندوں سے رابطے کی کوشش کی تاکہ ان کا موقف بھی معلوم کیا جا سکے لیکن ایسا ممکن نہ سکا۔ اگر ان کی جانب سے کوئی موقف پیش کیا جائے گا تو دی نیوز اس کا خیر مقدم کرے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں