آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (رپورٹ:احمد نورانی) حکومت کا اعتراف ہے کہ نیب حکام کو طرزخیال یا سوچ (مائنڈسیٹ) کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔ بیورو کی سنجیدگی سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ میوچوئل لیگل اسسٹینس (ایم ایل اے) کے نئے قانون کا مسودہ بھی ایک ہفتے کے اندر منظوری کے لئے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ احتساب پر وزیراعظم کے خصوصی معاون شہزاد اکبر نے کہا کہ نیب قوانین کا بے جا استعمال ہوا اور ان میں بہتری کی گنجائش ہے۔ نیب حکام کو اپنی ذہنیت بدلنا ہوگی ، جیسا کہ شہریوں کو کسی ثبوت کے بغیر ہراساں کیا جاتا ہے۔ نیب افسران میں تفتیشی صلاحیتوں کا فقدان ہے اور انہیں فوری تربیت اور استعدادسازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے اثاثوں کی بازیابی کے لئے ٹاسک فورس حکمت عملی مرتب کرنے پر کام کر رہی ہے۔ شہزاد اکبر کے مطابق کچھ پاکستانیوں نے ٹیکس چوری یا کرپشن کے ذریعہ دولت اکٹھا کی جو سوئٹزرلینڈ سمیت مختلف غیرملکی بینکوں میں رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے کا نیا مسودہ قانون دیگر ممالک سے ایم ایل اے کے تحت درخواستوں کو

مرکزیت دے گا۔ مخصوص افراد کے بارے میں معلومات کے حوالے سے شہزاد اکبر نے بتایا کہ اتنی زیادہ معلومات ہیں کہ ان کو تفتیش کے عمل سے گزارنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کے علاوہ کابینہ کمیٹی جس میں وزیرقانون، اٹارنی جنرل، چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل نیب اور وہ خود شامل ہیں، وہ احتساب کے قانون کو بہتر بنانے اور نیب میں اصلاحات کے لئے کام کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیب افسران میں تفتیشی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ وہ کرپشن کے معاملات کو سمجھ نہیں پاتے۔ ملزمان کو بلاوجہ ہراساں کیا اور دبائو ڈالا جاتا ہے۔ ایک وکیل ہونے کے ناطے موکلین انہیں اس سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس سارے عمل کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف قانون بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ پوری ذہنیت تبدیل کرنا ہوگی۔ جس پر ان کی ٹیم اور کابینہ کمیٹی کام کر رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں خود نیب سے پورے سسٹم کی بہتری اور اصلاحات کے لئے تجاویز مانگی گئی ہیں۔ ان کے خیال میں پہلا مسئلہ احتساب کے لئےدائرہ کار اور دائرہ اختیار کا ہے۔ ایف آئی اے، انٹی کرپشن کے صوبائی محکمے، صوبائی احتسابی ادارے اور کچھ دیگر بھی احتساب کے حوالے ہی سے کام کرتے ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ایف آئی اے کو اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے وہ نتائج نہیں دے سکتی ہے۔ نیب کے پاس اختیارات ہیں لیکن ان کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت کے تحت کابینہ کمیٹی میں دیگر اداروں سے بھی ارکان شامل کئے جا سکتے ہیں جیسا کہ ابتدائی اجلاسوں میں ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ شہزاد اکبر نے واضح کیا کہ اصلاحات کو حتمی شکل دینے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔ اس عمل کی تکمیل کے لئے عرصہ کے تعین کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جب کوئی عمران خان کی ٹیم میں کام کر رہا ہو تو اس کے لئے ایک سال کا عرصہ بھی بہت ہوتا ہے۔ اصلاحات کا عمل اس سے قبل ہی مکمل ہو جائے گا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں