آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث وطن عزیز میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں رہائش کے لئے چھت میسر نہیں۔ ایک سروے سے اس امر کا اندازہ کیا جاسکتاہے کہ پاکستان میں لوگوں کو کم و بیش ایک کروڑ مکانوں کی کمی کا سامنا ہے۔ جسے دور کرنے کی خاطر وزیراعظم عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران 50لاکھ گھر بنانے کا عندیہ دیا تھا اور اب اس پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں افتتاحی تقریب سے اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ ملک موجودہ صورتحال سے سرخرو ہو کر نکلے گا، گھبرائیں نہیں، حوصلہ رکھیں ملک کو ان مشکل حالات سے نکالوں گا۔ یہ قلیل مدتی پریشانی ہے قوموں کی زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کوئی قیامت نہیں آگئی، اصلاحات کے اثرات 6ماہ بعد نظر آئیں گے۔ کم آمدنی والے طبقے اور غریب عوام کے لئے 50لاکھ گھروں کی فراہمی کیلئے نیا پاکستان ہائوسنگ پلان شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا او راقتصادی سرگرمیاں بڑھنے سے شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ ابتدائی طور پر سات اضلاع کیلئے پائلٹ پروجیکٹ گزشتہ روز سے شروع ہوگیا۔ وزیراعظم کے بقول کچی آبادیوں کے

مکینوں کو مالکانہ حقوق دیں گے۔ دریں اثنا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 50لاکھ گھر بنانا خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ صرف اعلان سے نہیں بن جائیں گے، پہلے کچی آبادیوں کیلئے کچھ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم خود کچی آبادیوں کا دورہ کریں۔ ڈالر کا ریٹ دیکھیں کہاں پہنچ گیا ہے، حالات خراب ہیں، لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں۔ کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بلوچستان میں کچی آبادیوں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان آبادیوں کو سہولیات دینا حکومت کا کام ہے۔ سہولیات نہیں دے سکتے تو متبادل انتظام کریں اور اگر انتظامیہ یہ کام نہیں کرتی تو پھر عدالت معاملے کو دیکھے گی۔ اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ وطن عزیز اس وقت جن سنگین بحرانوں سے دوچار ہے، ایسا کڑا وقت اس پر اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا۔ خاص طور پر اقتصادی بحران نے معیشت کی کمر توڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ نتیجتاً آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کی ضرورت عیاں ہورہی ہے جس کے بارے میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی، وزیراعظم کا تیقن اگر اس امر کا غماز ہے کہ انہوں نے اس بارے میں ورک آئوٹ کر رکھا ہے تو درست ورنہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے مہنگائی مزید بے لگام ہو جائے گی اور غریبوں کیلئے زندگی اجیرن۔ جہاں تک بات ہے 50لاکھ مکان بنانے کی، تو اس مقصد کے لئے حکومت زمین فراہم کرے گی اور نجی شعبہ تعمیر کرے گا۔ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اقتصادی سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی جن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کے حوالے سے وزیراعظم کا پرعزم لہجہ امید ضرور دلاتا ہے تاہم ہر کسی سے دھوکہ کھانے والی قوم کو زیادہ فکر مہنگائی کی ہے تاکہ وہ اپنے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ کچی آبادیوں پر چیف جسٹس کے ریمارکس بھی پیش نظر رہنا چاہئیں۔ اگرچہ وزیراعظم نے کچی آبادیوں کو مالکان حقوق دینے کی بات کی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب وہ سرکاری زمینوں پر ہوں۔ اس ضمن میں وزیراعظم کو اپنی نگرانی میں سروے کرانا ہوگا۔ بہرکیف وزیراعظم کا 50لاکھ گھر بنانے کا اعلان ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن آسان ہدف ہرگز نہیں، اس کیلئے نہ صرف بھرپور محنت کی ضرورت ہے بلکہ اس پر چیک رکھنے کی بھی۔ امید ہے یہ تمام عوامل وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے پیش نظر ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں