آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح وطنِ عزیز میں بھی خواتین میں بریسٹ کینسر کی آگہی اور اس سے بچائو کا عالمی دن منایا گیا، خصوصی سیمینار منعقد ہوئے اور اس کے پھیلائو میں خاطر خواہ کمی لانے پر زور دیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جو ایشیا بھر میں بریسٹ کینسر کے رجحان میں سرفہرست ہے، ہر سال اس کے مریضوں کی تعداد میں اوسطاً 90ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے اور سا لانہ زیادہ تر 30سے 40سال تک عمر کی اوسطاً 40 ہزار خواتین کی موت کی وجہ سینے کا سرطان ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں تبدیلی، وزن بڑھنا خصوصاً بچے کو اپنا دودھ پلانے سے دوری اختیار کرنا اس موذی مرض کی بڑی وجوہ ہیں۔ معالجین کا کہنا ہے کہ بریسٹ کینسر کی آگہی، احتیاط اور بروقت علاج کی بدولت اس کے پھیلائو میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہی خیالات کا اظہار بدھ کے روز ایوانِ صدر اسلام آباد میں منعقدہ آگاہی مہم کی تقریب سے اپنے خطاب میں خاتونِ اول بیگم ثمینہ علوی نے بھی کرتے ہوئے کہا کہ آگہی کے ذریعے بریسٹ کینسر کے لاحق ہونے سمیت بیشتر اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ پنک ربن عالمی طور پر بریسٹ کینسر سے آگہی کی علامت ہے۔ اسے پنک ربن اس لئے کہا جاتا ہے کہ 1991میں نیو یارک میں چھاتی کے سرطان سے آگہی اور روک تھام کے حوالے سے منعقدہ واک کے موقع پر شرکا میں پنک ربن تقسیم کئے گئے تھے، اس کے بعد اس عالمی دن کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر جگہ یہ روایت عام ہوئی ہے گویا اس بیماری کا شعور اجا گر کرنے کے لئے یہ کوشش کی جائے کہ خواتین پنک ربن کو دیکھ کر اپنے اندر اس مرض کا احساس پیدا کریں۔ حکومتی سطح پر ضروری ہے کہ مربوط پروگرام کے تحت ملک بھر کے شہری و دیہی، قرب و جوار کے علاقوں میں قریہ قریہ خواتین کو اس موذی مرض سے باشعور کرنے کے ساتھ ساتھ علاج معالجہ تک رسائی عام کرنے کو عملی شکل دی جائے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں