آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
1997ء کے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کو جناب عطاء الحق قاسمی کی طرف سے دیئے گئے ظہرانے میں جناب اشفاق احمد مرحوم اور دیگر صائب الرائے خیر خواہوں نے مشورہ دیا کہ وہ چونکہ اس وقت اپنے کھمبوں کو کامیاب کرانے کی پوزیشن میں ہیں اس لئے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں بااصول، دیانتدار، اچھی شہرت کے حامل لوگوں کو ٹکٹ دیں اور مل کر تاریخ بدل دیں میاں صاحب نے مشورہ سنا، صاد کیا اور پھر پوچھا ”بھولے تمہارا کیا خیال ہے“
بھولے نے صاف گوئی سے کام لیا اور کہا میاں صاحب دو تہائی اکثریت ضروری ہے ان دانشوروں کی بات نہ سنیں۔ جو چور اچکے کامیاب ہو سکتے ہیں انہیں کھڑا کریں الیکشن جیتیں اور اللہ اللہ خیر سلا۔ اشفاق احمد جزبز ہوئے اور کہنے لگے ”پر بھولے اتنے زیادہ چور اچکے میاں صاحب کہاں سے ڈھونڈیں“ بات آئی گئی ہو گئی۔ 12/ اکتوبر کوہیوی مینڈیٹ پر جنرل پرویز مشرف نے شب خون مارا تو موقع پرستوں کے بل بوتے پر حاصل دو تہائی اکثریت یوں تحلیل ہوئی جیسے پانی میں بتاشہ۔
ان دنوں پھر عام انتخابات کی آمد آمد ہے اور ہر سیاسی جماعت انتخابی کامیابی کے لئے پندار کا صنم کدہ ویران کر کے اسی کوئے ملامت کے طواف کے لئے بے تاب ہے جہاں اسے بے وفائی، بے اصولی، موقع پرستی اور اقربا پروری کے سوا کچھ نہیں ملا۔ پیپلز پارٹی

کا کیا مذکور، میاں صاحب بھی چار سال تک جنرل پرویز مشرف کے ساتھیوں اور ماضی کے بے وفاؤں سے گریز کی پالیسی ترک کر کے ایسے ہی لوگوں کو گلے لگا رہے ہیں جو انہیں شائد انتخابی اکثریت تو دلا دیں مگر آزمائش کے کسی موقع پر ان کے ساتھ کھڑا ہونا گوارا نہ کریں۔ گزشتہ روز کے ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ (ن) کے لئے حوصلہ افزاء ہیں، پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدواروں کی شکست سے یہ پروپیگنڈہ غلط ثابت ہوا کہ میاں منظور وٹو، چوہدری پرویز الٰہی اور پیپلز پارٹی کے جیالے مل کر مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں شکست سے دوچار کر سکتے ہیں مگر ان ضمنی انتخابات کو 2008 کے انتخابی نتائج کا پرتو، تو قرار دیا جا سکتا ہے اگلے عام انتخابات کے نتائج کی جھلک نہیں کیونکہ ماحول قطعی طور پر مختلف ہو گا اور ہر جماعت کو صرف اور صرف اپنی کارکردگی، پُر جوش کارکنوں اور عوام دوست منشور کے بل بوتے پر انتخابی میدان میں اترنا ہو گا۔
چیچہ وطنی، ساہیوال کے حلقے سے چوہدری زاہد اقبال کی کامیابی ہماری بے اصول سیاست کی کلاسیکی مثال ہے موصوف پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی تھے، مستعفی ہوئے دوبارہ ٹکٹ ملا، کاغذات جمع کرائے اور پھر اچھل کر مسلم لیگ (ن) کی گود میں جا بیٹھے کیا مسلم لیگ (ن) ان کی کامیابی پر فخر کر سکتی ہے؟ صرف یہی نہیں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے جن سیاستدانوں کو موقع پرست، گندے انڈے، پرویز مشرف کے ساتھی اور اپنی جماعتوں کے دھتکارے ہوئے قرار دیا گیا اب دھڑلے سے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو رہے ہیں تو نہ کسی کو خواجہ محمد خان ہوتی پر اعتراض ہے اور نہ افتخار گیلانی کے بار بار پارٹیاں بدلنے پر اب سب کے سب دودھ کے دھلے ہیں جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے نکلے ہوں۔ عمران خان کے نامہ اعمال کی تیرگی اب مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی زلف کا حسن ہے۔
عمران خان نے بھی اپنے بعض عملیت پسند ساتھیوں کے مشورے پر ہر دیگ کے چمچوں اور چڑھتے سورج کے بعض پجاریوں کو شامل کیا مگر اس کا انحصار نوجوانوں پر ہے جن کے بارے میں خان صاحب کی یہ پختہ رائے ہے کہ وہ گھاگ ELECT ABLES کو جماعت کی پالیسیوں اور نظریئے پر حاوی نہیں ہونے دیں گے بعض روائتی سیاستدانوں کی تیزی سے تحریک انصاف چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شمولیت سے بھی اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ وہاں موقع پرستوں اور خاندانی اثر و رسوخ کی بناء پر ٹکٹ و عہدہ حاصل کرنے کے عادی سیاستدانوں کی دال گلنا مشکل ہے جماعتی انتخابات کے ذریعے عمران خان ملک میں جو حقیقی جمہوری کلچر متعارف کرانا چاہتے ہیں وہ ان فصلی بٹیروں کے لئے ناقابل قبول ہے مگر خدا لگتی بات یہ ہے کہ ساہیوال این اے 162 میں رائے حسن نواز کی ناکامی تحریک انصاف کے لئے لمحہ فکریہ ہے تحریک انصاف سے وابستہ ایک لیڈر کا ضمنی انتخاب میں حصہ لینا اور قومی و صوبائی لیڈر شپ کا اس کی انتخابی مہم سے دور رہنا ایک تضاد ہے اور نیمے دروں، نیمے بروں کی متذبذب پالیسی کا شاہکار جو کارکنوں کے لئے مایوسی کا باعث اور نئے آنے والوں کے لئے پریشان کن۔ جماعتی انتخابات بھی ان دنوں عمران خان کے پاؤں کی زنجیر بنے ہوئے ہیں کیونکہ دوسری جماعتیں اپنے امیدوار فائنل کر رہی ہیں اور تحریک انصاف کی اعلیٰ قیا دت اپنے جماعتی قضیئے نمٹانے میں مصروف ہے۔
اسمبلیوں کی تحلیل اور نگران حکومت کے قیام کے بعد ہی مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی حکمت عملی اور ممکنہ کامیابی و ناکامی کا تجزیہ آسان ہو گا، موجودہ ارکان اسمبلی میں سے کتنے اپنی جماعتوں سے وفاداری نبھاتے ہیں؟ کتنے رسی تڑوا کر بھاگتے اور کسی جماعت کا رخ کرتے ہیں؟ کون سی جماعت امیدواروں کے انتخاب میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں اصول، ضابطے، دیانت و امانت اور اچھی شہرت کو ترجیح دیتی ہے اور کن چور اچکوں کے ذریعے اکثریت حاصل کرنے کے جتن کرتی ہے؟ شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری تو انتخاب کے بجائے نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں اتر رہے ہیں انتخابات کے التواء کے خواہش مند کچھ اور کھلاڑی بھی نمودار ہوں گے مگر عام انتخابات کی صورت میں عوام آزمائے ہوؤں کو دوبارہ آزمانے کے موڈ میں نہیں کیونکہ انہیں جب بھی موقع ملتا ہے یہ اپنی اصلیت ظاہر کرنے پر اتر آتے ہیں۔ موقع پرست، بے وفا، تھالی کے بینگن اور بے پیندے کے لوٹے ہمارے سیاسی کلچر کی کلاسیکی مثال ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں