آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انتخابی سیاست، دنیا کے جس خطے میں بھی ہے، ٹھوس زمینی حقیقتوں سے نمو پاتی ہے اور زمینی حقیقتیں، اسباب و محرکات کے بطن سے پھوٹتی ہیں۔ یہ بہرحال شاعری و افسانہ گری کا میدان نہیں۔
صوبائی اسمبلیوں کی سات اور قومی اسمبلی کی دو نشستوں کے ساتھ ہی، گاہے گاہے منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات کا باب بند ہوگیا۔ موشگافیاں فطری سی بات ہیں۔ تجزیئے بھی ہوتے رہیں گے۔ جیتنے والے اپنی اس جیت سے نئی فتح مندیوں کے دل کشا مناظر تراشتے رہیں گے۔ ہارنے والے شکست کے اسباب کا جائزہ لیتے رہیں گے اور کھسیانی بلیاں کھمبے نوچتی رہیں گی۔ بازارِ سیاست کا کاروبار یونہی چلا کرتا ہے اور جمہوریت کا بانکپن اسی سے نکھرتا ہے۔
تخیل تراشوں اور خواب فروشوں کی بات دوسری ہے کہ وہ سنگِ خارا سے بھی شہد کشید کرنے اور جلتے بلتے ریگستانوں میں لالہ و گل کھلانے پہ قدرت رکھتے ہیں۔ ہتھیلی پر سرسوں جمانے اور آسمان میں تھگلی لگانے والے ان جادوگرانِ قلم اور ساحرانِ زبان کی زنبیل کبھی خالی نہیں ہوتی۔ وہ بدستور دلیلوں کے انبار لگاتے اور تاویلوں کے طومار باندھتے رہیں گے لیکن اس کا کیا علاج کہ زمینی حقیقتیں بڑی تلخ ہوتی ہیں۔ میڈیا کی چکاچوند، نعروں کا خروش، دعوؤں کی گونج، پرچموں کی بہار، سوشل میڈیا کا چونچال پن، قلم کاروں کا زور قلم، سب دھرا رہ جاتا ہے۔

زمینی حقائق کا جادو جب بھی بولتا ہے، سر چڑھ کے بولتا ہے۔
سندھ اسمبلی کی واحد نشست توقع کے مطابق پیپلزپارٹی نے جیت لی۔ بڑا معرکہ پنجاب میں لڑا گیا۔ کل آٹھ نشستوں میں سے سات مسلم لیگ (ن) نے جیت لیں۔ تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو پہلی اہم زمینی حقیقت یہ سامنے آئی ہے، مسلم لیگ (ن) نے اپنی وہ تمام نشستیں دوبارہ حاصل کرلیں جو اس نے 2008ء کے انتخابات میں جیتی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ووٹرز کا اعتماد اب بھی برقرار ہے۔ دوسری زمینی حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ تقریباً ہر حلقے میں اس کے ووٹرز کا دائرہ وسیع ہوا ہے، اس نے پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں اور اپنے حریفوں کو 2008ء کی نسبت زیادہ بڑے مارجن سے شکست دی ہے۔ کسووال کے حلقہ پی پی 226 میں مسلم لیگ (ق) کے اقبال احمد لنگڑیال نے 29955 ووٹ لے کر مسلم لیگ (ن) کے سیف الرحمن جویا کو ہرایا تھا جو صرف15172 ووٹ حاصل کرسکے تھے۔ اب کے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد حنیف جٹ نے 42294 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح حلقہ پی پی92گوجرانوالہ سے 2008ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو 24632 ووٹ ملے تھے اور اس نے صرف پانچ سو ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تازہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے نواز چوہان 36547 ووٹ لے کر جیتے اور اپنے حریف پر ان کی برتری بیس ہزار ووٹوں سے بھی زائد رہی۔ پی پی 129 سیالکوٹ سے2008ء میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے 36798 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ اب اس کے امیدوار محسن اشرف کو 52500ووٹ ملے۔ 2008ء میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 107گجرات سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد جمیل ملک 75205 ووٹ لے کر فتح مند رہے تھے۔ اب ”ن“ کے امیدوار ملک حنیف اعوان نے 106658 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔گویا مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک میں پچیس ہزار سے زائد ووٹوں کا اضافہ ہوا۔ تب اس نے ق کے امیدوار کو صرف چھ ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا،اب کے فرق تیس ہزار سے زائد رہا۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 162 چیچہ وطنی سے پیپلزپارٹی کے زاہد اقبال ستّر ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ اب ان کے ووٹوں میں چھ ہزار کا اضافہ ہوگیا۔زمینی حقائق کا واضح اور غیرمبہم پیغام یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹر مایوس نہیں ہوا۔ اسے اب بھی اپنی جماعت اور حکومت پنجاب کی کارکردگی پر اعتماد ہے اور اس اعتماد نے ایک نیا حلقہٴ اثر بھی پیدا کیا ہے۔ تیسری اہم زمینی حقیقت یہ سامنے آئی ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی کا انتخابی اتحاد پذیرائی حاصل نہیں کرسکا۔ اقتدار کے ایوانوں کے کرتب، عوامی اکھاڑے میں غیر موثر ہوکر رہ گئے۔ دونوں جماعتوں کے کارکنوں بلکہ سرکردہ لیڈروں نے بھی اسے دل سے قبول نہیں کیا۔ عمر بھر پیپلز پارٹی کو صلواتیں سنانے والے منظور وٹو کو پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت سونپ دینے کا تصور بانجھ رہا۔ امکان ہے کہ ضمنی انتخابات کا میلہ وٹو صاحب کا کمبل لے آڑے گا۔ ایک اور بات نوشتہٴ دیوار جانیئے کہ دو روایتی حریفوں کے اس اتحاد کی حرکت قلب کسی بھی وقت بند ہوسکتی ہے۔ باضابطہ طور پر ایسا نہ ہوا تو متوقع امیدوار اڑانیں بھریں گے اور جس شجر نے بھی بانہیں پھیلائیں، اس کی شاخ پر جا بیٹھیں گے۔
زمینی حقائق کا چوتھا پیغام یہ ہے کہ تمام انتخابی جائزوں کے عین مطابق پیپلز پارٹی، کم از کم پنجاب کی حد تک جانکنی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ اب کے تو یوں دکھائی دیا جیسے وہ واقعی تحلیل ہوچکی ہے۔ صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں وہ میدان میں اتری۔ ایک حلقے میں اسے16492 اور دوسرے میں4797 ووٹ ملے۔ قومی اسمبلی کی چیچہ وطنی والی سیٹ وہ ہار گئی جہاں اس کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا اور صرف چودہ ہزار ووٹ حاصل کرسکا۔ پیپلز پارٹی کے لئے صورتحال یقینا ایک بڑا لمحہٴ فکریہ ہے۔
پنجاب میں ضمنی انتخابات کا معرکہ بالعموم وسطی پنجاب میں لڑا گیا جسے روایتی طور پر مسلم لیگ (ن) کا گڑھ خیال کیا جاتا ہے۔ اس لئے کچھ حلقے اسے متوقع نتائج سے تعبیر کرتے ہیں جو بڑی حد تک درست ہے لیکن یہ پیغام تو بہرحال ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنا ووٹ بنک نہ صرف قائم رکھا بلکہ اس میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا ہے۔ یہ کامیابی، آنے والے انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کی رگوں میں تازہ لہو کا درجہ رکھتی ہے۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ادھر ادھر بیٹھے کئی توانا امیدوار اس کی طرف رُخ کریں گے اور وہ اپنی گرفت مزید مضبوط بنانے میں کامیاب رہے گی لیکن خدشہ ہے کہ اس کامیابی کا خمار اس پر نشے کی ایسی کیفیت طاری نہ کردے کہ وہ آسودہ خاطر ہوکر بیٹھ جائے۔ اسے سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ بہت سے حلقوں میں پارٹی بری طرح تقسیم ہے۔ یکسوئی اور اتحاد و یکجہتی کا یہ فقدان بڑا مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی اپنی طے شدہ حکمت عملی کے مطابق، تحریک انصاف اور بعض دوسری قوتوں کے غبارے میں ہوا بھرنے کی مشق پھر سے شروع کرے گی۔ جیسا کہ منظور وٹو کہہ چکے ہیں، اس کی امیدوں کا مرکز صرف وہ قوتیں ہیں جو مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک میں نقب لگا سکیں۔ نواز شریف کو ایسے نقب زنوں کے سدباب کے لئے زیادہ موثر حکمت عملی بنانا ہوگی۔
زمینی حقائق کا ایک پیغام یہ ہے کہ تمام تر شو و غل کے باوجود عوام، جمہوری نظام کا تسلسل چاہتے ہیں۔ عام طور پر ضمنی انتخابات میں پولنگ کی شرح بہت کم رہتی ہے لیکن تازہ انتخابات میں ایک آدھ حلقے کے سوا تمام حلقوں میں بھاری پولنگ ہوئی۔ عوام نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ یہ بھی کہ انہوں نے روایتی جماعتوں ہی کو ووٹ ڈالے۔ قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں ہارنے والے امیدواروں کے ووٹ بھی ساٹھ ہزار سے زائد رہے،یہ اچھی علامت ہے۔
زمینی حقائق کا ایک دوٹوک پیغام تخیل تراشوں اور خواب فروشوں کے لئے بھی ہے۔ قومی اسمبلی کے ایک اور صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے باضابطہ ٹکٹوں کے بغیر تحریک انصاف کے امیدواروں نے حصہ لیا اور شکست کھائی۔ بات محض ان دو امیدواروں کی نہیں، ضمنی انتخابات نے سونامی کے نام ایک متعین اور واضح سندیسہ چھوڑا ہے۔ اس پہ بات کسی اگلی نشست میں۔ فی الحال خان صاحب کا یہ بیان پڑھئے اور سردھنئے کہ ”انتخابات مسلم لیگ (ن) نے نہیں، حکومت پنجاب نے جیتے ہیں“ ۔ خواب فروشوں سے کسب فیض کرنے والوں کی کشت فکر میں خود فریبی کی ایسی ہی فصل اُگا کرتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں