آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کبھی بھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی ،کسی نہ کسی سے بیل آئوٹ ناگزیز تھا۔

پریس کانفرنس میں اسد عمرنے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا، زر مبادلہ کے ذخائر گرتے جارہے ہیں، آئی ایم ایف جانےکےاعلان کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ اگلے روز 600 پوائنٹس بڑھی۔

ان کا کہناتھاکہ چین اور سعودی عرب سمیت کسی نے قرض کے لیے سخت شرائط نہیں رکھیں،بر آمدات بڑھانا ہوں گی ،ورنہ قرض کے دلدل سے باہر نہیں آسکتے۔

اسد عمر نے یہ بھی کہاکہ امریکی بیان بالکل غلط ہے کہ سی پیک قرضوں کےباعث آئی ایم ایف کےپاس جارہے ہیں،عالمی مالیاتی ادارے کو بتادیا کہ غریب ترین افراد کے لیے سبسڈی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ہم پر چین اور سعودی عرب سمیت کسی نے قرض کے لیے سخت شرائط نہیں رکھیں، ہم نے آئی ایم ایف سے بات چیت میں تاخیر نہیں کی۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہناتھاکہ میں نے کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کبھی عمران خان نے کی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نےسی پیک سمیت پاکستان کے ذمے مجموعی قرضوں کی تفصیل مانگی ہے،پاکستان نے آج تک آئی ایم ایف سے قرض کے18 معاہدے کیے،جن میں سے 7 فوجی حکومتوں کے دور میں ہوئےجبکہ باقی معاہدے پی پی اور ن لیگ کے ادوار میں ہوئے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ ہر ماہ 2 ارب ڈالر جا رہا ہے،ستمبر 2018میں زرمبادلہ کے ذخائر 8ارب 40کروڑ ڈالر پر آگئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں