آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ احتساب اورکرپشن کے خلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں،ن لیگ کی حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دی اور مکمل تعاون کیا ۔

لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں میجر آصف غفور نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہوجانی چاہیےتھیں،اصلاحات اورقانون سازی حکومت کاکام ہے، بیورو کریسی اورنظام سے متعلق پاکستان مسلم دنیا کا واحد ملک ہے، جس نےکامیابی حاصل کی۔

ان کا کہناتھاکہ امن و استحکام کے لیے 76 ہزارجانیں دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاشرے کے ہر طبقے نےحصہ لیا، 5 سال سے نظام نے بہتر کام کرنا شروع کیاہے،مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں عام انتخابات انتہائی شفاف اور آزاد تھے، ووٹرزنے اپنی مرضی سے ووٹ دیے ، کسی کونہیں کہا گیا کہ کس کوووٹ دیناہےاورکس کو نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے ممکن بنایا کہ ہرشخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے،دھاندلی کےالزامات لگائے گئےلیکن کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ، تبدیلی کے سال سے متعلق ان کی ٹویٹ کو غلط معنوں میں لیا گیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج دہشت گردوں سےلڑسکتی ہےلیکن یہ کام پولیس کاہے، ہماری فوج اورپولیس دہشت گردوں کیخلاف کئی سالوں سے لڑرہی ہے ، ن لیگ کی حکومت فوج کی ہرضرورت پرتوجہ دی اورسرحد محفوظ بنانےکیلئےرقم دی۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل میڈیامیں پاکستان سےمتعلق مثبت خبروں کواجاگرنہیں کیاجاتا، فاٹا اصلاحات پرمغربی میڈیامیں ایک بھی بامقصداسٹوری نہیں دیکھی، مغربی میڈیامیں ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرمبنی الزامات لگائےجاتےرہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ بیورو کریسی اوردیگر اداروں نے کراچی کے امن کےلیے مل کرکام کیا، پہلے2 سے   3دھماکے معمول تھے، اب کراچی میں جرائم میں کمی آئی ہے۔

پاک فوج کے 7آرمی چیف کے ملک سے باہر ہونے کے سوال پرانہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہے صرف جنرل (ر)پرویزمشرف اور جنرل (ر) راحیل شریف ملک سے باہر ہیں جبکہ جنرل(ر) اشفاق کیانی، کاکڑ  اور جنرل (ر)کرامت پاکستان میں ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سابق آرمی چیف حکومت کے منظور شدہ معاہدےکےتحت سعودی عرب میں ہیں، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اس لیےپاکستان سےباہرہیں کہ ان پرالزامات ہیں اور وہ سیاست میں بھی آئے، حقیقت یہ ہے کہ مشرف ایک فوجی جنرل ہیں،فوج کا ان کی سیاست سےکوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی اور مغربی سرحد پر فوج پوری طرح مصروف ہے،اس کا کام ملک کی سلامتی برقرار رکھنا ہے، احتساب کے لیے فوج کا اپنا میکانزم ہے،جو سب سے قوی اور سخت ہے، جس سے کوئی ماورا نہیں۔

سرجیکل اسٹرائیک پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ صرف دیومالائی کہانی ہے،بھارت جھوٹ بول رہا ہے،کوئی بھی مہم جوئی کی گئی تو 10 گنازیادہ طاقت سےجواب کی صلاحیت رکھتےہیں، کسی بھی مہم جوئی کےجواب میں پاکستان کی طاقت پرکوئی شک نہیں ہوناچاہیے، اس وقت پاک فوج کےپاس زیادہ تر وہ افسرہیں جوجنگوں میں لڑچکےہیں۔

ان کا کہناتھاکہ فوج یقین رکھتی ہے کہ جمہوریت آگے بڑھنے کا راستہ ہے،پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کے لیے کام کرتے رہیں گے،آرمی چیف بیرون ملک جب بھی کسی سےبات کرتےہیں پاکستان کی بات کرتےہیں فوج کی نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں