آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍صفر المظفّر 1440ھ 22؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں عمران خان کی چھوڑی نشست حلقہ این اے 243 کے 22 امیدوار میدان میں ہیں۔

عام انتخابات میں این اے 243 کی نشست چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے چھوڑنے کے بعد کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 243 پر ضمنی انتخاب ہورہا ہے ۔

قومی خبریں - ضمنی انتخابات: ملک بھر کے 35 حلقوں میں پولنگ - Latest News

عام انتخابات کے بعد سب سے بڑا انتخابی دنگل ، قومی...

این اے 243 میں شامل گلشن اقبال اور گلستان جوہر کے علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست پر تحریک انصاف کے عالمگیر خان، ایم کیو ایم کے عامر ولی الدین چشتی، پیپلز پارٹی کے حاکم علی اور پاک سرزمین پارٹی کے آصف حسنین سمیت بائیس امیدوار مدمقابل ہیں۔

اصل مقابلہ ایم کیو ایم کے عامر ولی الدین چشتی اور تحریک انصاف کے عالمگیر خان کے درمیان متوقع ہے ۔

یہاں پر 216 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4لاکھ 2ہزار 731 ہے یہاں مرد ووٹرز کی تعداد 2لاکھ 11ہزار 510 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 91ہزار 221ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے عام انتخابات 2018ء میںپانچ حلقوں کراچی، لاہور، اسلام آباد، بنوں اور میانوالی کی نشستوں پر مخالف اُمیدواروں کے مقابلے میں واضح برتری حاصل کی تھی۔اور ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

عمران خان نے این 53 اسلام آباد پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 43 پر ایم کیو ایم پاکستان کے علی رضا عابدی،عمران خان میانوالی میں اپنے آبائی حلقہ این اے 95 میں مسلم لیگ ن کے عبید اللہ شادی خیل، لاہور کے حلقے این اے 131 پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور بنوں کے حلقہ این اے 35 سے متحدہ مجلس عمل کے اُمیدوار اکرم درانی کو شکست دی تھی۔

عام انتخابات میں پانچوں حلقوں سے کامیاب ہونے کے بعد عمران خان کو اپنی ایک نشست رکھ کر باقی نشستیں چھوڑنا تھیں جس پر حتمی فیصلہ کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے آبائی حلقہ میانوالی کے حلقہ این اے 95 سے جیتی ہوئی نشست رکھ کر باقی نشستیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔

دوسری جانب کراچی میں ڈیفنس کے دو حلقوں این اے 247 اور پی ایس 111 پر پولنگ 21 اکتوبر کو ہو گی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں