آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں شرکت کیلئے بلجیم کے دارالحکومت برسلز اپنی اہلیہ کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز (FICAC) دنیا کے 90 ممالک کے اعزازی قونصلر اور قونصل جنرلز کی نمائندہ فیڈریشن ہے جس کا 9 رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز ادارے کے انتظامی امور چلاتا ہے۔ FICAC کا قیام اکتوبر 1982ء میں یورپ کے شہر کوپن ہیگن میں عمل میں آیا جبکہ ادارے کا ہیڈ کوارٹر برسلز میں ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے ویانا کنونشن قونصلر ریلیشنز 1963ء کے تحت دنیا بھر میں سفارتی خدمات اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلزاقوام متحدہ اور یورپی یونین میں خصوصی درجہ رکھتی ہے۔ دنیا بھر کے بیشتر ایسے ممالک جہاں اُن کے سفارتخانے نہیں، وہ اپنے ملک کی نمائندگی کیلئے اعزازی قونصل جنرل متعین کرتے ہیں جن کا کام دونوں ممالک میں تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ یہ اعزازی قونصل جنرل معروف بزنس مین اور اہم شخصیت ہوتے ہیں جنہیں دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی رضامندی سے نامزد کرتی ہیں۔ بیگ فیملی کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہماری فیملی کے 4افراد اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے مختلف ممالک کی نمائندگی کررہے ہیں۔ میں پاکستان میں یمن، میری اہلیہ نورین بیگ جمیکا، میرے بھائی اشتیاق بیگ مراکش اور میرا بیٹا عمیر بیگ پولینڈ کے اعزازی قونصل جنرلز ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی اعزازی قونصل جنرلز کارپس پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ قونصلر کارپس سندھ کراچی (CCSK)جس کا میں صدر ہوں، میں 85ممالک کے اعزازی قونصل/جنرلز ممبر ہیں جبکہ قونصلر کارپس پنجاب لاہور (CCPL) میں 49ممالک، قونصلر کارپس کیپٹل اسلام آباد (CCCI)میں 16ممالک کے اعزازی قونصلر اور قونصل جنرلز ممبرز ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 5اور خیبر پختونخوا میں 10اعزازی قونصل جنرلز تعینات ہیں اور اس طرح پاکستان میں مختلف ممالک کے مجموعی 158اعزازی قونصلر اور قونصل جنرلز تعینات ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے موجودہ صدر اکوت ایکن کا تعلق ترکی سے ہے جہاں وہ جمیکا کے قونصل جنرل کی حیثیت سے تعینات ہیں۔ اس بار ورلڈ فیڈریشن کے انتخابات 4سے 7اکتوبر تک بلجیم کے دارالخلافہ برسلز میں منعقد ہوئے جس میں، میں نے قونصلر کارپس سندھ کراچی کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی۔ قونصلر کارپس پنجاب لاہور اور قونصلر کارپس کیپٹل اسلام آباد نے مجھے اختیار دیا تھا کہ میں ان کی طرف سے انتخابات میں ووٹ کاسٹ کروں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات دنیا کے مختلف ممالک میں ہر 3سال بعد ہوتے ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلزکے 100سے زیادہ ممالک ممبرز ہیں جس میں اس بار 53ووٹ دینے کے اہل تھے جس میں سے 50ممالک نے مجھے ووٹ دیا۔ اللہ کا شکر گزار ہوں کہ میں مسلسل چوتھی بار ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے منتخب ہوا جو میرے اور پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں یورپی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے اور اس بار یورپ کے مرکز بلجیم کے شہر برسلز میں ورلڈ کانگریس منعقد ہونے کی وجہ سے یورپی ممالک کے قونصل جنرلز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ہمارے پینل کو سپورٹ کرکے دوبارہ ترکی کے اکوت ایکن کو صدر، قبرص کے کوستالیوکریتس کو نائب صدر، یونان کے نکولس مارگوپولس کو سیکریٹری جنرل اور میرے علاوہ مناکو کے ڈاکٹر سائیلوین کوہن، بلجیم کے فرانسس پیئرز، ناروے کے لیوکریستان، بنگلہ دیش کے آصف چوہدری، سلوینیا کے مارکو اسمول، تیونس کے جلیل بوراوی اور چلی کی مرسڈیز بلادل کو آئندہ 3 سالوں کیلئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کےطور پر منتخب کیا گیا جبکہ بھارت کو اس بار الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی۔ میں مسلسل 10سال سے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز میں پاکستان کی نمائندگی کررہا ہوں۔ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے بورڈ نے مجھے جنوبی ایشیائی ممالک کا ریجنل چیئرمین بھی نامزد کیا ہے جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، بھوٹان، نیپال، مالدیپ اور سری لنکا شامل ہیں جو پاکستان کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے۔ 2010ء میں قونصلر کارپس سندھ کراچی کے صدر کی حیثیت سے میں نے ورلڈ فیڈریشن کے اجلاس کی دبئی میں میزبانی کی تھی جس میں متحدہ عرب امارات کی معزز شخصیات اور دنیا کے اعزازی قونصل جنرلز نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان میں تعینات مختلف ممالک کے قونصل جنرلز بھی شرکت کیلئے دبئی آئے تھے۔ اس موقع پر ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے گالا ڈنر میں، میں نے جدید پاکستان Vibrant Pakistanکی ایک خوبصورت پریذنٹیشن پیش کی تھی جس سے پاکستان کا نہایت مثبت تاثر ابھرا تھا۔

مغربی یورپ کے فنانشل سینٹر برسلز کی آبادی 11.87ملین ہے جس میں بلجیم کی فرانسیسی اور فلی میش کمیونٹی شامل ہے۔ برسلز یورپی کمیشن اور نیٹو کا مرکز بھی ہے جہاں 90فیصد افراد فرانسیسی زبان بولتے ہیں۔ یہ اہم شہر صرف 161اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل ہے جہاں تقریباً 24ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔ بلجیم کے ہیرے اور چاکلیٹ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے میں جب بھی یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کے سلسلے میں برسلز گیا، یورپی یونین میں متعین جیو اور جنگ سمیت مختلف پاکستانی ٹی وی چینلز و اخبارات کے نمائندوں سے ملاقات ہوتی تھی جن سے اس بار بھی ملاقات ہوئی۔ انٹرویوز کے دوران پی ٹی آئی کی نئی حکومت، ملکی معاشی صورتحال، سی پیک منصوبے اور روپے کی قدر میں کمی زیر بحث آئے۔ اس ملاقات میں ممتاز بزنس مین شیخ الیاس نے برسلز کے میئر اور میرے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا جس میں برسلز کے میئر نے ان کی بہو عطیہ کو بلدیاتی کونسلر کا ٹکٹ دینے کا اعلان کیا۔ میں نے اپنی تقریر میں برسلز کی میئر اور ان کی مراکشی نژاد ساتھی خدیجہ زموری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بلجیم میں مقیم پاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ عطیہ کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں۔

ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کے آرگنائزرز نے ورلڈ کانگریس کی مختلف میٹنگز اور گالا ڈنرز برسلز کے تاریخی مقامات پر منعقد کئے جن میں لابویری (La Boverie) میوزیم، 1817ء میں قائم ہونے والی گینت (Ghent)یونیورسٹی، بلجیم کی فیڈرل پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ، فائن اور آرکیٹکچرل آرٹ کے مرکز بوزار(Bozar)، Manneke Pisاور برسلز میں بلجیم کے بادشاہ اور ملکہ کی قدیم رہائش گاہ رائل پیلس شامل ہے۔ 4اکتوبر کو برسلز کے سٹی ہال میں استقبالیہ، 5اکتوبر کو بلجیم کے سینیٹ میں ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کا افتتاحی اجلاس، 6اکتوبر کو ایڈمن پیلس میں انتخابات اور شام کو Egmont Palaceمیں منعقدہ گالا ڈنر ورلڈ کانگریس کی یادگاری تقریبات تھیں جن میں یورپی یونین میں مقیم سینئر سفارتکار، ملک کی معزز شخصیات، نیٹو کمانڈرز، بین الاقوامی بینکوں کے صدور اور دنیا بھر کے اعزازی قونصل جنرلز نے اپنی بیگمات کے ساتھ شرکت کی جن سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔انتخابات کے فوراً بعد نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پہلی میٹنگ میں، میں نے آئندہ سال ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کا پاکستان میں اجلاس منعقد کرنے کی پیشکش کی جس کی بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظوری دیدی ہے۔ 2010ء میں پاکستان میں امن و امان کی ناقص صورتحال کے باعث میں نے ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کا اجلاس دبئی میں منعقد کیا تھا لیکن میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ ورلڈ فیڈریشن آف قونصلز کا اجلاس پاکستان میں ہو اور دنیا بھر کے قونصل جنرلز اپنی آنکھوں سے پاکستان میں بہتر امن و امان کی صورتحال کا مشاہدہ کریں۔ میں آخر میں برسلز میں مقیم اپنے دوست ممتاز پاکستانی بزنس مین عباس خان، ان کی فیملی کی میزبانی، سینئر صحافی خالد حمید فاروقی، ندیم بٹ اور دیگر پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے نمائندوں کی شرکت کا مشکور ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں