آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


  • تحریر: نرجس ملک
  • ماڈلز: عائشہ خان، رابیل، مانشا ملک
  • ملبوسات: رائل کلیکشن
  • زیورات: زیور کلیکشن بائے رضوان مجید
  • آرایش: منیبہ ارشد
  • عکّاسی: ایم کاشف
  • لے آئوٹ: نوید رشید

ایک بہت خُوب صُورت سی نظم ’’بیٹیاں‘‘ پڑھی۔ ؎ ’’مہتاب ہیں، گلاب ہیں، صندل ہیں بیٹیاں.....بادِ صبا ہیں، خُوشبو ہیں، بادل ہیں بیٹیاں.....اس منصبِ جلیل پہ فائز ازل سے ہیں......رحمت خدا کی، پیار کا آنچل ہیں بیٹیاں.....ہر تشنگی کا ایک مکمل جواب ہیں.....ممتا، خلوص، پیار کی چھاگل ہیں بیٹیاں.....ہیں جستجو، تلاش، امانت سماج کی......پلکوں پہ ان کو لیجیے، کاجل ہیں بیٹیاں......جنّت ہے ان کے زیرپا، دنیا کا ذکر کیا.....دونوں جہاں کا حُسنِ مکمل ہیں بیٹیاں.....مہتاب ہیں، گلاب ہیں، صندل ہیں بیٹیاں.....بادِ صبا ہیں، خوشبو ہیں، بادل ہیں بیٹیاں‘‘۔ پھر ایک اور نثری نظم ’’بیٹیاں وفائوں جیسی ہوتی ہیں‘‘ نگاہ سے گزری۔ ؎ ’’تپتی زمین پر آنسوئوں کے پیار کی صُورت ہوتی ہیں.....چاہتوں کی صُورت ہوتی ہیں.....بیٹیاں خُوب صُورت ہوتی ہیں......دل کے زخم مٹانے کو.....آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں.....بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں..... نامہرباں دھوپ میں سایا دیتی..... نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں.....بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں.....چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں.....تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی..... رَدائوں جیسی ہوتی ہیں......بیٹیاں چھائوں جیسی ہوتی ہیں.....کبھی بُلاسکیں، کبھی چُھپا سکیں.....بیٹیاں اَن کہی صدائوں جیسی ہوتی ہیں.....کبھی جُھکا سکیں، کبھی مِٹاسکیں.....بیٹیاں انائوں جیسی ہوتی ہیں.....کبھی ہنسا سکیں، کبھی رُلا سکیں.....بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دُعائوں جیسی ہوتی ہیں.....حد سے مہرباں، بیاں سے اچھی.....بیٹیاں وفائوں جیسی ہوتی ہیں‘‘۔

بلاشبہ، جس طرح کبھی کبھی ایک تصویر، ایک مکمل کہانی ہوتی ہے۔ اِسی طرح بعض اوقات ایک شعر یا چند اشعار ہمارے خیالات، جذبات و احساسات کی ایسی عُمدہ ترجمانی کردیتے ہیں کہ بقول غالب ؎ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔ اولاد کِسے پیاری نہیں ہوتی۔ اولاد کی خاطر تو ہرنی، شیر سے بِھڑ جاتی ہے، چڑیا، سانپ سے لڑ جاتی ہے۔ وہ ہے ناں ؎ پہلے ڈرتی تھی، اِک پتنگے سے.....ماں ہوں، اب سانپ مار سکتی ہوں۔ تو اولاد تو والدین کی ایک ایسی کم زوری، دُکھتی رگ ہے کہ اس کی خاطر مضبوط سے مضبوط، بہادر سے بہادر باپ کو ریزہ ریزہ ہوتے پَل بھر نہیں لگتا، تو کم زور سے کم زور، ناتواں سے ناتواں ماں کو پہاڑ، چٹان بنتے بھی دیر نہیں لگتی۔ یوں ہی تو اولاد کو ’’آزمایش‘‘ نہیں کہا گیا اور بہ خدا، کوئی والدین کے درجے پر فائز ہوکے، ماں، باپ بننے کا درد سہہ کے تو دیکھے، بے شک اس سےبڑی آزمایش کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ زندگی کے سارے فلسفے، کُلیے، فارمولے، حقائق، فسانے، باتیں، حکایتیں، اصول، ضوابط، دعوے، وعدے اِک اولاد کی خوشی کے آگے مٹّی کا ڈھیر ہیں۔ سب اِک طاق میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ کوئی کتنا بڑا پہلوان ہو، عقاب کی نگاہ، شیر کا جگرا رکھتا ہو، بات اولاد کی آجائے، تو دل ایسے پگھلتا، نگاہ ایسے نیچی ہوتی ہے، جیسے کوئی کٹھ پُتلی، مٹّی، موم کا باوا ہو۔ اور اولاد میں بھی اگر بات بیٹی کی ہو، تو مائیں تو ویسے ہی اُن کی سکھیاں، سہیلیاں ہوتی ہیں۔ باپوں کے لیے بھی ان کے ہونٹوں سے نکلی اِک اِک خواہش، فرمایش کی تکمیل گویا مقصدِ حیات کا درجہ رکھتی ہے۔ 

اور خدا نہ خواستہ جو کبھی کسی بات پر اُن کی آنکھ بھر آئے، کوئی آنسو چھلک جائے (حالاں کہ لڑکیوں کے آنسو تو جیسے اُن کی پلکوں پہ دھرے ہوتے ہیں۔ گڑیا کا بازو ٹوٹ گیا، کلائی میں پہنی چُوڑی چٹخ گئی، دوپٹا صحیح رنگا نہ گیا، جوتے کا اسٹریپ نکل گیا، بھائی نے پونی کھینچ لی، ہاتھ سے گر کےکوئی برتن ٹوٹ گیا یا کچھ بھی نہ ہوا ہو، بھل بھل رونا تو جیسے ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے) تو بس پھر تو جیسے قیامت آگئی۔ ماں باپ کا بس نہیں چلتا کہ ’’لاڈو پَری‘‘ کے آنسو، اپنی پلکوں سے چُن لیں۔ شاید اس لیے کہ ؎ بیٹیاں زخم سہہ نہیں پاتیں.....بیٹیاں درد کہہ نہیں پاتیں.....بیٹیاں آنکھ کا ستارہ ہیں.....بیٹیاں درد میں سہارا ہیں.....بیٹیوں کا بدل نہیں ہوتا.....بیٹیوں سا کنول نہیں ہوتا.....خواب ہیں بیٹیوں کے صندل سے.....اُن کے جذبات بھی ہیں مخمل سے۔

تو جناب، آج ہم نے اپنی بزم، بابل کے آنگن کی ان ہی چہچہاتی چڑیوں، منمناتی بکریوں، مُسکاتی، مُسکراتی کلیوں، ننّھی پریوں، امن کی فاختائوں، چھوئی موئی سی بیٹیوں کے لیے، خاص طور پر بابل کی گلیوں سے پیا دیس سدھارنے کے سفر کی شروعات ’’عروسی ملبوسات‘‘ کے کچھ حسین و دل کش رنگ و انداز سے مرصّع کی ہے۔ ذرا دیکھیے تو، سلور، ٹی پنک، گہرے سبز، آسمانی اور خالص روایتی اور سدابہار گہرے سُرخ رنگ کے عروسی پہناووں نے پوری بزم میں کیسی آگ سی دہکا رکھی ہے۔ اوپر سے تمام تر عروسی کیل کانٹوں سے (بھاری بھرکم زیورات، سولہ سنگھار) آراستگی و پیراستگی کے سبب تو ان ’’دُلہن رانیوں‘‘ پر گویا نگاہ ٹھہرنا مشکل ہے۔ وہ ہے ناں ؎ اب انہیں اپنی ادائوں سے حجاب آتا ہے.....چشم بد دُور، دلہن بن کے شباب آتا ہے۔

والدین تو ویسے ہی اپنی شہزادیوں، مَن آنگن کی پریوں کی اِک اِک ادا پر فدا ہی رہتے ہیں اور پھر بات ہو، اُن کی زندگی کے سب سے خُوب صورت، حسین و یادگار دن، موقعے کی، تو پھر تو جو کچھ اُن کے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ بھی کرگزرتے ہیں۔ سو، اب آپ کی نازوں پَلی، اپنے خاص الخاص دن کے لیے، اِن میں سے، جس بھی پہناوے پر ہاتھ رکھ دے، لے کر تو دینا ہی پڑے گا۔ تاکہ آپ کی بٹیا رانی آئینہ دیکھ کے خود شرما جائے۔ مہندی رَچی ہتھیلیوں سے چہرہ چُھپائے اور گُنگنائے ؎ زندگی خوابوں کی چلمن میں یوں اِٹھلاتی ہے.....جیسے سَکھیوں میں گِھری ہو، کوئی شرمیلی دُلہن۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں