آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عام طور پر جب بھی کوئی ملتا ہے حال احوال میں پوچھا جاتا ہے کیسے ہو؟ میرا جواب ہوتا ہے، میں خوش ہوں اور سب ٹھیک ہے۔ اکثر لوگوں کو میراجواب پسند نہیں آتا یا ان کو سمجھ نہیں آتا اور کچھ لوگ اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں” او آپ خوش ہیں“ اور اس کے بعد تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ زندگی اتنی مصروف اور تیز ہے کہ وقت کی تیزی ان کے اختیار سے باہر ہوتی ہے کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے۔ وقت کم ہے اور مقابلہ زیادہ اور جب مقابلہ ہو تو خوشی کیسے ہوسکتی ہے۔ ایمان داری کی بات ہے میں ذرا دیر کو سوچتا ہوں اصل مزا اور خوشی تو مقابلہ میں ہوتی ہے۔ ہمارا سارا سماج شدید مایوسی کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ غیر یقینی صورتحال ہے ہماری سرکار فیصلے کرنے میں تاخیر کر دیتی ہے یا پھر کار سرکار کے بابو قوت فیصلہ کے حوالہ سے بااختیار نہیں۔ مفادات کی سیاست نے سرکار کی قوت اور اختیار کو مشکوک کر دیا ہے اور اس میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے ہمارا کل جو گزر گیا وہ قابل رشک نہیں۔ ہمارا آج غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے اور کل کی بات اس پر ذکر اور فکر بہت ہے مگر عملی کوشش کوئی نہیں۔ اصولی طور پر اس سرکار کی مدت آئندہ مارچ میں مکمل ہو رہی ہے مگر حکومت کوئی روڈ میپ دینے کو تیار نہیں۔ ایسے میں جب یہ ذکر میڈیا پر ہو کہ کیا ہوگا اور کیا ہوسکتا ہے اور مایوسی

کی بنیادی وجہ صرف یہ ”کیا ہوگا“ ہوتی ہے۔
اور جب میں کہتا ہوں کہ میں خوش ہوں اور سب ٹھیک ہے تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں خوش ہوں اور خوش رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور میرے اردگرد بھی سب ٹھیک ہی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں نے کوشش کرکے اپنی خواہشات کو اپنی مرضی اور منشا کے تابع کر لیا ہے اگرچہ ایسا کرنے کے لئے تھوڑی سی ریاضت بھی کرنی پڑی۔ مگر میرے لئے آسانی ہوگئی اور زندگی خوشگوار اور پرامید نظر آنے لگی۔ میں چند دن پہلے ایک کتاب پڑھ رہا تھا، کتاب بہت ہی دلچسپ تھی، میں جب کتاب کو دیکھتا ہوں تو اس کو جگہ جگہ سے پڑھتا ہوں اور وہ مزاج کے مطابق ہو اور پڑھنے کا مزادے، تو میں شانت ہو جاتا ہوں اور کتاب کی تحریر کا لطف اس وقت بھی حاصل کرتا ہوں جب وہ زیر مطالعہ نہیں ہوتی۔ اس کے جملے اس کی کہانی ایک خیال اور خواب کی طرح آپ کو خوشی دیتی ہے۔ ایسا ہی لطف اچھی شاعری پڑھنے سے ملتا ہے۔ اگر آپ کا استاد یا مرشد یا صاحب علم آپ کو قرآن کی آیت پڑھنے کو بتاتا ہے اور آپ کو اس پڑھائی کا مفہوم بھی معلوم ہے تو بار بار پڑھنے سے آپ کو تسلی اور تشفی کا احساس ہوتا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ آپ کی زندگی کا چلن بھی بدلنے لگتا ہے مگر ضروری یہ ہے کہ آپ ذہنی آسودگی کے ساتھ اس عمل سے گزر رہے ہوں۔ میں جس کتاب کا ذکر کر رہا تھا وہ آپ بیتی اور جگ بیتی ہے۔ جگ کی کہانی میں اپنا عکس دیکھنا خیر اس کتاب کا ایک جملہ میرے دل و دماغ پر نقش سا ہوگیا اور جب میں آج کل میڈیا کے کردار اور قول و فعل کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ جملہ بڑا بامعنی لگتا ہے۔ وہ جملہ کچھ یوں تھا ”پاکستان کا میڈیا مایوسیوں کا ایک زچگی خانہ ہے“۔ اس جملہ میں میڈیا کا کردار ذرائع، ابلاغ کے حوالہ سے ہے اور میں کئی دن سے اس جملے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہوں۔ ہمارے سماج میں شدید مایوسی کا کارن کیا صرف ہمارا میڈیا ہے اور پھر میڈیا یاذرائع، ابلاغ کے لئے کیسے ممکن ہے کہ وہ علیحدہ ایسی بات کا پرچار کرتے جو خوش خیالی ہی ہو۔ معاشرہ میں مایوسی کی بنیادی وجہ عدم برداشت ہے۔ اصل میں جملہ اس طرح سے بنتا ہے عدم برداشت کی وجہ سے میڈیا مایوسیوں کا ایک زچگی خانہ ہے اور حقیقت بھی یہ ہے برداشت کی کمی اصل میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ ہوتی ہے۔
ہماری زندگیوں میں خواہشات کا انت نہیں۔ ہمارے سیاسی نیتا، ہماری سرکارآئے دن اپنی خواہشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ذرائع ابلاغ ان خواہشات کی تشہیر کرتے ہیں اور ویسی ہی خواہشات عوام کے دلوں میں جنم لینے لگتی ہیں جبکہ وہ خواہشات ایسی ہوتی ہیں بقول شاعر:
خواہشیں اتنی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
سرکار اور سرداوں کا دم تو کیا نکلنا۔ دم تو بے چارے عوام کا نکلتا ہے اور وہ دم دیتے دیتے بے دم ہو جاتے ہیں۔ سرکار یا سردار عوام کو دلاسہ اور حوصلہ تو دے سکتے ہیں دلاسہ اور ہمدردی کے لئے تو قرض لینے کی ضرروت نہیں مگر کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں عوام کے لئے دلاسہ اور حوصلہ نہیں ہے۔ وہاں بھی خواہشات کا ایک دفینہ دکھایا جاتا ہے کہ یہ کر دیں گے۔ ہماری سرکار اور سیاست دان لفظ کوشش سے ناآشنا ہیں۔ نہ وہ کوشش کرتے ہیں نہ سوچتے ہیں کہ کوشش تو کریں ۔ ہاں اگر کوشش نظر آتی ہے۔ تو ہمارے طالب علموں میں ان کو معلوم ہے کہ تعلیم کی قدر نہیں۔ نوکری ملنی مشکل ہے مگر وہ کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوشش کے بعد خواہش کرنا عین تقاضا ایمان ہے ہم نہ صاحب نظر ہیں اور نہ صاحب ایقان۔ ایسے میں خوشی کی تلاش لاحاصل ہے۔ ہم سب اپنے پر ہنس بھی نہیں سکتے۔ دوسروں کے لئے ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے ۔ ہماری عدلیہ کوشش کر رہی ہے کہ اس ملک میں اصول اور قانون کا بول بالا ہو۔ ہم سب کی کوشش ہوتی ہے کہ تنقید کریں اور دکھ کا اظہار کریں کہ اصول اور قانون کا تذکرہ عدالت کر رہی ہے۔ ہماری خواہشات میں ہمارے ارادے پوشیدہ ہوتے ہیں اور جو مفادات اور حق تلفی میں فرق نہیں کرتے۔ مجھے مرحوم جسٹس کیانی کی بات یاد آرہی ہے ان کا کہنا تھا کہ ”ایک جج مسکرا بھی نہیں سکتا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار فوراً کہہ دے گی، جج انصاف کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ سو ہمارے یہاں اگر عدلیہ سنجیدہ ہو تو سرکار غیر سنجیدہ ہو جاتی ہے۔
ہمارا پاکستانی معاشرہ ایک بے چارہ سماج ہے۔ اس کی بے چارگی کا یہ عالم ہے کہ اس میں رہنے والے لوگ دیکھنے، سوچنے اور بولنے سے معذور لگتے ہیں۔ ہاں ان کے ہاں جگہ جگہ معذرت کا اظہار ہوتا ہے، وہ معذرت، بے چارگی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس بے چارگی کی وجہ سے عوام بے حس سے ہوگئے ہیں۔ ایسے میں خوش رہنا اور خوشی حاصل کرنا از حد مشکل سا تصور ہے۔ مانا یہ زوال کا زمانہ ہے مگر وقت رکتا نہیں اور نہ ہی اس کو کوئی روک سکتا ہے جب میں بیرون ملک اپنے پاکستان کے تارکین وطن کو دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم سب اس دھرتی کی فکر میں پریشا ن رہتے ہیں مگر کچھ کر نہیں پاتے۔ وہ باہر خوشی خوشی مشقت کرتے ہیں اور پاکستان کا سوچتے رہتے ہیں۔ ان کی سوچ ہی ان کو خوش رکھتی ہے وہ خواب و خیال میں پاکستان میں امن ترقی اور آزادی دیکھتے ہیں۔ مجھے ایک اندھے معذور شخص کا معلوم ہے جو اس بے حس معاشرہ میں زندہ اور توانا ہے۔ وہ شخص ہر رات کو سونے سے پیشتر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے مولا میرے لئے نیند میں سکون اور خواب بھر دے۔ کسی اندھے معذور شخص کے لئے نیند میں خواب اس کے لئے خوشی اور توانائی ہوسکتے ہیں تو پھر یہ مایوس معاشرہ خواب کیوں نہیں دیکھتا اپنے خیالوں اور خوابوں کا تذکرہ کیوں نہیں کرتا۔
اصل میں خوشی اور قرار کیلئے شکر بہت ہی ضروری ہے ہمارے ہاں ساری توجہ صبر پر دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ملے تو شکر کرو نہ ملے تو صبر کرو۔ یہ سبق انسانوں کے لئے نہیں ہے۔ اصل میں حقیقت اور خوشی یہ ہے کہ نہ ملے تو اللہ کا شکر ادا کرو اس میں کوئی حکمت ہوگی اور مل جائے تو بانٹ دو۔ تقسیم کر دو کیونکہ تم کو مولا نے اس کام کیلئے مقرر کیا ہے۔ ہمارے خیرات اور صدقات میں لوگ پیش پیش ہوتے ہیں مگر اس سے خوشی نہیں ملتی۔ بس خوشی اور ذہنی آسودگی کیلئے ضروری ہے کہ خواہشات کا انت نہ ہو اور ہر وقت شکر کا ذکر اور جاپ ہو۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں