آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کے لیے اسلام کے سنہرے اصولوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے عدالتی نظام کو شفاف بنانے کے حوالے سے حالیہ ریمارکس خوش آئند ہیں۔عدلیہ سمیت دیگر اداروں میں خرابیاں موجود ہیں جن کو دور کرکے عدالتی نظام کو فعال اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ موجودہ عدالتی نظام میں پیچیدگیوں کی وجہ سے پورے ملک میں لاکھوں مقدمات التوا کا شکار ہیں۔عدالت عظمیٰ،صوبائی ہائیکورٹس اور دیگر عدالتوں میں لوگوں کو جلد انصاف نہیں مل پاتا جس کی وجہ سے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ان حالات میں چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار کاعدالتی نظام کی اصلاح کے حوالے سے بیان حوصلہ افزا ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ اب عدالتی نظام کی بہتری کے لیے پیش رفت بھی ہوگی۔ بروقت انصاف کا حصول ہر شہری کابنیادی حق ہے مگر بدقسمتی سے سائلین کے ساتھ ایسانارواسلوک کیاجاتا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ لوگ اپنے ساتھ ظلم وزیادتی ہونے پر کئی کئی برس تک مقدمات کا سامنا کرتے ہیں۔نچلی سطح پر عدالتی عملے کے ساتھ وکلاکی ملی بھگت کے باعث جن مقدمات کافیصلہ دنوں اور ہفتوں میں ہونا چاہئے وہ کئی کئی مہینوں اور برسوں پر محیط ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوجاتا ہے۔ عدلیہ اورپولیس کے شعبوں میں بہتری لے آئیں تو ملک میں حقیقی معنوں میں تبدیلی آسکتی ہے۔ایسی مثالیں پہلے بھی ہمارے سامنے موجود ہیں کہ بے گناہ افراد جب عمر قید کاٹ چکے ہوتے ہیں تو ان کی بے گناہی بعد میں ثابت ہوتی ہے۔یہ عدالتی نظام اور تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر بڑاسوالیہ نشان ہے۔ ملک میں تمام اداروں کواپنی اصلاح کرنی ہوگی تاکہ عدل وانصاف کا بول بالا ہوسکے۔دنیا میں وہی ملک ترقی کرتے ہیں جہاں عوام کوبروقت انصاف ملتا ہے۔عدل وانصاف سے محروم معاشرہ ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہوتاہے۔ بحیثیت مسلمان قرآن وسنت کانظام مکمل طورپر ہماری رہنمائی کرتاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انگریزوں کے عدالتی نظام کو تبدیل کرکے اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔

عدالتی نظام کی اصلاح کے سا تھ ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بھی مشترکہ کو ششیں کر نی چاہئیں۔اب ایک مرتبہ پھر امریکہ کی جانب سے قوم کی بیٹی کی رہائی کی امیدجاگی ہے۔ اب حکومت پاکستان کی طرف سے یہ موقع ضائع نہیں ہوناچاہئے۔ سابقہ حکومتوں نے ڈالر کو غیرت پر ترجیح دی مگر معاشی بحران بد سے بدتر ہوتا گیا۔ہمارے وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران پاکستان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عافیہ کو قوم کی بیٹی کہا اور واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا مگر معروف امریکی نشریاتی چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں امریکہ کی ڈیمانڈ شکیل آفریدی کا تو ذکر کیا مگر عافیہ کا نہیں، امت مسلمہ کی اس معصوم اور مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ کیلئے عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی مسلسل قو م کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔گزشتہ سال جنوری، 2017ء میں سبکدوش ہونے والے امریکی صدر براک اوباما حکومت پاکستان کے ایک خط کے بدلے عافیہ کو صدارتی معافی کے تحت رہا کرنے کیلئے تیار ہوچکے تھے۔عافیہ کے امریکی وکلاء اسٹیون ڈاؤنز اور کیتھی مینلے 19 جنوری کی شام تک سابق صدر ممنون حسین یا سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایک خط کے منتظر رہے تھے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انہیں امریکی جیل حکام کھانے میں زہر ملا کر دے رہے ہیں جبکہ انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اتنے برس میں پہلی مرتبہ اپنے جیل کے حالات اور جیل میں پیش آنے والے سلوک سے متعلق بات کی ۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع خواتین کی جیل فیڈرل میڈیکل سینٹر کارس ویل (FMC Carswell) میں قید کی سزا کاٹنے والی پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ملاقات کی ہے جس کی تفصیل 24مئی 2018 ء کو پاکستانی دفتر خارجہ کو بھجوائی گئی۔ قونصل جنرل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ جیل اسٹاف سے بہت خوفزدہ ہیں لیکن اس سب کے باوجودپرامید دکھائی دیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بتایا کہ میں ذہنی اور نفسیاتی طور پر بالکل ٹھیک ہوں ۔ جیل حکام مجھے کھانے میں زہر دے رہے ہیں اور مجھے عملے کی جانب سے ہراساں بھی کیا جارہا ہے۔قونصل جنرل کی رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی مسٹر ای مییئرز نامی صرف ایک اسٹاف ممبر پر اعتماد کرتی ہے لیکن وہ اس سے مدد کی باربار اپیل اس خوف سے نہیں کرتی کہیں وہ مشکل کا شکار نہ ہوجائے۔ قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا وہ ایمیل ریسو کرتی رہی ہیں تو عافیہ نے کہا کہ یہ سب جعلی ایمیل ہیں، اصلی ایمیل ہتھیا لی گئی ہے۔ عافیہ نے پاکستانی قونصل جنرل سے اصرار کیا کہ وہ رپورٹ کریں کہ وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر تندرست ہیں اور ان کی ذہنی حالت بھی درست ہے۔ قونصل جنرل نے عافیہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے 2011 ء میں جج کو لکھا تھا کہ آپ اپنے خلاف سنائے گئے فیصلے کو چیلنج نہیں کرنا چاہتیں تو عافیہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں ! کیونکہ مجھے یہاں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں تھی۔ امریکی سپریم کورٹ میں ان کا کیس وکلا کی نااہلی کی وجہ سے ضائع ہوا۔ ڈاکٹر عافیہ نے آصف حسین نامی ایک شخص جو اس وقت کے امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کا پی اے بتایا جاتا ہے، پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس کیس کے ٹرائل کے لئے 2010ء میں پاکستانی حکومت کی جانب سے دئیے گئے دو ملین ڈالرز ہڑپ کئے۔ڈاکٹر عافیہ کا مزید کہنا تھا کہ سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی اس رقم کی خوردبرد میں شامل ہوسکتے ہیں۔ عافیہ کے بقول حسین حقانی ان کی مدد میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ڈاکٹر عافیہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف مسلسل غلط معلومات پھیلائی جاتی رہیں، ان کا کسی بھی کالعدم گروہ سے تعلق نہیں تھا اور نہ اس شخص سے جو 2011 ء میں سمندر میں پھینکا گیا، ان کا اشارہ اسامہ بن لادن کی طرف تھا۔ قونصل جنرل نے جیل اسٹاف سے اجازت مانگی کہ انہیں عافیہ کی تصویر لینے دی جائے تاکہ وہ ان کی والدہ کو بطور ثبوت پیش کرسکیں کہ ان کی بیٹی زندہ ہے تو اسٹاف نے کیمرا نہ ہونے کا بہانہ کیا۔ قونصل جنرل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عافیہ بھی اپنی تصویر بنوانے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ سے کہا کہ وہ اپنا کوئی ایسا (نِک نیم )عرفیت بتائیں جس سے آپ کی والدہ نے آپ کو پکارا ہو اور اب انہیں وہ سن کر یقین آجائے کہ یہ صرف عافیہ ہی بتا سکتی ہیں۔ قونصل جنرل کے مطابق بہت سوچنے کے بعد عافیہ صدیقی نے کہا کہ ان کے والدین اکثر انہیں عفو رانی کہہ کر بلاتے تھے۔ پھر عافیہ نے اردو میں ایک مختصر پیغام اپنی والدہ کے نام ریکارڈ کروایا جسے قونصل جنرل نے اپنے تفصیلی نوٹ کے ساتھ تحریری طور پر شامل کیا۔ قونصل جنرل نے 12صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ کے آخری دو صفحات میں تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں عافیہ کے ان تمام الزامات کو سنجیدہ لے کر اعلیٰ سطح پر ان کی مدد کرنی چاہئے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں