آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کو ابھی یہ سمجھ نہیں آرہی کہ سیاسی حالات کو ہینڈل کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی فرنٹ کے معاملات کیسے ہینڈل کئے جائیں۔ یہ بات قابل تعریف ہے کہ اس وقت حکومت کے ریڈار پر اربوں بلکہ کھربوں روپے کی حالیہ دو دہائیوں میں لوٹ مار کی واپسی پر سب سے زیادہ فوکس اور ایکشن نظر آرہا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی داخلی اور بیرونی سطح پر معاشی مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ابھی اس حد تک ترقی یافتہ نہیں ہوا کہ بڑے بڑے بحران یا مسائل کے باوجود معیشت کا نظام ٹھیک سمت میں چلتا رہتا ۔ یہاں تو عام شخص سے لے کر پوری ریاست تک کو اپنی روزمرہ معیشت یا معاشی حالات بہتر بنانے کی فکر لگی رہتی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ سیاسی امور اور انتظامی امور سے زیادہ اہمیت معاشی امور کو دے کیونکہ معیشت کا پیسہ صحیح سمت اور تیزی سے چلے گا تو اس سے خود بخود جمہوریت کی گاڑی بھی چلتی رہے گی، البتہ کرپٹ سیاسی نظام کی بدولت اس گاڑی کو اکثر و بیشتر جھٹکے لگتے رہیں گے۔ اس میں زیادہ قصور جمہوری نظام کا حصہ بننے والی جماعتوں اور لیڈروں سے زیادہ عوام کا ہے جو الزام تراشی کی سیاست سے متاثر ہوکرPANICہوجاتے ہیں اور ایسے محسوس کرنے لگتے ہیں جیسے یہ حکمران ابھی گئے کہ ابھی گئے یا آج نہیں تو کل ہی چلے جائیں گے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے، اس کے لئے اب پی ٹی آئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی اکثریت نے انہیں اقتدار دلوادیا۔ اب اس کے بدلے میں وہ اپنا ہائوس ان آرڈر کریں اور کھربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں کے گرد گھیرا ضرور تنگ کریں، مگر عوام اور بزنس سیکٹر خاص کر کارپوریٹ سیکٹر کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ پہلے یہ کبھی نہیں کہ کسی نئی حکومت کے آنے کے دو ماہ کے اندر ہی کئی کارپوریٹ کمپنیاں بشمول غیر ملکی انویسٹرز گروپ اپنی مستقبل کی بزنس توسیع کے پلان کچھ ماہ کے لئے مؤخر کردیں یا آٹو سیکٹر میں ڈالر کی قیمت میں مصنوعی اضافہ کو بنیاد بنا کر چند دنوں یا ہفتوں کے لئے اپنی حکمت عملی پر کام سست کردیں۔ اس طرح پچھلے دنوں جب پہلے اسٹاک مارکیٹ کا بحران ہوا اورپھر ڈالر کی قیمت مصنوعی طریقے سے بڑھی تو وزیر اعظم کو چاہئے تھا کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات کراتے کہ یہ کون سی وجوہ اور عناصر ہیں جن کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا، ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے حکومت کو تو اربوں روپے کا نقصان ہوا، مگر فائدہ کن کن عناصر نے اٹھایا یا اس کے پیچھے کوئی اقتدار سے محروم سیاسی قوتیں تو نہیں تھی یا کوئی بین الاقوامی ایجنسی یا غیر ملکی حکومتوں کا گروپ جو پاکستان میں نئی حکومت کو پہلے چند ماہ ہی میں غیر مستحکم کرکے اپنے غیر علانیہ مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ ملک میں سیاسی فضا کو بہتر بنانے اور معاشی معاملات کو ٹھیک سمت میں لانے کے لئے خود گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر عوام کو نظر آئیں۔ وہ ہر پندرہ بیس دن کے بعد خود ریڈیو یا ٹی وی پر عوام سے مخاطب ہوں(جیسے امریکی صدر کرتےہیں)اور اپنے وزراء سے کہیں کہ وہ متنازع امور پر بیان بازی نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔ اس لئے کہ یہ بات سب وزراء کی سمجھ لینی چاہئے کہ عوام نے صرف عمران خان کی ووٹ دیا ہے اور وہ انہی کی بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت حکومت کے وزراء کو اپوزیشن بڑے گرینڈ پلان کے ذریعے سیاسی اختلافات اور نان ایشوز میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے جس سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کی عدالت میں نئے قرضہ کا کیس لے کر جاچکا ہے۔ یہ قرضہ پاکستان کو مل جائے گا۔ بس ا س سلسلہ میں اس بات کی احتیاط کرنا پڑے گی کہ اس کے عوض پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے ایجنڈے کے برعکس کوئی ا یسی شرط نہیں ماننی چاہئے جس کی قیمت کل کلاں قوم کو ادا کرنا پڑے۔ آئی ا یم ایف کا نیا قرضہ لینے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، ویسے بھی یہ تین چار سال کی مدت کے لئے ملنا ہے جس کے آتے ہی پرانے قرضوں پر عائد سود اور اصل زر کی واپسی میں تیزی آجائے گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں