آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کتاب کا عاشق حکمران، سلطان محمد القاسمی

حکمرانوں میں کتاب کے عاشق شاید کچھ اور بھی ہوں لیکن کتب بینی کو عام کرنے میں جو کردار شارجہ کے حکمران ہزہائی نیس ڈاکٹر سلطان محمد القاسمی کا ہے، وہ قابل تقلید ہے۔ ہمارے ہاں عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گلف کے حکمران اپنے عوام کو کتاب سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ کتب بینی کہیں ان کی سوچوں کو اسٹیٹس کو کے خاتمے کی طرف نہ لے جائے لیکن سلطان محمد القاسمی کتاب کے عاشق ہیں اور وہ اس عشق کو عام کرنے میں بے پناہ وسائل استعمال کر رہے ہیں، وہ تاریخ کے طالب علم ہیں، ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی اسی مضمون میں ہے۔ وہ گھر گھر کتاب پہنچانے کے لئے ہر مقامی شخص کو پانچ ہزار درہم کتابوں کی خرید کے لئے دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک خوبصورت ریک بھی ہوتا ہے۔ مصر میں ایک عظیم الشان لائبریری تھی جس میں قدیم مصری تہذیبی ورثہ سے متعلق کتابوں کا ایک خزانہ تھا، لائبریری کو آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں عمارت کے ساتھ کتابیں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔ سلطان محمد القاسمی ”بک کلیکٹر“ بھی ہیں اور یوں ان کے پاس نہایت نادر کتابوں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے مصر کی خاکستر شدہ لائبریری کی عمارت ازسرِ نو تعمیر کرائی اور سات ہزار نادر کتابیں اپنے ذخیرئہ کتب سے بھی لائبریری کو عطیہ کیں۔ سلطان محمد القاسمی ہر سال شارجہ میں ایک عالمی

کتاب میلہ بھی منعقد کرتے ہیں جس میں بلامبالغہ لاکھوں کروڑوں درہم خرچ ہوتے ہیں۔ دس دن تک جاری رہنے والے اس میلے میں پورا شارجہ ”کتاب گھر“ لگنے لگتا ہے، سارے شہر میں میلے کے بینر اور مصنّفین کے خوبصورت اقوال والے پوسٹر نظر آتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ سلطان کو اسلامی ثقافت سے بھی عشق کی حد تک لگاؤ ہے چنانچہ شارجہ میں داخل ہوتے ہی عمارتوں کے نقش و نگار اور دوسرے مظاہر سے اس کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ شارجہ کو آپ ایک حد تک اسلامی ریاست قرار دے سکتے ہیں، اس کے وسائل بہت محدود ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے وسائل میں اضافہ کے لئے سلطان القاسمی نے اسے سیاحوں کا ایسا شہر نہیں بننے دیا جو اس کی اسلامی پہچان کے منافی ہو، مگر حیرت کی بات ہے کہ میں نے یہاں سیاحوں کی بھرمار دیکھی جس سے یہ بات غلط ثابت ہوتی نظر آئی کہ شراب و کباب کے بغیر سیاحت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا تاہم میری ان سطور سے یہ اندازہ نہ لگایا جائے کہ شارجہ شاید ”منصورہ“ میں واقع ہے کیونکہ یہ ایک لبرل ریاست ہے، یہاں لباس، موسیقی، رقص وغیرہ پر کوئی پابندی نہیں چنانچہ حالیہ کتاب میلے میں نوجوان لڑکے لڑکیاں دف کی تھاپ پر علاقائی رقص کرتے اور میلے کی رونق میں اضافہ کرتے نظر آ رہے تھے۔ یہاں ایک خوش آئند بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ سلطان کے فنانشل ایڈوائزر جناب عزیز الرحمن پاکستانی ہیں اور یوں کتاب کلچر کے بالواسطہ فروغ میں انہیں بھی مبارکباد دی جا سکتی ہے۔
میں اس دفعہ بہت عرصے بعد شارجہ گیا تھا چنانچہ میرے لئے شارجہ کو پہچاننا مشکل ہو گیا۔ یہ شہر پہلے سے دس گنا زیادہ خوبصورت ہو گیا ہے، سب سے اچھی بات یہ کہ اس کے نقش و نگار میں ایک ثقافتی ”ٹچ“ ہے اور اس میں گھومتے پھرتے ہوئے لگتا ہے ہم ایک زندہ ثقافت کے کردار ہیں اور جہاں تک شارجہ حکومت کے زیر اہتمام منعقدہ 31ویں عالمی کتاب میلے کا تعلق ہے مجھے زندگی میں متعدد مرتبہ پاکستان اور بیرونِ پاکستان منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کا موقع ملتا رہا ہے لیکن جو دلی سکون اور راحت شارجہ میں منعقد ہونے والے اس انٹرنیشنل بک فیئر میں میسر آئی، اس کا جواب نہیں تھا۔ اس کتاب میلے میں دنیا کے ستر ممالک کے مصنّفین کو مدعو کیا گیا تھا اور اس بار اس کا فوکس پاکستان تھا۔ پاکستان کے ممتاز اشاعتی اداروں نے بھی یہاں اپنے اسٹال لگائے جہاں کتاب شائقین کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے رہتے تھے۔ انڈیا کے اشاعتی ادارے بھی کثیر تعداد میں یہاں نظر آئے۔ انڈین قونصلیٹ متواتر اور مسلسل ان سے رابطے میں تھا جبکہ پاکستان کی صورتِ حال اس سے مختلف تھی اور اس کا ذکر آگے آئے گا۔
کتاب میلے ہمارے ہاں بھی لگتے ہیں اور بہت کامیاب رہتے ہیں، ان میلوں میں کتاب کے لئے لوگوں کا ذوق و شوق دیکھ کر بعض پبلشروں کے اس خیال سے اتفاق ممکن نہیں رہتا کہ کتاب فروخت نہیں ہوتی۔ تاہم ہمارے کتاب میلوں میں نظم و ضبط کا وہ معیار نظر نہیں آتا جو شارجہ کے بین الاقوامی کتاب میلے میں دکھائی دیا۔ سب کام نہایت سکون سے ہو رہے تھے، ہر چیز پہلے سے طے تھی، انتظامات ترتیب دیتے وقت معمولی جزئیات تک کا خیال رکھا گیا تھا۔ یہاں دنیا کے مختلف ملکوں کے ادیب اپنے قارئین سے مکالمہ کر رہے تھے، ہر ایک گھنٹے کے بعد رائٹر اور اس کے سامعین بدل جاتے تھے تاہم آپ کسی بھی ملک کے ادیب کی محفل میں شریک ہو سکتے تھے۔ کتاب میلے میں مہمان ادیبوں کے لئے ایک ایک علیحدہ کمرے میں ریفرشمنٹ کے وی آئی پی انتظامات موجود تھے۔ مہمانوں کو جن پانچ ستاروں والے ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا تھا، وہاں آفیسر مہمانداری متعین تھے جو ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ مہمانوں کے لئے کار اور شوفر کی سہولت بھی موجود تھی اور یہ سب کام بغیر کسی بھگدڑ کے نہایت پُرسکون ماحول میں ہو رہے تھے۔ یہ ناانصافی ہو گی اگر ان اعلیٰ انتظامات کا کریڈٹ شارجہ کتاب میلے کے ڈائریکٹر احمد رکعات الماری اور ان کے رفقاء کو نہ دیا جائے۔ میری ان سے ملاقات ہوئی، ایک ہینڈسم نوجوان، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کلچرڈ۔سو اس 31ویں کتاب میلے کی بہار ہی کچھ اور تھی۔
یہاں 900اسٹال تھے اور تقریباً تین لاکھ افراد روزانہ یہاں ”وزٹ“ کرتے تھے۔ میں جب پاکستانی اسٹال پر پہنچا تو ہر شخص کی زبان پر قمر زیدی کا نام تھا۔ قمرزیدی کو میں عرصہ دراز سے جانتا ہوں۔ ویلکم بک کے حوالے سے ان کا نام بہت بڑا ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہر زبان پر ان کا نام کس حوالے سے ہے۔ پتہ چلا کہ اس میلے میں پاکستان کی شرکت اور اسے خواص و عوام کی توجہ کا مرکز بنانے میں ہمارے پاکستانی قونصلیٹ کا نہیں بلکہ قمر زیدی اور ان کے دوستوں کرنل سفیر انجم اور عبدالرشید صاحب کا ہاتھ ہے۔ ان کے علاوہ ایک نوجوان اسد شوکت بھی پاکستانی مندوبین سے مسلسل رابطے میں رہا۔ میں یہاں دو کرداروں کا خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں ان میں سے ایک مادام الزبتھ ہول (ELISABET HOHL) اور دوسرے صدیق عبداللہ تھے۔ الزبتھ ہول، کلچرل پروگرامز ایگزیکٹو کے عہدے کی حامل تھیں جبکہ صدیق عبداللہ افسر مہمانداری تھے۔ الزبتھ نے اپنے فرائض ادا کرنے کا حق ادا کر دیا۔ وہ انتہائی معاون اور شفیق تھیں۔ انہوں نے پل پل مندوبین کی ضرورتوں کا خیال رکھا اور پروگراموں کے ہر مرحلے پر بروقت ان کی رہنمائی کرتی رہیں۔ اسی طرح خوبصورت عرب نوجوان صدیق عبداللہ میرے ہوٹل کی لابی میں اپنے کاؤنٹر پر موجود رہتے تھے بلکہ مندوبین کے کسی مسئلے کے حل کے لئے سراپا انتظار دکھائی دیتے تھے۔ امجد اقبال امجد پاکستانی ہیں ان کا اس کتاب میلے سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ایک پاکستانی کے طور پر وہ بھی مختلف مواقع پر اپنے طور پر سرگرم عمل نظر آئے۔
اور اب آخر میں اس سوال کا جواب … اور وہ سوال یہ ہے کہ اہل علم کے اس عالمی اجتماع میں میرے جیسے اَن پڑھ کا کیا کام تھا؟ سو مختصر سا جواب یہ ہے کہ ایسے مواقع پر کسی ”نظربٹو“ کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے تاکہ اہل علم کے علم کو نظر نہ لگے۔ سو مجھے بظاہر یہاں اہل علم اور ”اہل کتاب“ سمجھ کر ہی بلایا گیا تھا مگر حقیقت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے۔ اپنے وقت پر مجھے بھی اپنے قارئین سے گفتگو کرنا تھی اور حیرت کی بات ہے کہ ہال قارئین سے لبالب بھرا ہوا تھا۔ میں نے تقریباً ایک گھنٹہ اپنے فن کے حوالے سے گفتگو کی اور اپنی کچھ تحریریں بھی سنائیں۔ میرے ساتھ اسٹیج پر لندن سے آئے ہوئے احسان شاہد اور امجد اقبال بھی موجود تھے جو مجھ سے میری تحریروں کے حوالے سے سوال کرتے تھے! میں نے سنا ہے کہ یہ محفل اچھی رہی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔