آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر14؍ صفرالمظفر 1441ھ 14؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

صحافی کا قتل اورترکی کی کامیاب سفارتکاری

جب سے یہ دنیا قائم ہے ہر روز کہیں نہ کہیں قتل کے واقعات رونما ہوتے چلے آرہے ہیں ، کبھی تو اِن واقعات میں ملوث مجرمین کا پتہ بڑی آسانی سے لگا لیا جاتا ہے اور ان کو اپنے کیے کی کڑی سزا مل جاتی ہے لیکن اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ قتل کے واقعات اس انداز میں کیے جاتے ہیں کہ پولیس کی لاکھ کوششوں اور جتن کے باوجود قتل کی یہ گتھی سلجھنے کا نام نہیں لیتی اور یوں اس قسم کے قتل کے واقعات پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگ ان واقعات کو بھول جاتے ہیں ۔استنبول کے علاقے بیشکتاش میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں ہونے والے قتل کو دنیا شاید ہی بھول پائے کیونکہ اس قسم کے انوکھے قتل کی مثال سفارتی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ یہ دو اکتوبر 2018 کا سہانا دن تھا ، موسم بہت خوشگوار تھا، دوپہر کو ایک بجکر پانچ منٹ پر امریکہ کے روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی اپنی منگیتر خدیجہ جنگیز کے ساتھ اپنے مستقبل کے سہانے سپنوں میں کھوئے ، اپنی شادی کی تاریخ کا فیصلہ کرنے سے قبل سعودی قونصل خانے سے marital status certificate لینے کی غرض سے (ترکی میں قیام پذیر تمام غیر ملکیوں کو ترکی ہی میں شادی کرنے کی صورت میں اپنے سفارتخانے یا قونصل خانے سےاس قسم کے سرٹیفکیٹ کو حاصل کرنے کی شرط عائد ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ ترک وزارتِ خارجہ سے تصدیق کروانے کے بعد متعلقہ بلدیاتی ادارے کے نکاح رجسٹریشن آفس میں جمع کروانا پڑتا ہے جس کے بعد ہی متعلقہ شخص کو شادی کی اجازت حاصل ہوتی ہے)قونصل خانے کے اندر تشریف لے گئے ۔ اس سے ایک ہفتہ قبل وہ قونصل خانے کی خواہش پر اپنے تمام متعلقہ پیپرز جمع کرواچکے تھے اور ان پیپرز ہی کی روشنی میں ان کو دو اکتوبر کو قونصل خانے میں دوبارہ آنے کو کہا گیا تھا۔ جمال خاشقجی کو قونصل خانے میں اپنی پہلی پیشی پر اس بات کا احساس ہواکہ ان کو اگلی بار کسی غیر متوقع صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور اسی تیاری کے ساتھ اپنی منگیتر خدیہ جنگیز کے ہمراہ قونصل خانے تشریف لائے ۔ انہوں نے اندر جانے سے قبل اپنی منگیتر کو غیر متوقع واقعہ رونما ہونے کی صورت میں صدر ایردوان کے مشیر کو فوری طور پر حالات سے باخبر کرنے کاکہا ۔ جمال خاشقجی نے اپنی کلائی پر ایپل واچ لگا رکھی تھی جبکہ انہوں نے اس ایپل واچ ہی سے منسلک آئی فون کو اپنی منگیتر کے حوالے کردیا اور اس ایپل واچ ہی کے ذریعے جمال خاشقجی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی خبر اُن کی منگیتر کو ہوئی تھی جنہوں نے اعلیٰ حکام کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس قتل کی تفصیلات پر روشنی ڈالنے سے قبل جمال خاشقجی کی زندگی پر مختصر سی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

جمال خاشقجی کا تعلق ترک خاندان سے ہےجو سعودی عرب میں کئی نسلوں سے آباد ہے۔جمال خاشقجی اسلحے کے سوداگر عدنان خاشقجی کے بھتیجے تھے۔ جمال خاشقجی 1958 میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ آئے اور ایک صحافی کے طور پر 1980کی دہائی میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی اسامہ بن لادن سے بھی کئی بار انٹرویو کیےاور اسی دوران انہوں نے خطۂ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی۔ 1990کی دہائی میں وہ سعودی عرب منتقل ہو گئے اور1999میں وہ انگریزی زبان کے اخبار ’’عرب نیوز‘‘ کے نائب مدیر بن گئے۔ 2003میں وہ ’’الوطن‘‘ اخبار کے مدیر بنے۔ 2011میں پیدا ہونے والی عرب اسپرنگ تحریک میں انھوں نے اسلام پسندوں کی حمایت کی جنھوں نے کئی ممالک میں اقتدار حاصل کیا۔2012میں انہوں نے ’’العرب‘‘ نیوز چینل کی سربراہی کی اور ساتھ ہی ساتھ سعودی امور پر ماہرانہ رائے رکھنے کی حیثیت سے وہ بین الاقوامی سطح پر مختلف نیوز چینلز کو مستقل طور پر اپنی خدمات بھی فراہم کرتے رہے۔2017کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب چھوڑ کر مستقل طور پر امریکہ منتقل ہو گئے اور واشنگٹن پوسٹ اخبار میں کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کردیاجس میں انہوں نے اپنی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کی گمشدگی سے قبل ان کا آخری کالم 11ستمبر کو شائع ہوا تھا اور گزشتہ جمعے کو اخبار نے ان کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خالی کالم کی اشاعت کی بعد ازاں اخبار نے ان کاایک کالم شائع کیا جو ان کے متجرم کی جانب سے اخبار کو 3اکتوبر کو موصول ہواتھا۔

دو اکتوبر بروز منگل جب سے جمال خاشقجی کا قتل ہوا ہے اس وقت سے عالمی میڈیا اس بارے میں مختلف خبریں اور تبصرے پیش کرتے چلا آرہا ہے ۔ترکی میں ہونے والے اس بہیمانہ قتل کےکے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ ہے؟ اس بارے میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے پارلیمنٹ سے خطاب میں سعودی صحافی کے قتل سےمتعلق حالات اورواقعات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا صحافی جمال خاشقجی کو ایک طے شدہ وقت کے مطابق قتل کیا گیا ۔ 15افرادکی ٹیم الگ الگ وقت پراستنبول میںقونصلیٹ پہنچی، خاشقجی ایک بجکر8 منٹ پر قونصل خانے میں گئے پھر واپس نہیں آئے، خاشقجی کی منگیتر نے ترک حکام کو 5بجکر50منٹ پر آگاہ کیا اور منگیتر کی درخواست پرترک حکام نے تحقیقات شروع کیں۔ترک صدر نے کہا سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا خاشقجی قونصل خانے سے باہرنہیں آئے، قتل کے اس واقعے کی شروعات سے لیکر اختتام تک برادر ملک سے 15 افراد آئے، جس دن قتل ہوااس دن قونصلیٹ عملےکوایک کمرے میں مقید رکھا گیا اور جو لوکل ورکرزقونصل خانےآنے والے تھے، انہیں چھٹی دے دی گئی۔صدر ایردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس قتل کو خفیہ رکھنے کے لیے قونصل خانے میں موجود تمام کیمروں کو بند کردیاگیا تھا جبکہ قونصل خانے کی جانب سے ویڈیو سسٹم خراب ہونے سے آگاہ کیا گیا تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ جمال خاشقجی کا قتل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، قتل کی منصوبہ بندی 29ستمبر کوکی گئی تھی اور دو اکتوبر کو اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ویانا کنونشن کی وجہ سے سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، اس لیے ہم بلا اجازت قونصل خانے میں داخل نہیں ہوسکتے تھے اور اجازت ملنے پر کافی تاخیر ہوچکی تھی اور اس دوران برادر ملک کے حکام کی جانب سے مختلف تاویلیں پیش کی جاتی رہیں۔ لیکن ترک پولیس اور تحقیقاتی ٹیم نے دن رات صرف کرتے ہوئے اس قتل پر سے پردہ اٹھایا جس کے نتیجے میں اس قتل کا اعتراف کیاگیا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ سعودی حکام سے ہمارا قریبی رابطہ جاری ہے ۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو سعودی حکام جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آگاہ کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کو چھپانے کے لیے ان کے ہم شکل کو اسی روز استنبول روانہ کیا گیا تاکہ جمال خاشقجی کے قونصل خانے میں قتل پر پردہ ڈالا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ جمال خاشقجی قونصل خانے سے باہر جا چکے ہیں، اسی لیے جمال خاشقجی کے ہم شکل کے قونصل خانے سے باہر نکلنے اور استنبول کے سلطان احمد کے علاقے میں گھومنے کی ویڈیو پیش کی جاتی رہی لیکن اس ہم شکل کا بھانڈہ بعد میں خود ہی پھوٹ گیا۔ جہاں تک جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے قونصل خانے کے احاطے ہی میں دفن کیے جانے اور وہاں سے مسخ شدہ جسم کے برآمد ہونے کی خبریں ہیں ترک حکام نے تا دم تحریر ان خبروں کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ویڈیو اور تصاویر جاری کی گئی ہیں۔