آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے وقوع پذیر ہونے سے جن معاملات میں سب سے زیادہ خدشات کا سامنا ہوا ان میں سے سر فہرست سی پیک کی مکمل تعمیر ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک سی پیک کے حوالے سے یہ موقف ہی پیش کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ساتھ ساتھ ہے مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ہی معاہدوں پر دوبارہ غوروخوض، آئی ایم ایف کے ساتھ ان معاہدوں کی معلومات کا تبادلہ اور اسی نوعیت کے دوسرے اقدامات سے اس کی بو آ رہی ہے کہ سب میٹھا میٹھا نہیں ہے۔ پھر سی پیک پر جاری منصوبوں میں نئی حکومت کے آنے کے بعد سے غیر معمولی سست روی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ تمام علامتیں کسی بڑے مسئلے کے اچانک سامنے آ جانے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ انہی حالات میں گزشتہ دنوں ایک وفد کے ہمراہ چین جانے کا موقع ملا۔

وطن عزیز کی تو یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں اساتذہ کا کردار ریاست کی پالیسی سازی میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ اب تو ان کے مزید احترام کا یہ بندوبست کیا گیا ہے کہ ہتھکڑیوں سے بھی تواضع کی جانے لگی ہے۔ مگر چینی اساتذہ کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ اسی لئے انہوں نے ایک ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ پر سمپوزیم جیانگ سو یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقد کروایا اور پاکستانی جامعات کے اساتذہ ، اہل قلم اور کاروباری طبقات کے نمائندوں پر مشتمل وفد کو شرکت کی دعوت دی۔ سمپوزیم کا عنوان نہ صرف کے پاکستان بلکہ بین الاقوامی سیاست کے اعتبار سے بھی نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ ہمارے وفد میں ڈاکٹر امجد مگسی پنجاب یونیورسٹی ، اختر خان پشاور یونیورسٹی، کلیم خان بلوچستان یونیورسٹی ، طاہر صادق، امجد محمود، اسلم جاوید ، آغا نعمت اور راقم الحروف شامل تھے۔ ڈاکٹر امجد مگسی نے سمپوزیم میں سرمایہ کاری کے موضوع پر اپنا خصوصی مقالہ پیش کیا ۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کی مضبوطی پر سرمایہ کاری کے عنوان سے متاثر کن خیالات کو پیش کیا۔ میں نے اپنے خیالات کو سامعین کے گوش گزار کرتے ہوئے پاکستان کی داخلی سیاست کی جن جہتوں کا بین الاقوامی معاملات سے تعلق ہے ان پر اپنی گزارشات پیش کیں اور کہا کہ معاملات صرف 2 ممالک کے مابین نہیں ہیں بلکہ ایک دنیا اس سے جڑی ہوئی ہے۔ اور ہماری خواہش اور کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اس جڑی ہوئی دنیا میں اپنے لئے مسائل کو کم سے کم اور دوستوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ کریں اور موجودہ اقدامات کو کسی کی مخالفت یا کسی کو گرانے کے زمرے میں مت دیکھیں اور نہ ہی استعمال کریں۔ دیگر ممالک کے وفود نے بھی تعمیری گفتگو کی ۔ بالخصوص ایرانی وفد کی گفتگو بہت مثبت پیرائے میں تھی۔ ہمارے یہاں یہ تصور بہت گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ایران کی چابہار بندرگاہ گوادر کی بندرگاہ کو غیر اہم یا کم اہم کرنے کی جانب ایک سوچا سمجھا قدم ہے۔ مگر ایرانی وفد کی گفتگو سے اس کا با آسانی ادراک کیا جا سکتا تھا کہ ایران بھی سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے نتائج کو اپنے لئے نئے مفادات کے حصول کا ایک ذریعہ تصور کر رہا ہے۔ گوادر اور چابہار کی بندرگاہوں کو سسٹر بندرگاہیںسمجھنا اسی نظریے کی نشاندہی کرتا ہےکیونکہ ان دونوں بندرگاہوں کی فعالیت سے دونوں ممالک فائدہ اٹھاسکتے ہیں بشرطیکہ ایسا کرنا چاہیں۔

راقم الحروف اس سے قبل بھی چین کا دورہ کرتا رہا ہے اور ہر بار چینی دوستوں کی دعوت پر ہی وہاں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس لئے وہاں پر اس وفد سے ہٹ کر ہی چینی دوستوں سے ملاقاتیں بھی رہیں۔ چین کے اعلیٰ حکام سے روابط تو ایک عرصے سے مسلسل موجود ہیں لیکن بالمشافہ گفتگو میں جس بے تکلفی سے خیالات کا اظہار اور پریشانیوں کا ذکر ہوتا ہے وہ دور بیٹھے ممکن نہیں۔ چین میں اعلیٰ حکام کی سطح پر سی پیک کے حوالے سے ایک گو مگو کی کیفیت بتدریج قائم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت کی اس حوالے سے حکمت عملی کیا ہے اور وہ کیا کرنا چاہتی ہے اس حوالے سے ایک ابہام کی کیفیت طاری ہے۔ پاک چین دوستی حکومتوں کی بجائے ریاستوں کی حکمت عملی ہے۔ اس لئے یہ تو تصور نہیں کیا جا رہا کہ اس ریاستی پالیسی کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے مگر حکومت کی تبدیلی کے سبب سے اور سی پیک پر سست روی کی وجہ سے وقتی طور پر مسائل کی بازگشت وہاں پر سنی جا سکتی ہے۔ مسائل اس حد تک ہیں کہ چینی وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان کے موقع پر شہباز شریف سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کو نہ ملنے دیا گیا۔ جس پر چین میں شدید دکھ پایا جاتا ہے۔ بہرحال چین میں رد عمل بہت محتاط ہو کر دیا جاتا ہے اس میں سر دست چینی خاموشی سے معاملات کے سدھار کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ پھر ان کو اس بات کا یقین ہے کہ نوازشریف دور حکومت میں نوازشریف کی ذاتی کوششوں کے نتیجے کے طور پر جو بجلی کے منصوبے چین نے پاکستان میں لگائے تھے ان کی وجہ سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا رہا ہے۔ اور عوام میں بھی یہ تصور ہے کہ ان منصوبوں کی وجہ سے یہ غیر معمولی مسئلہ حل کی جانب گامزن ہے۔ اس لئے اگر اس کو غیر موثر کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستانی عوام میں اس کا رد عمل پیدا ہو گا اور باہمی اعتماد کو بھی نقصان پہنچے گا۔ جو یقینی طور پر دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ گزشتہ دور حکومت میں چین نے اس وقت پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے اقدامات کیے جب دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری پر راضی نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے باوجود سابق پاکستانی حکومت نے اس کا خیال رکھا کہ پاکستان کسی بین الاقوامی تصادم جو چاہے معاشی نوعیت کا ہو یا کسی دوسری نوعیت کا، اس سے دور رہے اور یہی ذمہ داری موجودہ حکومت پر بدرجہا زیادہ عائد ہوتی ہے۔ ذمہ داری تو وہاں پر موجود پاکستانی سفارتخانے پر بھی بہت عائد ہوتی ہے مگر عام تاثر یہ ہے کہ سفارتخانہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہا۔ مثلاً کھچائو میں ایک سکول 6 سال سے چل رہا تھا مگر صرف ایک سرکاری خط کے جاری نہ ہونے کے سبب سے اب بند پڑا ہے۔ اگر اجازت نہیں دینی تو مطلع کر دے مگر سفارتخانے کی جانب سے صرف سرد مہری۔ اگر کوئی با اثر پاکستانی انتقال کر جائے تو اس کی میت تو فوراً بھجوا دی جاتی ہے مگر کوئی عام پاکستانی گزر جائے تو ایک ، ایک ماہ تک معاملہ لٹکا رہتا ہے۔ ایسے واقعات بھی علم میں آرہے ہیں کہ جن پاکستانیوں نے چینی خواتین سے شادی کی، وہ بچوںسمیت غائب ہوگئیں۔اس سلسلے میں پاکستانی سفارتخانہ کوئی مدد نہیں کررہا۔ پھر دونوں ممالک میں پاکستانی اور چینی کنسلٹنٹ اور کنسلٹنٹ کمپنیاں قائم ہیں جن کے حوالے سے دھوکے بازی کی ہوشربہ داستانیں زبان زد عام ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کی موجودگی میں ان کمپنیوں کو کسی فریم ورک میں لایا جائے تا کہ سادہ لوح عوام دھوکے بازی سے محفوظ رہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں