آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے ہمیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جانے کا اتفاق ہوا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر سینکڑوں افراد جن میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور پوسٹرز اٹھائے بیٹھے تھے۔انتظار تھا کہ کب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار آئیں اور ان کی بات سنیں۔زمینوں پر قبضے، پولیس کے خلاف شکایات، علاقے کے بااثر لوگوں کی زیادتیاں، خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات، غرض زمین پر بیٹھے ہر فرد اور عورت کا کوئی نہ کوئی مسئلہ تھا چہروں پر دھول، ہر چہرہ پریشان اور دکھی، زمانے کے غموں کے نشاں، ہر چہرے پر سوالیہ نشان تھا ،سڑک کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھے یہ دکھی اور غموں سے چور لوگ آج قائد کی روح سے سوال کر رہے ہیں۔70برس ہو گئے انصاف نہ ملا، اس قدر نا انصافی اور زیادتیاں تو انگریز دور میں نہیں ہوئی تھی۔

ہر محکمہ میں لوگوں کو خوار کیا جاتا ہے۔ سفارش اور رشوت کا بازار گرم ہے۔ آئیے تاریخ کے اوراق سے جائزہ لیں ہم نے 1940ء سے 1947ء کے اخبارات انقلاب، زمیندار اور سول اینڈ ملٹری گزٹ کے تمام شماروں کا جائزہ لیا۔ ہم کسی زمانے میں جنگ میں ایک سلسلہ وار ’’قرار داد پاکستان سے قیام پاکستان تک‘‘ لکھ رہے تھے ۔ چنانچہ ہر دوسرے روز پنجاب یونیورسٹی کی اولڈ کیمپس والی لائبریری میں جاکر ریسرچ کیا کرتے تھے یقین کریں کہ ہمیں کوئی ایسا مسئلہ اور ایسی خبر نظر نہیں آئی کہ لوگ کسی تھانیدار کے خلاف، کسی ڈپٹی کمشنر کے خلاف کسی محکمہ مال یا کسی قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں ۔اس وقت مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی کئی دیگر ذات برادری اور مذاہب کے لوگ بھی مشترکہ ہندوستان میں رہتے تھے مگر ہمیں کبھی ایسی خبر نہیں ملی جن تکلیفوں اور پریشانیوں کے بارے میں آج لوگ اپنے ہی وطن میں اپنے ہی مسلمانوں کے رویوں کے خلاف رو رہے ہیں۔ آج کون سا شہر، گائوں اور قصبہ ہے جہاں پرلوگ پولیس اور قبضہ مافیا کے خلاف شکایات نہ کررہے ہوں ۔اپنے ہی دیس میں جس قدر عورتوں اور بچوں کو اٹھایا گیا ان کے ساتھ جسمانی زیادتی کی گئی پھر ان کو قتل کر دیا گیا یقین کریں ایسے واقعات پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے ابھی ہمیں کچھ دیر قبل کالم لکھنے سے پہلے ایک دوست نے ایک ویڈیو بھیجی ہے جس میں ایک خاتون اپنے بیٹے اور خاوند کے ساتھ حضرت علی ہجویریؒ المعروف داتا صاحب کےمزار پرسلام کرنے آئی ہے وہاں پر ایک دوسری عورت اس عورت کو ایک بسکٹ دیتی اور بوتل پلاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے منت مانی تھی اور منت پوری ہو گئی ہے اور اس خوشی میں اسے یہ بسکٹ اور بوتل پلا رہی ہے جب وہ عورت نیم بیہوش ہو گئی تو اس کو وہ عورت اپنی ساتھیوں کے ساتھ اس اڈے پر لے جاتی ہے جہاں پر پہلے سے نو عورتیں موجود تھیں راستے میں جب لوگوں نے اس عورت کے بارے میں پوچھا کہ اسےکیا ہوا ہے تو اس عورت نے کہا کہ اسے مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ اس عورت نے نیم بیہوشی کی حالت میں سنا کہ وہ ان عورتوں کا سودا کر رہے ہیں اور اس عورت کو کہتے ہیں کہ اسے ابھی چھوڑ دو یہ بیمار ہے وہ لوگ اس عورت کو جب ڈاکٹر کے پاس لے کر آتے ہیں تو وہ راستے میں پولیس والے کو دیکھ کر شور مچا دیتی ہے اس طرح اسے رہائی مل جاتی ہے اور وہ گروہ پکڑا جاتا ہے ۔ایک عرصہ سے مزارات کے اندر اور باہر سے عورتیں اور بچے اغوا کئے جا رہے ہیں نہ تو محکمہ اوقاف کچھ کرتا ہے اور نہ پولیس محکمہ اوقاف کو مزارات خصوصاً حضرت علی ہجویری ؒکے مزار مبارک سے ہدیہ اور نذرانوں کی صورت میں کروڑوں، اربوں روپے سالانہ ملتے ہیں مگر افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف نے آج تک کسی مزار پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات نہیں کئے اور جو اپنے خادم وہاں پر مقرر کر رکھے ہیں وہ سوائےپروٹوکول یا لوگوں سے پیسے بٹورنے میں لگے رہتے ہیں۔ہم لاہور رجسٹری کے باہر اور اندر سپریم کورٹ میںکم از کم دو گھنٹے رہے۔ لوگوں کے ایسے ایسے مسائل اور ناانصافیاں تھیں جنہیں سن کر انتہائی دکھ ہوا، کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان اس لئے بنایاگیا تھاکہ اپنے ہی دیس میں یہ لوگ لاوارث ہو کر پھر رہے ہوں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے بے شمارلوگوں کے مسائل سن کر حل کرتو دیئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہوگا؟ مسائل اسی طرح رہیں گے مگر حل کون کرے گا؟ پی ٹی آئی کی حکومت نے دعوے تو بہت کئے ہیں مگر حکومت کی رٹ تو نظر آئے۔ چھوٹے میاں شہباز شریف قومی اسمبلی میں چیخ چیخ کر تقریریں تو بہت کرتے ہیں۔ ارے بھائی اگر آپ لوگوں نے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔ دوسرے چھوٹے میاں صاحب پی ٹی آئی کی حکومت نے صرف دو ماہ میں مسائل پیدا نہیں کردیئے بلکہ آپ نے پورے دس سال صرف اور صرف فوٹو سیشن ہی کرائے ہیں۔ صرف ان منصوبوں کا افتتاح کیا ہے جہاں پر کروڑوں، اربوں روپے کی کرپشن ہو ئی۔ آپ کے جو بیوروکریٹ کرپشن میں گرفتار ہوئے ہیں وہ نیب اور عدالتوں میں آج بھی افسرانہ طریقے سے آتے ہیں۔ کیا نتیجہ سامنے آیا ہے، آج بھی ان کے بچے باہر کے ممالک میں موجیں مار رہے ہیں۔ وہی انداز، وہی آرام۔ صرف عوام کو دکھانے کے لئے بےوقوف بنایا جا رہا ہے۔

کیا ڈیمز بنانا، اس کے لئے چندہ اکٹھا کرنا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا کام نہیں تھا۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے ڈیمز بنانے کےلئے کیا کیا؟ کیا وہ چندہ اکٹھا نہیں کرسکتے تھے۔ ن لیگ کے بعض سابق وزراء(جو وزارت کے لئے اب بھی رو رہے ہیں) کہتے ہیں کہ چندوں سے ملک نہیں چلتا۔ ارے اللہ کے بندو کیا قرضے لے کر ملک چلتاہے؟تم قرضے لے کر ملک چلاتے رہےوہ سب کچھ درست تھا؟ قرضوں پر سود در سود وہ سب کچھ ٹھیک تھا؟ چندے پر نہ تو سود ہے اور نہ کسی کا پیٹ بھرا جا رہا ہے۔ جب قرضے لئے تب ملک کی بدنامی نہیں ہوئی۔ قیمتی گاڑیوں پر جا کر، قیمتی کپڑے پہن کر جب نواز شریف اور شہباز شریف قرضے لیتے رہے وہ سب کچھ صحیح تھا۔ پھر قرضہ لینے جا رہے ہیں تو ساٹھ، ستر لوگوں کا قافلہ لے کر جا رہے ہیں۔ قرضہ مانگنا چندہ مانگنے سے زیادہ باعث شرم ہے۔ یہاں تو سلامتی کونسل اور یو این کے اجلاس میں عمران خان صرف چار، پانچ افراد لے کر جاتا ہے۔ ن لیگ صرف یہ بتا دے کہ اس نے اس ملک میں ڈیمز بنانے کے لئے کیاکیا؟ایوب خان کو ہم بہت برا کہتے ہیں اس نے اپنے دور اقتدار میں سات ڈیمز بنائے تھے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیا کیا؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں