آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی ایم ایف سے قرضہ پاکستان کیلئے کوئی نیا نہیں۔ پاکستان نے 1965ء سے اب تک آئی ایم ایف سے 18 بار مجموعی 53.4 ارب ڈالر کے قرضے لئے ہیں جس میں سے 7 فوجی دور حکومت اور 11 جمہوری حکومتوں کے دور میں لئے گئے۔ اس وقت پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے 95 ارب ڈالر ہیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 37.5ملین ڈالر کا پہلا قرضہ 16مارچ 1965ء میں ایوب خان کی حکومت میں لیا۔ اسی حکومت نے 75 ملین ڈالر کا دوسرا قرضہ 17 اکتوبر 1968ء میں لیا جس کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت نے 1973ء سے 1977ء تک 230 ملین ڈالر کے 3 قرضے لئے۔ 1980-81ء میں ضیا حکومت نے 2.1 ارب ڈالر کے دو قرضے لئے۔ 1988ء سے 1995ء تک پیپلزپارٹی حکومت نے 1.8 ارب ڈالر کے 3 قرضے لئے۔ 1997ء میں نواز شریف حکومت نے 1.13 ارب ڈالر کا ایک قرضہ لیا۔ 2000-01ء میں مشرف حکومت نے 1.46 ارب ڈالر کے دو قرضے لئے۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی حکومت نے 7.2 ارب ڈالر کا ایک قرضہ لیا اور 2013-17ء تک نواز شریف حکومت نے 39.3 ارب ڈالر کے 3 قرضے لئے اور اب عمران خان کی حکومت 12 ارب ڈالر کا قرضہ لینے جارہی ہے لیکن اس بار آئی ایم ایف کے تیور اور انداز بدلے نظر آتے ہیں جس کی اہم وجہ آئی ایم ایف کا اہم شیئر ہولڈر اور سرمایہ کار امریکہ ہے جس کی آئی ایم ایف میں 17.68 فیصد ووٹنگ رائٹس ہیں اور اس کے بعد جاپان اور چین (6.49 فیصد) ہیں۔

امریکہ اور بھارت پہلے دن سے چین کے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کے مخالف ہیں جسے مکمل ہونے کے بعد خطے میں پاکستان اور چین کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ چین گوادر کے محفوظ راستے سے اپنی تیل کی سپلائی کرسکے گا اور مستقبل میں پاکستان کے راستے علاقائی تجارت ایک تہائی وقت اور قیمت پر کی جاسکے گی جس کو معاشی پنڈتوں نے گیم چینجر کا نام دیا ہے۔ اسی پس منظر میں امریکہ نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی مشکلات چینی قرضوں کی وجہ سے ہیں اور پاکستان کیلئے چینی قرضوں سے نکلنا مشکل ہوگیا ہے، امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قرضے لے کر چینی قرضوں کی ادائیگی کرے جبکہ پاکستان نے امریکہ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت پر دبائو 1300 ارب روپے کے گردشی قرضوں اور ایکسٹرنل اکائونٹ خسارے کی وجہ سے ہے۔ چینی قرضوں کی فوری ادائیگی کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان قرضوں کی ادائیگیاں 4 سال بعد شروع ہوں گی۔ سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی کہا ہے کہ چینی قرضوں کی 2 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی 2022ء سے شروع ہوں گی لہٰذا سی پیک پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کا سبب نہیں۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے امریکی وزارت خارجہ کے بیان پر کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے سی پیک کے مجموعی قرضوں کی تفصیل مانگی ہے لیکن اگر آئی ایم ایف نے ناقابل قبول شرائط رکھیں تو ہم آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کریں گے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نورت نے بھی پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کا سبب سی پیک کو قرار دیا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے 16 سینیٹرز کے ایک گروپ نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) کو پاکستان کو قرضوں کے جال میں جکڑنے کی حکمت عملی بتایا ہے جس کے تحت چین نے پاکستان سے غیر ضروری مراعات حاصل کیں اور پاکستان کو آج ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ اور بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے سی این بی سی میںیہاں تک کہہ دیا کہ وہ امریکی عوام کے ٹیکس کے ڈالرز چین کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نہیں دیں گے جس کیلئے وہ آئی ایم ایف کے پاکستان کو قرضے پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان میں توانائی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے ملک میں توانائی کے بحران کو ختم کیا ہے جس سے صنعت کا پہیہ دوبارہ چلا ہے اور گوادر پورٹ کے عظیم منصوبے سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں خوشحالی آئے گی۔ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کا نیا قرضہ گزشتہ قرضوں سے بالکل مختلف ہے جس میں امریکی سرکار کی کھلی دخل اندازی واضح نظر آتی ہے اور امریکہ کی کوشش ہے کہ اس بار آئی ایم ایف پاکستان کو سخت سے سخت شرائط پر قرضہ دے۔

آئی ایم ایف پاکستان کے این ایف سی ایوارڈ، 18 ویں آئینی ترامیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بھی اپنے تحفظات ظاہر کرچکا ہے جس کے مطابق ان ترامیم کی وجہ سے صوبوں کو زیادہ مالی وسائل منتقل ہوجاتے ہیں اور وفاق کے پاس حکومت چلانے کیلئے فنڈز نہیں بچتے جس کی وجہ سے مالی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ بیک ڈور مذاکرات کے مطابق این ایف سی ایوارڈ اور 18 ویں آئینی ترامیم میں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور صوبے اتنا بڑا فیصلہ کرنے کو تیار ہیں۔ سندھ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ صوبوں کے وسائل میں کمی کی مخالفت کریں گے۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان کی خراب معاشی صورتحال کے باعث اپنے قرضوں کے پروگرام روک دیئے ہیں۔ ملکی معیشت کے ترجمان فرخ سلیم نے پاکستان کی فوری مالی ضرورت 8 ارب ڈالر بتایا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مالی مشکلات کے مدنظر 6 ارب ڈالر کا ایک پیکیج دیا ہے جس میں ایک سال کیلئے 3 ارب ڈالر سوفٹ ڈیپازٹ اسٹیٹ بینک کے اکائونٹس میں رکھے جائیں گے اور 3 ارب ڈالر مالیت کا تیل سعودی عرب ایک سال کے قرضے پر 3 سال کیلئے سپلائی کرے گا۔اس کے علاوہ سعودی عرب پاکستان میں آئل ریفائنری کے قیام میں دلچسپی ہے۔ وزیراعظم پاکستان چین کے اہم دورے پر ہیں اور دستیاب معلومات کے مطابق چین پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کرے گا جس میں 1.5 ارب ڈالر گرانٹ اور 1.5 ارب ڈالر کا قرضہ شامل ہے۔ میں نے حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پنڈی میں ملاقات میں پاکستان اور چین کی تجارت میں عدم توازن پر گفتگو کی۔ جنرل باجوہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ ملکی معیشت کیلئے بے انتہا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کی چین کو ایکسپورٹ میں عدم توازن کیلئے چینی سفیر سے اپنی حالیہ ملاقات میں تحفظات ظاہر کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں چین ٹیکسٹائل سمیت دیگر بے شمار مصنوعات پر پاکستان کو ڈیوٹی فری مارکیٹ رسائی دینے کیلئے رضامند ہوگیا ہے اور پاکستانی ایکسپورٹرز کیلئے حال ہی میں چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو(CIIE) کا انعقاد کیا ہے۔ میری سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ سی پیک کو امریکہ اور بھارت سازش کا شکار نہ بننے دیں۔سی پیک منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ملک کی قسمت بدل سکتا ہے لیکن کچھ عالمی طاقتیں اسے اپنے مفاد میں نہیں سمجھتیں اور وہ ہر طرح کا دبائو ڈال کر اس عظیم منصوبے کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہیں تاکہ سی پیک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے اور خطے میں ان کی اجارہ داری برقرار رہے لہٰذا ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کو آئی ایم ایف کے ذریعے عالمی سیاست کا شکار نہ ہونے دیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں