آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہمارے محترم استاد وارث میر مرحوم کی بے باکانہ صحافت کے وارث ممتاز صحافی  ٹی وی اینکر پرسن اور تجزیہ نگار حامد میر کی قیمتی جان لینے کی کوشش نے دنیا بھر کی توجہ ایک بار پھر پاکستان میں صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کی جانب مبذول کرائی ہے اور قوم کو ان کے تحفظ کے حوالے سے حکومت اور اس کی لاتعداد ایجنسیوں کی کارکردگی پر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دراصل ملک میں صحافیوں کی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والی آزادی صحافت  طاقت اور شدت پسندی کے بعض مراکز کے ناخداؤں کی طبع نازک پر گراں گزر رہی ہے اور وہ مسلسل اسے اپنے چشم و ابرد کے اشاروں پر نچانے کیلئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ نتیجے کے طور پر پچھلے دس سال میں سو کے قریب صحافی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ ان میں سے ایک کے سوا کسی کے قاتل پکڑے نہیں جا سکے۔ جس ”خوش قسمت“ صحافی کے ”بدنصیب“ قاتل قانون کی گرفت میں آئے وہ ایک امریکی ڈینیئل پرل تھا۔ اگر وہ پاکستانی ہوتا تو اس کے خون سے ہاتھ رنگنے والے بھی آج آزادی سے گھوم رہے ہوتے۔ اسی بناء پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے صحافیوں کے غیر محفوظ ہونے کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ملک اور بلوچستان کو اس کا خطرناک ترین صوبہ قرار دیا ہے۔ خطرے کے اعتبار سے بلوچستان کا اگر

کوئی قریبی حریف ہے تو وہ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کا علاقہ ہے ملک میں اب تک مارے جانیوالے صحافیوں میں سے تیس کا تعلق بلوچستان 26 کا خیبر پختونخوا اور گیارہ کا فاٹا سے ہے۔ اور یہ صرف پچھلے چار سال کا حساب ہے۔میں نے بطور صحافی عمر عزیز کے تقریباً 32سال بلوچستان میں گزارے اسلئے وہاں کے میڈیا اور صحافیوں پر جو کچھ گزر رہی ہے اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ بلوچستان میں شہید کئے جانیوالے صحافیوں میں آبادکاروں کے علاوہ بلوچ اور پشتون بھی ہیں۔ گویا اس معاملے میں علاقے نسل اور زبان کی کوئی تفریق روا نہیں رکھی گئی۔ ان سب کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ مزاحمتی تنظیموں  انتہا پسند گروپوں  یک طرفہ پروپیگنڈہ کی متمنی سیاسی پارٹیوں  جرائم پیشہ گروہوں  بین الاقوامی سمگلروں  فرقہ پرستوں  قبائلی انا پسندوں اور ریاستی اداروں کی خواہشات کو خبر کا روپ دینے یا ان کی منشا کے خلاف کسی خبر یا تحریر کو روکنے کی بجائے صحافتی اصولوں کی پابندی پر اصرار کرتے تھے۔
بلوچستان میں باقاعدہ صحافت کا آغاز غالباً 1918ء میں ہوا جب بلوچستان ہیرلڈکے نام سے پہلا اخبار نکالا گیا۔ بعد کے ادوار میں خان عبدالصمد اچکزئی  محمد حسین عنقا  میر یوسف عزیز مگسی  عبدالصمد درانی  مولوی محمد حسین  اللہ بخش سلیم  یعقوب غلزئی  حسن نظامی اور بعض دوسری علمی و ادبی شخصیات نے علاقائی صحافت کو زندہ رکھا۔ پاکستان میں شمولیت کے بعد جب بلوچستان کو صوبے کا درجہ دیا گیا تو قومی صحافت نے ادھر کا رخ کیا۔ اس وقت دو سو سے زائد انگریزی و اردو روزنامے  ہفت روزے  پندرہ روزے اور ماہنامے یہاں سے شائع ہو رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ یہاں کا سب سے بڑا اردو اخبار ہے۔ یہ تمام اخبارات اور رسائل و جرائد بلوچستان کے مسائل عوام کے حق حاکمیت، ساحل ووسائل پر اختیار اور محرومیوں کو پوری شد و مد سے اجاگر کر رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس وقت صوبے میں سیاسی بیداری کی جو لہر نظر آ رہی ہے اس کی اٹھان میں ان اخبارات و جرائد کا بہت بڑا کردار ہے مگر بدقسمتی سے دوچار کے سوا تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اور گروہ انہیں اپنا پروپیگنڈہ آرگن بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے دھونس، دھمکی، توتکار، بائیکاٹ سمیت دباؤ کے تمام حربے استعمال کر رہے ہیں۔ روزانہ چھپنے والے اخبارات انکی توجہ کا خاص مرکز ہیں انکی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پریس ریلیز چاہے کتنے ہی طویل ہوں۔ جملوں کاکتنا ہی تکرار ہو زبان کتنی ہی اشتعال انگیز اور توہین آمیز ہو ۔ املا اور گرائمر کی کتنی ہی خامیاں ہوں من و عن شائع کی جائیں اور ان کی تردید میں اگر کسی کا کوئی بیان آ جائے تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اخبارات بلوچستان کی انویسٹی گیٹو ہارڈ نیوز اور غیر جانبدارانہ تجزیاتی خبروں کی بجائے زیادہ تر حکومت  سیاسی پارٹیوں  تنظیموں  گروہوں اور علیحدگی پسندوں کے پریس ریلیزوں اور خبرناموں کا مجموعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ البتہ ایسی حقیقی قومی و بین الاقوامی خبریں تبصرے اور تجزیے اس دباؤ سے آزاد ہیں جو کسی کی دکھتی رگ نہ پکڑتے ہوں اس صورتحال میں اخبارات کو اپنا معیار قائم رکھنے میں سخت مشکل پیش آ رہی ہے۔ سب سے زیادہ مشکل مزاحمتی تنظیموں کی سیٹلائٹ فون سے لکھوائی گئی خبروں اور دعوؤں سے پیدا ہوتی ہے جن کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہوتا۔ انہیں نہ چھایا جائے تو متعلقہ رپورٹر یا نامہ نگار جان سے ہاتھ دھو سکتا ہے اور چھاپہ جائے تو ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکار آ دھمکتے ہیں کہ یہ کس نے اور کہاں سے لکھوائی اور تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ حالانکہ چھاپنے سے پہلے تصدیق کیلئے ان سے رابطہ کیا جائے تو کوئی جواب نہیں دیتا۔ بلوچستان ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیموں کی خبریں چھاپنے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی لگا دی۔ ان تنظیموں نے اخبارات کے ایڈیٹروں کو دھمکی دی کہ ہماری خبریں روک کر دکھاؤ۔ بلوچستان ایڈیٹرز کونسل  یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کے نمائندے احتجاج اور مذمت کے سوا کچھ نہیں کر سکے۔بالآخر ایڈیٹروں نے طے کیا کہ ’سرمچاروں‘کے ہاتھوں مارے جانے سے بہتر ہے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر کے چھ ماہ جیل میں گزار دئیے جائیں۔ چنانچہ ان تنظیموں اور ان کی سرپرست پارٹیوں کے ’خبرنامے‘ اب بھی پوری تفصیل سے چھپتے ہیں۔ حکومت صحافیوں کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کر سکی۔ نتیجہ یہ ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں پریس کلب بند ہو رہے ہیں اور اکثر نامہ نگاروں نے خبریں بھیجنا روک دی ہیں۔ بعض جانیں بچانے کیلئے محفوظ علاقوں میں چلے گئے ہیں جو خبریں بھیجتے ہیں وہ اپنے ایڈیٹروں سے التجاء کرتے ہیں کہ ڈیٹ لائن میں ان کا حوالہ نہ دیا جائے چنانچہ خضدار  پنجگور اور کوئٹہ کی خبریں بھی اب زیادہ تر اسلام آباد کے حوالے سے شائع ہونے لگی ہیں۔(باقی آئندہ کالم میں)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں