آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
استاد غلام علی کو تو غزل میں ’عاشقی کا وہ زمانہ‘ یاد آتا ہے لیکن ہمیں وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی پریس کانفرنس میں مباحثوں کے زمانے کی یاد آتی رہی۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ مباحثہ کی دو ٹیموں میں ایک قرارداد کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف شعلہ بیانی کی کوشش کرتا ہے۔ ہم لوگ باریاں لگا لیا کرتے تھے کہ اس دفعہ جو حزب مخالف کی طرف سے دلائل دے گا اگلی مرتبہ قرارداد کے حق میں بولے گا۔ مطلب ان مباحثوں میں سچ جھوٹ سے کسی کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا یہ نکتہ جوئی اور جذباتی مکالمے بازی کی مشق ہوتی تھی۔ وزیر خزانہ کی واشنگٹن ڈی سی کے پاکستانی سفارت خانے میں پریس کانفرنس میں کچھ ایسا ہی سماں تھا۔ وزیر موصوف سچائی کی پرتیں کھولنے کی بجائے سوال کرنے والوں کے نکات بلکہ لفظوں کو پکڑ کر جواب پھسلا دیتے تھے۔
موصوف نے پاکستان کی معیشت کو بہترین قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ترقی کی شرح چار فیصد سے اوپر ہوگی، افراط زر کم ہوکر آٹھ فیصد پر آگئی ہے،ٹیکسوں کے ذریعے اکٹھی کی گئی رقوم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، صوبوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوئی ہے،کراچی اسٹاک ایکسچینج تاریخ میں نئی بلندیاں چھو رہی ہے، غذائی اجناس کی فراوانی ہے، ادارے مضبوط ہو رہے ہیں، تارکین وطن کی بھیجی ہوئی رقوم پانچ بلین ڈالر سے بڑھ کر تیرہ بلین ہو گئی ہیں اور بجلی

کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے اتنے نکات پر نہ تو سوالات کئے جا سکتے تھے اور نہ ہی ان کو اس کالم میں سمویا جا سکتا ہے لیکن چند نکات جو اٹھائے گئے ان کے بارے میں سنیئے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا حکومت کے معاشی منیجروں کی ٹیم ہونہار ڈبیٹروں کی ہے جو معیشت سے نابلد صحافیوں کوچکمے دے رہے ہیں یا بہلا پھسلا کر میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی ہمارے جیسا معیشت کا طالب علم صحافت کی ٹوپی پہن کر صحافی بنا بیٹھا ہوا ہو تو مزاحیہ انداز سے اسے بڈھا کھوسٹ آوٴٹ آف ڈیٹ کہ کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وزیر خزانہ سے سوال کیا گیا کہ قومی پیداوار کیلئے بجلی بنیادی عناصر میں ایک ہے۔ جب آدھا وقت بجلی ہی نہیں آتی تو پیداوار کس طرح سے بڑھ رہی ہے اور پھر اگر بڑھ رہی ہے تو میڈیا کی ان رپورٹوں کا کیا جائے جن کے مطابق تقریباً چالیس فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری بنگلہ دیش ہجرت کر چکی ہے۔ پاکستان میں کون سا سیکٹر ہے جو چار فیصد ترقی کا معجزہ دکھا رہا ہے۔
ایک پھرتیلے مباحث کی طرح وزیر خزانہ نے آدھا وقت بجلی نہیں آتی کے الفاظ کو پکڑ لیا اور کہا کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ بجلی اتنی کم آتی ہے۔ آپ کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن طلب زیادہ بڑھی ہے۔ قارئین خود ہی فیصلہ کر لیں کہ ان کے بیان میں کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ ہے؟ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا!
اسی طرح سے انہوں نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بیرون ملک نقل مکانی کو بھی رد کر دیا۔ اس سارے مناظرے میں ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے یہ بتا کر نہ دیا کہ آخر کونسا سیکٹر ترقی کو تین یا چار فیصد بڑھا رہا ہے۔ معاشی ترقی کی شرح کے بارے میں یہی سوال جب ایک اور ورلڈ بینک افسر سے پوچھا گیا تو انہوں نے مزاحاً کہا تھا کہ شاید اس سال کدو اور بھنڈیاں زیادہ پیداہوئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شرح نمو کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لئے ان شعبوں میں بہت ترقی دکھائی جاتی ہے جس کی تصدیق نہیں ہو سکتی جیسے سبزیوں اور اسمال انڈسٹری کی پیداوار۔
ان کے دیرینہ دوست اور پلاننگ کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹرندیم الحق نے بہتر لقمہ دیا کہ بجلی کی کمی حقیقت ہے جس سے شرح نمو چھ فیصد نہیں ہو پائی اور معاشی ترقی انفارمل سیکٹر (غیر منضبط شعبہ) میں ہو رہی ہے۔ انفارمل سیکٹر سے وہ معاشی پیداوار ہے جس کی سرکاری کھاتوں میں لکھت پڑھت نہیں ہوتی اور وہ سرکاری اعداد و شمار کے احاطے سے باہر ہوتے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے حکومت کا کیا تعلق اور وہ اس کے لئے داد کی طلبگار کیوں ہے؟ اٹھارہویں صدی کے پنجاب میں طوائف الملوکی بھی عام تھی اور خوشحالی بھی تیزی سے بڑھی تھی۔ اس کی وجوہ ہم کسی اور کالم میں لکھیں گے لیکن یہاں یہ کہنا کافی ہے کہ غیر منضبط شعبے میں ترقی معاشرے اور سلیقہ مند لوگوں کی مرہون منت ہوتی ہے جس کا کسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر حق کا یہ کہنا غالباً درست ہے کہ حکومت کی ناکامیوں کے باوجود پنجاب اور خیبر پختونخوا میں معاشی ترقی کی رفتار جاری ہے لیکن یہ ان کے پلاننگ کمیشن کا کرشمہ نہیں ہے۔
وزیر خزانہ سے دوسرا بڑا سوال کیا گیا کہ ٹیکس کی رقوم بالواسطہ ٹیکس سے بڑھی ہیں یا بلا واسطہ آمدنی پر ٹیکس وصول کرنے پر۔ اس پر پہلے تو وہ بڑی ترشی سے بولے کہ آج کل ہر کس و ناکس بلاواسطہ ٹیکس کے پیچھے پڑا ہوا ہے حالانکہ سارے غیر ترقی یافتہ ملکوں میں یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے لیکن انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ ٹیکس رقومات بالواسطہ ٹیکسوں سے بڑھی ہیں۔ غالباً ان کو کسی نے یہ یاد نہیں دلایا کہ بالواسطہ ٹیکس عام ضرورت کی اشیاء پر زیادہ ہوتا ہے اور اس لئے اس کا بڑا حصہ غریب عوام ادا کرتے ہوئے اور غریب ہوتے جاتے ہیں اور چونکہ امیر اپنا جائز حصہ ادا نہیں کرتے اس لئے وہ امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں امیر امیر تر ہوا ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جو اسٹاک مارکیٹ کو بلندیوں پر لے جا رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں بھی معاشی بد حالی اور بیروزگاری کافی بلند ہے لیکن ان ملکوں کی اسٹاک مارکیٹیں نئی بلندیوں پر ہیں لہٰذا معاشی بد حالی کے ہوتے ہوئے اسٹاک ایکسچینج کی بلندی پر حکومت کو فخر کرنے کی بجائے شرمندہ ہونا چاہئے۔
وزیر خزانہ نے تارکین وطن کی بھیجی ہوئی رقوم کا بھی بڑے فخر سے ذکر کیا اور اسے اپنی حکومت کے کارناموں کی لسٹ میں شامل کر لیا۔ اول تو تارکین وطن اپنے خاندانوں کی کفالت کیلئے رقوم بھیجتے ہیں جس کا کسی حکومت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے دوم سرکاری خزانے میں ان رقوم کے بڑھنے کا سہرا امریکہ کے سر ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہُنڈی کا نظام تقریباًختم کر دیا ہے اور تارکین وطن کو باقاعدہ بینکاری نظام استعمال کرنا پڑتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کی آمدنی دکھائی جاتی ہے۔ اگر تارکین وطن پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہوتے تو اسے ہم حکومتی کارکردگی سمجھ سکتے تھے، ایسا تو ہوا نہیں اور بیرون ملک کام کرنے والے اپنے خاندانوں کی کفالت کیلئے رقوم بھیجنے پر مجبور ہیں۔ بر سبیل تذکرہ موجودہ حکومت نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جس سے تارکین وطن کو کوئی فائدہ ہوا ہو بلکہ اس نے الٹا ان کو لوٹنے کے لئے ہتھیار اور تیز کر لئے ہیں۔
صوبوں کو ان کا جائز حصہ دینا قابل تعریف کام ہے مگر سندھ جیسے صوبوں کے عوام کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا جس کے صوبائی وزیر خزانہ حفیظ شیخ تھے۔ وہ حیدرآباد کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں دیکھ کر بتائیں کہ ان کے اپنے صوبہ سندھ میں یہ رقوم کس نے اور کیسے استعمال کیں۔ زمینی حقیقت کو دیکھتے ہوئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ”آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کر“۔
ہمیں تو پوری پریس کانفرنس میں اپنا ڈبیٹ کا زمانہ یاد آتا رہا جس میں لفظوں کے کھلاڑیوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ہمارے معاشی منیجر تیز طرار لفظوں کے کھلاڑی تو ضرور ہیں لیکن پاکستان کے معاشی مسائل کا حل شاید ان کے بس کی بات نہیں ہے۔
”بلھے نالوں چلھا چنگا جتھے ان پکائی دا“ ( بلھے شاہ سے تو چولہا بہتر ہے جس پر روٹی پکائی جا سکتی ہے)۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں