آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”خواب خرامی“ تو بہرطور ایک عارضہ ہے لیکن مایوسی و نامرادی کا مرض بھی کسی سرطان سے کم نہیں ہوتا۔ تازہ ضمنی انتخابات‘ آنے والے انتخابات کا ایک ”اشاریہ“ ضرور ہیں لیکن ان کی بنیاد پر دوٹوک انداز میں مستقبل کا کوئی متعین سیاسی زائچہ بنانا مناسب نہ ہوگا مگر اس کا کیا علاج کچھ لوگوں پرہذیان کی سی کیفیت طاری ہے‘ کچھ کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں مسلسل بجے جارہی ہیں اور کچھ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر انتخابات کی چاپ سے ڈرنے لگے ہیں۔ کچھ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جس خواب ناک تصور کو انہوں نے یقین و ایمان کی خوشبو میں بسا کر ایک مسلمہ حقیقت کا درجہ دے دیا تھا‘ وہ تصور سنو لاتا دکھائی دے رہا ہے۔ سو ان کی باتوں میں جھنجھلاہٹ کا عنصر غالب آرہا ہے۔ مضامین تازہ کے انبار لگ رہے ہیں… ”موجودہ نظام کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ لوگ اسی طرح برادریوں‘ گروہوں اور دھڑوں میں بٹے رہیں گے۔ لٹیروں‘ وڈیروں اور سیاسی جاگیرداروں کا شکنجہ بہت مضبوط ہے۔ دھونس‘ دھاندلی کا چلن نہیں بدلے گا۔ انتخاب سے پہلے ایک سفاک احتساب ضروری ہے۔ جب تک بدعنوان سیاست دانوں کو نمونہٴ عبرت نہیں بنادیا جاتا‘ تب تک یہ سب کچھ ایک بڑا فراڈ ہے، وغیرہ وغیرہ۔“
ہمارے ہاں انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کی روایت قائم ہی نہیں ہو پائی۔ تیسری

دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں انتخابی عمل کے دوران چھوٹی بڑی بے قاعدگیاں نہ ہوتی ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی صدارتی انتخاب میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور جارج بش سپریم کورٹ کی رولنگ کے ذریعے قصر سفید میں داخل ہوا۔ حالیہ انتخابات کی ایک زمینی حقیقت یہ ہے کہ انتخابی نتائج کے وقت اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کے واقعات ضرور ہوئے۔ ان کا سختی کے ساتھ نوٹس لیا جانا چاہئے تاکہ آئندہ کیلئے یہ سلسلہ ختم ہوجائے لیکن زخم خوردگان یہ دہائی دیتے پھر رہے ہیں کہ… ”مسلم لیگ (ن) نہیں‘ پنجاب حکومت جیتی ہے۔ زبردست دھاندلی کی گئی ہے۔ پٹواریوں‘ تھانیداروں اور سرکاری اہلکاروں نے الیکشن چرالیا۔ بندوقوں کے زور پر بکسے بھردیئے گئے“۔ لیکن زمینی حقیقت کا جادو کچھ اس طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے آٹھ حلقوں کے دو ہزار کے لگ بھگ پولنگ اسٹیشنوں میں سے کسی ایک کے بارے میں ایسی ٹھوس شہادت نہیں لائی جاسکی جسے دھاندلی‘ جعلی ووٹنگ یا عملے کی جانبداری کی دلیل بنایا جاسکتا۔ خان صاحب سمیت پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ق) کا کوئی لیڈر‘ قابل قدر شواہد کے ساتھ الیکشن کمیشن تک نہیں گیا۔ سب سڑکوں‘ چوراہوں اور ٹی وی چینلز پر دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کیلئے یہ صورتحال انتہائی پسندیدہ ہوگی کہ اس کے شکست خوردہ حریف‘ فریب نظر کا شکار رہتے ہوئے خواب خرامی کا سفر جاری رکھیں اور کوئی ٹھوس جوابی حکمت عملی نہ بناسکیں۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ضمنی انتخابات میں پولنگ کی شرح نے ماضی کے تمام ضمنی انتخابات کو مات کردیا ہے۔ اس سے یہ خیال خام بھی اپنی موت آپ مر گیا کہ عوام اس نظام سے بیزار ہیں اور روایتی سیاست دانوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں لیکن آثار یہی ہیں کہ جوں جوں وقت آگے بڑھے گا اور امتحان کی گھڑی قریب آتی جائے گی‘ توں توں خواب خرامی کا خمار ٹوٹتا جائے گا اور انتخابی نظام‘ جمہوری ڈھانچے اور مروجہ سسٹم کے خلاف بخار بڑھتا چلا جائے گا۔ پورے انتخابی عمل کو بے اعتبار اور جمہوریت کو بے وقار بنانے کیلئے ایسی ایسی آندھیاں چلیں گی کہ زلزلے کی سی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ یہ سب کچھ بڑے دلکش و دل پذیر نعروں کے ساتھ ہوگا۔ بالکل ایسے ہی جیسے ”وسیع تر قومی مفاد“ کے نام پر آمریت ہمارے بتیس سال نگل گئی۔
اس ہاؤ ہو کے درمیان شیخ الاسلام حضرت علامہ طاہر القادری نے پاکستان تشریف لانے اور ایک انقلاب عظیم بپا کرنے کا اعلان فرمادیا ہے۔ حضرت23 دسمبر کو مینار پاکستان کے سائے تلے ایک فقیدالمثال جلسہ عام کررہے ہیں جس کیلئے انہوں نے اپنے مداحوں کو پچاس لاکھ افراد کی حاضری کا ہدف دیا ہے۔ علامہ صاحب کے پیروکار ہمیشہ بڑے پُرجوش رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ تحریک منہاج القرآن اور پاکستان عوامی تحریک کا یہ اجتماع سارے ریکارڈ توڑ دے گا اور اس کے سامنے خان صاحب کا سونامی بھی بڈھے راوی جیسا کم آب دکھائی دے گا۔ شیخ الاسلام کینیڈا کی شہریت اپنا چکے ہیں اس لئے پاکستانی قانون کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتے۔ سو انہوں نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے بلکہ وہ اس پورے نظام ہی کو تلپٹ کر دینا چاہتے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ جس کھیت سے دہقان کو روزی میسر نہ ہو‘ اس کھیت کے ہر خوشہٴ گندم کو جلا دینا چاہئے۔ علامہ طاہر القادری نے اس کی تعبیر یہ فرمائی ہے کہ جو نظام ان کی پارلیمانی رکنیت کی راہ میں مزاحم ہے‘ اس نظام ہی کو بھاڑ میں جھونک دینا چاہئے۔ ایک وقت تھا کہ علامہ طاہر القادری اور عمران خان‘ دونوں انقلاب آفریں آمر پرویز مشرف کے دست و بازو تھے۔ مشرف کے ریفرنڈم کا ڈنکا بجا تو دونوں پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ دونوں میں ایک دوڑ سی لگ گئی کہ ریفرنڈم کی حمایت میں کون زیادہ گرمجوشی دکھاتا ہے۔ اس دوڑ میں کبھی خان صاحب آگے نکل جاتے اور کبھی علامہ صاحب۔ تاہم مبصرین کی متفقہ رائے یہی تھی کہ علامہ صاحب سبقت لے گئے ہیں۔ سال ڈیڑھ کے اندر ہی دونوں کی خواب خرامی‘ کا جادو ٹوٹ گیا اور (ق) لیگ پیا کو ایسی بھائی کہ سہاگن بن کر حجلہٴ اقتدار میں آبیٹھی۔ دونوں مشرف سے روٹھ گئے۔ علامہ صاحب نے تو چالیس صفحات پر مشتمل استعفیٰ لکھا، اسمبلی سے نکلے اور پھر کینیڈا جا بسے۔ خان صاحب نے اسمبلی کی نشست تو نہ چھوڑی البتہ شکست خواب کے آزار کی بکل مارکر لاتعلق سے ہوگئے۔
اب دونوں انقلاب اور تبدیلی کے نعروں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ خان صاحب نے تو تبدیلی کیلئے روایتی انتخابی راستہ ہی چنا ہے اور ”فرشتے کہاں سے لاؤں“ کی دلیل ہر ”اسٹیٹس کو“ کے محافظوں کی سرپرستی میں چلے گئے ہیں لیکن علامہ طاہر القادری نے ”سیاست نہیں‘ ریاست بچاؤ“ کا نعرہ دیتے ہوئے پورے انتخابی اور جمہوری نظام کی نفی کردی ہے۔ وہ اسے فراڈ کا نام دے رہے ہیں۔ انتخابات کی بساط بچھانے سے پہلے انہوں نے تین کڑی شرائط لگادی ہیں۔ غربت کا خاتمہ‘ جہالت و ناخواندگی کا خاتمہ اور سماجی عدم تحفظ کا خاتمہ۔ یہ سب کیسے ہوگا اور اس میں کتنا عرصہ لگے گا؟ اس سوال کا جواب علامہ صاحب 23 دسمبر کے بے مثال جلسہ عام میں دیں گے۔ ان کی بنیادی اپیل یہی ہوگی کہ عوام انتخابات سے لاتعلق ہوجائیں کہ اس سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ میری چھٹی حس یہ کہہ رہی ہے کہ2013ء کے انتخابات کے بعد سونامی بھی ان کا ہمنوا ہوجائے گا اور علامہ طاہر القادری انقلاب عظیم کے اس جہادی سفر میں تنہا نہیں رہیں گے۔
فخرو بھائی کو چاہئے کہ ضابطہ اخلاق کا دائرہ ان بے مہاروں تک بھی پھیلائیں جو کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر انتخابات اور الیکشن کمیشن کی ساکھ کے درپے ہوں اور شاید آنے والے دنوں میں عدلیہ کے سامنے یہ سوال بھی آجائے کہ اگر دہری شہریت کے حامل کسی شخص کو انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں تو کیا اسے پورے انتخابی ڈھانچے‘ آئینی بندوبست اور جمہوری نظام کو نیست و نابود کردینے کی کھلی چھٹی دی جاسکتی ہے؟
انتخابات سے صرف تین چار ماہ قبل ”سیاست یا ریاست“ میں سے ایک کا انتخاب کرلینے کا پُرفریب نعرہ جانے کہاں تخلیق ہوا اور اس کے بطن میں کیسے کیسے فتنے کروٹیں لے رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں