آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍جمادی الاوّل 1440ھ 23؍جنوری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مگربد قسمتی سےبلوچستان کے تقریبا تمام سرکاری اسپتالوں میں ایم آر آئی ،سٹی اسکین تودور کی باتجدید ایکسرے کی سہولیات تک دستیاب نہیں ۔

ایک کروڑ تئیس لاکھ آبادی والے، ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑےصوبے بلوچستان میں صرف ایک سرکاری اسپتال

بولان میڈیکل کمپلیکس کوئٹہ جہاں مریضوں کے علاج کی تشخیص کے لیے ایم آر آئی اور سٹی اسکین ٹیسٹ کی مشینیں کام کرر ہی ہیں جبکہ اندرون بلوچستان تو یہ سہولیات صرف فائلوں تک ہی محدود ہیں۔

ترقی کے اس دور میں ان اضلاع سے مریضوں کوان ٹیسٹوں کیلئے کوئٹہ یا کراچی جانا پڑتا ہے ۔

سربراہ شعبہ ریڈیولوجی /صدر پاکستان ریڈیولوجی سوسائٹی ،ڈاکٹر اشرف اچکزئی کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں کےاسپتال صرف الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے تک محدود ہیں۔ ہم یہ کوشش کررہے ہیں کہ پہلے ڈویژنل اسپتال اور پھر ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو یہ سہولت دیں ۔

کوئٹہ کے اسپتالوں میں ریڈیولوجی کی جدید سہولیات ایم ار آئی ،سٹی اسکین،اور ایکسرے مشینوں سے استفادہ حا صل کرنے والوں کی تعداد ہر ماہ بارہ ہزار سے زائد ہےمگر مشینوں کو چلانے والے ٹیکنیشن اور اسسٹنٹ کی اپنی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں،ان مشینوں سے نکلنے والی شعاعوں سے ان کی زندگی اور صحت کو خطرات لاحق ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایکسرے کی ریڈی ایشن بہت زیادہ ہوتی ہے مگر حکومت ہمیں رسک الاؤنس نہیں دیتی ۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈیولوجی سے مریضوں کی محفوظ دیکھ بھال میں مدد ملتی ہے،اس لئے صوبے کے دیہی علاقوں میں جہاں ریڈیولوجی کی جدید سہولیات ایم ار آئی ،سٹی اسکین،ایکسرے کی فراہمی ضروری ہے وہاں ریڈیالوجی ماہرین کی اپنی صحت کی دیکھ بھال کیلئے اقدامات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں