آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔ کیا میں اپنی پراپرٹی اپنی زندگی میں بیٹیوں کے نام کر سکتا ہوں، کیونکہ میرا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسلام کیا کہتا ہے؟

جواب:۔ جب تک آپ حیات ہیں، اپنی جائیداد کے مالک ومختار ہیں اور مالک ومختار ہونے کی حیثیت سے آپ جس کے نام جائیداد کرکے اس کےحوالے کردیں گے، وہ مالک ہوجائے گا، مگر شریعت کامنشاء یہ ہے کہ کسی وارث کو کسی معقول وجہ کے بغیر اس کے متوقع حصہ وراثت سے محروم نہ کیاجائے۔اگر بیٹیوں کے علاوہ آپ کی بیوی حیات ہے اور کوئی قریبی رشتے دار مثلاً بھائی یا بھتیجا وغیرہ بھی ہے تو میراث کے قانون کے مطابق بیٹیاں دوتہائی کی مستحق ہوں گی ، بیوی آٹھویں کی اوربقیہ دیگر قریبی رشتے دار کا ہوگا۔اب اگر آپ نےساری جائیداد بیٹیوں کو دے دی تو بیوہ اور دیگر ورثاء کے لیے کچھ نہیں بچے گا اور وہ محروم رہ جائیں گے ،جس سے ان کی دل آزاری ہوگی اور یہی دل آزاری ان میں قطع رحمی کا سبب بنے گی ،جب کہ شریعت نہیں چاہتی کہ ان میں قطع رحمی ہو ، لہٰذااگر بیٹیوں کے علاوہ آپ کا کوئی اور بھی متوقع وارث ہے اور ان کے لیے آپ میراث میں کچھ نہیں چھوڑتے تو آپ کا عمل مکروہ ہوگا،اگر چہ جیساذکر کیا گیا کہ مالک ومختار ہونے کی حیثیت سے آپ جسےزندگی میں کچھ دے جائیں گے تو وہ مالک ہوجائے گا۔یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی بالغ یا بالغہ کے نام کوئی جائیداد کی جائے تو جب تک جائیداد کو با قاعدہ تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصے کا قبضہ نہ دیا جائے، اس وقت تک وہ مالک نہیں بنتا ۔حاصل یہ نکلا کہ آپ زندگی میں دوتہائی بیٹیوں کو دے دیں اور آٹھویں حصے تک بیوی اگر حیات ہے ،اسے دے جائیں اور بقیہ دیگر وارثوں کے سپر د کرجائیں اور جسے دیں ،اسے قبضہ بھی دے جائیں تو جائیداد بھی زندگی میں تقسیم ہوجائے گی اور شریعت کو بھی آ پ کے فعل پرکوئی اعتراض نہ ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں