آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان وزیر اعظم بننے کے بعد ابھی تک میانوالی نہیں گئے۔گزشتہ روزاُن کے کزن ڈاکٹر اسلم خان کی وفات پر ہم لوگ بڑے پُریقین تھے کہ چین سے واپس پاکستان پہنچتے ہی وہ میانوالی آئیں گے مگر ملکی صورتحال کی گھمبیرتانے شایدانہیں ابھی تک پیچھے مڑکر دیکھنے کا موقع نہیں دیا۔نئے پاکستان کےلئے ایک جنگ ہے کہ جاری ہے۔الحمدللہ معاشی بحران سے تو وہ پاکستان کو نکال لائے ہیں۔عمران خان کے کزن کی فاتحہ خوانی کےلئے میں اور قاسم خان سوری ( ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی ) میانوالی پہنچے۔ ان کے کزن کے بیٹےاحمد خان کے ساتھ اظہارِ افسوس کیا۔عمران خان کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی سے بھی ملاقات ہوئی۔گل حمید نیازی کے گھر شہباز خیل گئے۔اظہر نیازی اور اختر مجاز ساتھ ساتھ تھے۔عمران خان کے میانوالی نے قاسم خان سوری کابھرپور استقبال کیا مگر ہرآنکھ اُن سے یہی سوال کررہی تھی کہ عمران خان کب میانوالی آئیں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عمران خان جب میانوالی جائیں گے تو اپنے آبائی گھر ’’عظیم منزل ‘‘ میں بھی ضرور جائیں گے۔وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے عزیز و اقارب سے محبت کرنا اُن پر واجب ہوچکا ہے۔خاندان کی نئی نسل تو خیر اب بھی عمران خان کے ساتھ ہی ہے۔

میانوالی کے لوگ عمران خان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ابھی ضمنی انتخابات میں میانوالی شہر کی نشست پر عمران خان کے امیدواراحمد خان بھچر تھے ان کے مقابلے میںکسی اور نے کاغذاتِ نامزدگی جمع ہی نہیں کرائے۔وہ بلا مقابلہ ایم پی اے بن گئے۔یہ اہل میانوالی کاعمران خان سے محبت کا منہ بولتاثبوت ہے۔خیر احمد خان بھچر کمال کے آدمی ہیں۔ میانوالی جہاں عمران خان سے محبت کرنے وا لی ایک دنیا آباد ہے۔ان میں انوار حسین حقی کا نام سر فہرست ہے۔انوار حسین حقی نے اپنی زندگی عمران خان کی فکر کی ترویج کےلئے وقف کررکھی ہے۔میں نے اُس سے زیادہ عمران خان سے محبت کرنے والا کوئی اور نہیں دیکھا۔عمران خان کو بھی ان کے ساتھ خصوصی محبت کرنی چاہئے۔

سولہ سال تک عمران خان کے جس بزرگ صحافی دوست نے اکیلے ان کیلئے جنگ لڑی اور نون لیگ کی طرف سے ہونے والے ہر وار کو برداشت کیا اس وقت اُس شخصیت کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے عمران خان کو اُ س کا بھی نوٹس لینا چاہئے۔خاص طور پر عمران کی ٹیم کو اس سلسلے میں بہتر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کا کردار جیسے مذہبی امور کے وزیر نور الحق قادری نے ادا کیا۔گزشتہ دنوں ہونے والے دھرنے جیسے انہوں نے ختم کرائے اس کی مثال اُس سے پہلے نہیں ملتی۔

ایک اور بات بھی عمران خان کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں پاکستانی میڈیا اُس وقت جس مقام تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے آگے تو بڑھ سکتا ہے اسے پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔میڈیا کے اشتہارات میں حد سے زیادہ کمی نئے پاکستان کےلئے قطعاً بہتر نہیں ہے۔بے شک حکومت ایسے اشتہارات روک دے جو پچھلی حکومت میں حکمرانوں کی ذاتی تشہیر کےلئے دئیے جاتے تھے مگراشتہارات پراتنی زیادہ پابندی درست نہیں کہ میڈیا کے لوگ پریشان حال ہوجائیں۔اس سے حکومت کو دو طرح کے نقصان ہو نگے ایک تو میڈیا بلاوجہ اُن کا مخالف ہوجائے گادوسرا میڈیا کی تباہی سے ملک کی ترقی پر بھی اثرات مرتب ہونگے۔وہ میڈیا جو ماضی میں عمران خان کا شدید مخالف تھا اب اگر وہ اپنی غلطی تسلیم کرکے سچ کی طرف واپس آنا چاہ رہا ہے تو اسے آنے دیا جائے اُس کا راستہ نہ روکیں۔یہی سب سے بہتر بات ہے۔

عمران خان کی فوری توجہ اُن اداروں کی طرف بھی ہونی چاہئے جہاں ابھی نون لیگ کے ہمدرد براجمان ہیں۔ ان اداروں میں نئے لوگ لگائے جائیں۔خاص طور پر ادب اور کلچر کے اداروں کی طرف دھیان دیا جائے۔پنجاب میں سولہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ابھی تک نہیں لگائے گئے۔وہاں فوری طور پر نئے وائس چانسلر تعینات کئے جائیں۔یونیورسٹیوں کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہ ہے کیونکہ بہت سی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر تو کجا ڈین بھی موجود نہیں۔

احتساب کے نظام کو اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ نیب کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال بہت اچھا کام کر رہے ہیں مگر اطلاعات آرہی ہیں کہ نیب کے پر کاٹنے کی کوشش جاری ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

بیورو کریسی کے حوالے سے جو ٹاسک فورس بنائی گئی تھی اُس کی تجاویزفوری طور پر لاگو کی جائیں۔جب تک حکومت بیورو کریسی کے جن کو بوتل میں بند نہیں کرے گی اُس وقت تک ملک میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں آ سکے گی جسے نئے پاکستان کا آغاز کہا جا سکے۔ابھی تک وہی پرانا پاکستان ہر طرف جلوہ فگن ہے۔اب بھی عام آدمی کا ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او سے ملنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پچھلے دور میں تھا۔ابھی تک تحصیل دار اور پٹواری دیہی علاقوں کے حاکم ہیں۔ ابھی تک پنجاب پولیس میںکوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پنجاب کے آئی جی کو بدلنے کی فوری ضرورت ہے۔تعلیم کے نظام میں بھی کوئی بہتری نہیں آئی اسی طرح کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔صحت کی بہتری کیلئے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی کوششوں کو ضرور سراہا جانا چاہئے مگر باقی محکمے بھی ہیں۔وہاں بہتری کون لائے گا۔سو دن مکمل ہونے والے ہیں اور ابھی جنوبی پنجاب صوبہ کی پہلی اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔ عدالتی نظام بھی اسی طرح چل رہا ہے۔ لوگ اسی طرح کچہریوں کا طواف کررہے ہیں۔ مقدمات کے فیصلوں میں کوئی تیزی نہیں آرہی۔پنجاب جو ملک کا سب سےبڑا صوبہ ہے وہاں بہتری بالکل دکھائی نہیں دے رہی عمران خان کو فوری طور پر پنجاب کے معاملات میں دخل اندازی کرنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں