آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آصف علی زرداری نے ’’سیاست عبادت سمجھ کر کرتا ہوں‘‘ کا ورد شروع کر دیا ہے جبکہ شہباز شریف کی درویشی کے قصے رانا ثناءاللہ نے اسمبلی کو سنانے شروع کر دیئے ہیں۔ رانا صاحب بات بات پر شہباز شریف کو درویش بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما مجھ سے کہنے لگے ’’ہمارے لیڈر کے علاوہ پاکستان میں کوئی ایسا نیک رہنما ہے جو غریبوں کے اکائونٹس میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اور اربوں روپے رکھواتا ہو‘‘۔ پیپلز پارٹی کے علاوہ بعض لوگ آصف زرداری کو سخی اور ہاتھ کا کھلا قرار دیتے ہیں۔ رہے شہباز شریف تو ان کی درویشی کی گواہی فی الحال رانا ثناء اللہ ہی دے رہے ہیں، گواہیوں کے اس سلسلے میں نکاحوں اور طلاقوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو گواہیوں کی تعداد اچھی خاصی ہو جائے گی۔ ایسے باتیں ہو رہی ہیں کہ جیسے پورے پاکستان میں بڑے روحانی سلسلے صرف ان دو شاہی خاندانوں ہی میں پھیلے ہوئے ہیں۔ حسن نواز اور حسین نواز تبلیغ کے سلسلے میں برطانیہ میں ہیں، اس روحانی سلسلے کو وسعت دینے کے لئے سلمان شہباز بھی لندن چلے گئے ہیں جہاں کرشماتی پیر اسحاق ڈار چلہ کشی کر رہے ہیں۔ اسی طرح دوسرے شاہی خاندان میں بھی کرامتوں کی بہت سی مثالیں ہیں، اس سے بڑی کرامت کیا ہو سکتی ہے کہ کسی غریب آدمی کو پتا ہی نہ ہو اور اس کے اکائونٹ میں اربوں روپے آ جائیں۔ ایسی کرشمہ سازی کرنے والا پیر ہتھیلی پر سرسوں جما سکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا تو نام بھی ایک درویش بلاول ہی کے نام پر رکھا گیا تھا، زرداری قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس درویش نے بڑے بڑے بال رکھے ہوتے تھے، وہ دنیا سے بے نیاز ہی رہتے تھے، ویسے تو آج کل آصف زرداری بھی گرفتاری سے بے نیاز ہیں، اس سے بڑی درویشی کیا ہو سکتی ہے کہ زرداری صاحب آنے والے حالات خود بتا رہے ہیں، انہیں اپنی گرفتاری کا اتنا پکا یقین ہے کہ وہ لوگوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں کہ ’’میری گرفتاری کے لیے راستے ڈھونڈے جا رہے ہیں‘‘۔

خواتین و حضرات! پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے لوگ اپنی اپنی قیادتوں کو نیک ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر حیرت ہے کہ ان لوگوں نے کبھی لوٹ مار کا تذکرہ نہیں کیا، یہ آپ کو کبھی نہیں بتائیں گے کہ پاکستان کی معیشت کیسے برباد ہوئی، ملک میں ادارے کیسے برباد ہوئے، خزانہ کیسے خالی ہوا، رشوت کا بازار کیسے گرم ہوا، ملک پر ڈاکے کیسے پڑے، مافیا کا راج کیسے قائم ہوا، کیسے لوگوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں مروایا جاتا رہا، کس طرح جیتے جاگتے شہروں میں ظلم کا بسیرا ہوا، کس طرح آپ کے بچے پیدا ہوتے ہی کھربوں کے مالک بن گئے، یہ کیسے ہو گیا کہ آپ کے اثاثے چند سال پہلے بہت کم تھے یعنی لاکھوں میں تھے اب کھربوں میں ہیں، یہ کبھی بھی ان سوالوں کے جواب نہیں دیں گے بلکہ خود کو سچا ہی کہیں گے اور بڑی بے شرمی کے ساتھ کہیں گے کہ ہم نے تو کرپشن نہیں کی، ہم نے تو دن رات ملک کی خدمت کی ہے۔ صوفی برکت علیؒ نے تو قرآن محل سالار والا میں بنایا تھا، پتا نہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نام نہاد ولیوں نے بیرونی دنیا میں کیوں محلات بنانے میں عافیت سمجھی ہے۔ آج کل قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھ کر لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنا اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔ پچھلے ڈھائی مہینوں میں کئی بار کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے، ایک مرتبہ تو عمران خان کے ایک وزیر بھی کھیل کا حصہ بن کر حکومت کے خلاف استعمال ہوئے۔

کبھی احتجاجی تحریک کا پروگرام بنتا ہے تو کبھی اے پی سی بلانے کا عہد کیا جاتا ہے، حالیہ مظاہروں میں بھی کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی تھی، فتوے اور جملے پس پردہ کھیل بتا رہے تھے، عدلیہ اور فوج سے کس کو تکلیف ہے، زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ مظاہروں کے دوران دلیری سے میدان میں اترنے پر ضیاء الحق نقشبندی مبارکباد کے مستحق ہیں، اسی طرح کامیاب مذاکرات کے ذریعے دھرنے ختم کروانے پر صاحبزادہ نور الحق قادری مبارکباد کے مستحق ہیں۔ نور الحق قادری کی حکمت عملی کو سلام کرنا چاہئے۔

آج کل چین کے دورے کا بہت پوچھا جا رہا ہے تو پھر سن لو چین سے تقریباً پندرہ ارب ڈالر کا پیکیج ملا ہے، پانچ ارب ڈالر کرنٹ اکائونٹ کی سپورٹ کے لئے، پانچ ارب ڈالر سی پیک کے تین سالوں میں ملیں گے جبکہ پانچ ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری ہو گی۔ پاکستان کی پچیس اشیاء پر چین درآمدی ڈیوٹی بہت کم لگائے گا، تجارت مقامی کرنسی میں ہو گی۔ سعودی عرب اور چین کی مدد سے پاکستانی معیشت کی کشتی گرداب سے تو نکل آئی ہے مگر اب پاکستانی وزیر خزانہ کو قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے لئے پیرس کلب کے پاس جانا چاہئے تاکہ بیس پچیس برسوں کی آسانی میسر آجائے اور اس دوران پاکستان اپنی معیشت درست کر لے۔ پاکستان 2001ء میں بھی پیرس کلب کے پاس گیا تھا، اس وقت بھی قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ ہوئی تھی، اس سے بارہ برسوں کے لئے آسانی ہو گئی تھی مگر افسوس کہ پھر پاکستان پر ایسے لوگ حکمران رہے جنہوں نے ملک کا نہیں سوچا، صرف اپنا سوچا، صرف اپنا کھیل کھیلا۔

اب جب پاکستان کو لیڈنگ رول مل رہا ہے، وہ یمن کے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے تو مجھے آج 9نومبر کے موقع پر علامہ اقبالؒ کا یہ شعر بہت یاد آرہا ہے ؎

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں