آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے انکشاف کیاہے کہ دھرنے کے دوران جلاؤگھیراؤاورفسادکے واقعات میں پارلیمنٹ میں بیٹھی بعض ایسی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ملوث تھے جو ہمیں ایوان میں مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتی تھیں‘ حکومت تحقیقات کرا رہی ہے ، ہم ان میں سے کسی کو معاف نہیں کریں گے‘ قانون توڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی‘ جلاؤ گھیراؤکے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنادیں گے ‘جو قانون توڑے گا اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے وہ کابینہ یا پارلیمنٹ کے ارکان ہی کیوں نہ ہوں‘ آسیہ بی بی کے فیصلے سے متعلق بات کرتے ہوئے شہر آفریدی نے کہا کہ نظر ثانی کی اپیل میں جانا ہر پاکستانی کا حق ہے،اگر سپریم کورٹ فیصلہ دے گی تو اس پر مکمل عملدرآمد ہوگا‘ اب ہمیں صحیح اور غلط کے درمیان ایک واضح لائن کھینچنا ہوگی‘پاکستانیوں پر گولی اور ڈنڈا چلانا ماضی کا وطیرہ تھا۔جمعرات کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے

ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہاکہ جب کسی ملک میں امن نہیں ہوتا اور اس کی عزت اور توقیر نہیں ہوتی تو دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی ہے‘جب ہم اپنے قومی سلامتی کے اداروں کی استعداد نہیں بڑھائیں گے اور پالیسیاں ملکی مفاد میں نہیں بنائیں گے تو پھر کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں‘قانون بنانے والے تو موجود ہیں، اگر عدالتی نظام میں سقم ہو تو فوجی عدالتیں ہی قائم کرنا پڑتی ہیں‘ہم نے تحریک لبیک کے ساتھ پرامن مذاکرات کئے اور انہوں نے معذرت بھی کی‘نئے پاکستان میں ہم کسی پر گولی چلانے کے حق میں نہیں ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں