آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوازشریف کے 4.9 ارب ڈالر بھارت بھجوانے کی بات چیئرمین نیب نے کبھی نہیں کی، ڈی جی نیب لاہور

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ،ڈی جی نیب لاہورشہزاد سلیم نے کہا ہے کہ نواز شریف کے چار اعشاریہ نو ارب ڈالر بھارت بھجوانے کی بات چیئرمین نیب نے کبھی نہیں کی،میڈیا نے چلا دیا۔ شہباز شریف کے خلاف اس مہینے کے آخر تک ریفرنس فائل ہوجائےگا ،جو ہمارےپاس حراست میں ہےاسکو کریدرہے ہیں،ملزمان حراست میں کچھ بات کرتے ہیں ، باہر کچھ اور بیان دیتے ہیں،عبدالعلیم خان کےکیس میں بیرون ملک کچھ کاغذات آنےہیں وہ آجائیں گےفیصلہ ہوجائے گا،سرکاری عمارتوں میں آگ لگا کر ریکارڈ تباہ کیاجاتا ہے،اساتذہ کوہتھکڑی لگانےکےمعاملےپرمعذرت کرکےاعلی ٰظرف کاثبوت دیا،فواد حسن فواد کے اثاثوں کے کیس کو 90 دن پورے نہیں ہوئے،فواد حسن فواد پر آشیانہ کیس اور اثاثوں کا کیس چل رہاہے ،ہماری ایک ٹیم نہیں ، چار ، پانچ ، چھ ٹیمیں تفتیش کرتی ہیں،جب آپ تفتیش کرتے ہیں تو آپ کو زبانی بہت سی باتیں پتا چلتی ہیں ،براہ مہر بانی اس نیب کو کام کرنے دیں

،ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نیب نہیں کرپشن ہے ،کسی کیس میں ضرورت پڑی تو چودھری برادران ،مونس الہیٰ کوحراست میں لیں گے،سرکاری عمارتوں میں روز آگ لگ جاتی ہے،یہ رکارڈ تباہ کیاجاتا ہے،عبدالعلیم خان کےکیس میں بیرون ملک کچھ کاغذات آنےہیں وہ آجائیں گےفیصلہ ہوجائے گا، سلمان شہبازکو بلایاتھا بجائے نیب آنے کے وہ باہر چلے گئے،روز ملک کے سرکاری عمارتوں میں آگ لگ جاتی ہےیہ ریکارڈ تباہ کیاجاتا ہے،عبدالعلیم خان کاکیس چل رہا ہےاور معمول کےردھم کے مطابق چل رہا ہے،شہبازشریف نے کہا اثاثے میرے بیٹوں کے نام ہیں،ہم نے شہبازشریف سے پوچھا تھا کہ آپ کے کتنے اثاثے ہیں ،سعد رفیق کیس کاکوئی گواہ آتاہےتواس کا فون بند ہوجاتاہےیاوہ غائب ہوجاتاہے،شوگر مل اورپولٹری فارم کاویسٹ اس نالے میں جارہاتھا،آشیانہ کیس مکمل ہوچکا ہےاور مہینے کے آخر تک عدالت میں ہوگا،ہم نے سارے متعلقہ سوال پوچھے ہیں،راجہ صاحب کی اینٹی کرپشن تو مزے سے بیٹھی رہی،ہم نےایسےثبوت پکڑلیے جس پرہم شہبازشریف کیخلاف ریفرنس داخل کررہےہیں،بہانہ کوئی اور تھا ، نشانہ کوئی اور تھا ،2017 کے ستمبر، اکتوبر میں کیس اسٹارٹ ہوا،انھوں نے پہلے والا کنٹریکٹ روکا اور کنٹریکٹر کو پیسے دیے،یہ سارا کام پیراگون کے لیے کیا گیا ، ’’مس یوز آف اتھارٹی‘‘ایک کرمنل ایکشن ہے،جو ہمارےپاس حراست میں ہےاسکو کریدرہے ہیں ،سوال پوچھ رہے ہیں،شہباز شریف کے خلاف اس مہینے کے آخر تک ریفرنس فائل ہوجائےگا،کیس اتنا سادہ نہیں ہوتا کہ ہم نوٹ سامنے رکھیں گے اور سب سامنے آجائیگا،ملزمان حراست میں کچھ بات کرتے ہیں ، باہر کچھ اور بیان دیتے ہیں،ملزمان جب حراست میں آتے ہیں تو پھر الگ بات کرتے ہیں،علی عمران کےجوابات مبہم اورسرکاری چیک ذاتی اکاؤنٹ میں ڈالےگئے،ملزمان سے پوچھا جاتا ہے تب وہ بتاتے ہیں ،علی عمران سے یہ پوچھنا تھا کہ یہ پیسے انھوں نے کس کو دیے ،علی عمران صاحب جب واپس آئیں گے تو جواب دیں گے ،علی عمران 2 ،3 ماہ ہوئے چلے گئے ہیں ،ہم جس کو بلاتے ہیں وہ ملک سے باہر بھاگ جاتا ہے ،50 کروڑ میں سے13کروڑ روپے ملزم نے اپنے اکاؤ نٹ میں ڈالے ،علی عمران کےجوابات مبہم اورسرکاری چیک ذاتی اکاونٹ میں ڈالےگئے،کیس یہ ہے کہ سرکاری پیسے جو نکلے وہ کہاں گئے،علی عمران نے سرکاری چیک اپنے اکاؤنٹس میں ڈلوائے۔شاہ زیب : مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کو پانچ مہینے سے گرفتار کیا گیا ہے یہ تو ویسا ہی ہے کہ آپ سے کوئی آپ کی جعلی ڈگری کا معاملہ ہوا تھا اس پر سوال پوچھے اور آپ پرآمدنی سے زائد اثاثوں کا کیس بنا دے۔آپ سوال نہیں اٹھائیں گے کہ یہ کیا کررہے ہیں میرے ساتھ؟شہزاد سلیم: چلیں جعلی ڈگری کا بڑا مزیدار شوشا چھوڑا ہے آپ نے ، اس پہ بھی بات کر لیتے ہیں پہلے ۔آپ کو پتا ہے کہ وہ ڈگری جعلی نہیں ہے ۔اورآپ کس طریقے سے بدنام کر رہے ہیں یہاں بیٹھ کرمیڈیامیں ، آپ کو پتا ہے، اس کا کون خمیازہ بھگتے گا؟اگر وہ ڈگری ایچ ای سی نے ویریفائی کی ہوئی ہے تو کون اس جھوٹ کا خمیازہ بھگتے گا؟یہ پگڑیاں آپ نہیں اچھال رہے؟ شاہ زیب: اصلی ڈگری جمع کروادی ہے آپ نے نیب میں؟شہزاد سلیم: کرادی ہے میں نے۔آپ کو نہیں جمع کرانی ان کو کرانی ہے، ایچ ای سی نے کی ہوئی ہے ویریفائی۔ سب کے پاس پڑی ہے۔یہ جھوٹاڈراماجو ہے یہ بہت دیر سے سن رہا ہوں ۔شاہ زیب: وسیم عباسی کی نو اکتوبر کی خبر ہے اس کا آپ نے جواب نہیں دیا۔شہزاد سلیم: وسیم عباسی میرے سامنے آئے میں اس سے دو بار ملا ہوں جا کے۔اس کو میں نے دو دفعہ اصلی ڈگری دکھائی ہے۔اور اس نے مجھ سے معافی مانگی ہے ایک دفعہ کہ ہاں آپ صحیح کہتے ہیں ۔مجھ پر بڑا پریشر تھا پتا نہیں کون سے پریشروں سے آپ خبریں لگاتے ہیں ۔شاہ زیب: انہوں نے آپ سے کلیبری فونٹ کا پوچھا کہ آپ کی ڈگری کلیبری فونٹ میں کیسے ہے۔یہاں تو مریم نوا زکی 2006کی ٹرسٹ ڈیڈکے کلیبری فونٹ پر سوال اٹھ گیا تھا۔شہزاد سلیم: وہ وسیم عباسی نے بنائی ہو گی۔اس سے پوچھ لیں کلیبری فونٹ کیا ہوتا ہے۔وہ بتادے گا۔شاہ زیب: آپ کی ہے کلیبری فونٹ میں ڈگری یا نہیں ہے؟شہزاد سلیم: یہ آپ دیکھ کر بتائیں مجھے مجھے تو کلیبری فونٹ کا نہیں پتا ۔آپ لے لیں اس کو کہیں سے کرالیں اس کی ریسرچ۔وسیم عباسی: شہزاد سلیم غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔میں نے ان سے کبھی معافی نہیں مانگی ۔اللہ کا شکر ہے میں ایسی اسٹوری نہیں کرتا جس پر مجھے معافی مانگنی پڑے ، میں اپنی خبر پر بالکل قائم ہوں۔ میں ان کو چلینج کرتاہوں کہ یہ ثابت کریں کہ ان کی ڈگری اصلی ہے ۔ان کی ڈگری ایچ ای سی سے ویریفائی ہوئی تھی لیکن بعد میں ایچ ای سی نے پشاورہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ غلطی سے ویریفائی ہو ئی ۔ان کی ڈگری الخیر یونیورسٹی کی ہے اورایچ ای سی سے ریکگنائز نہیں ہے۔یہ اس وقت نوکری پر تھے اسلام آباد میں جب یہ ڈگری لی اور جب یہ ڈی جی نیب پشاور تھے تو انہوں نےشایددباؤکے تحت ایچ ای سی پشاورسے ویریفائی کروائی۔شہزاد سلیم نے کہا کہ یہ جو اہم معاملہ ہے پچاس کروڑ روپے کا اور پلی بارگین کا جس میں سے 13کروڑ روپے شہباز شریف کے داماد کو دیئے گئے اس میں پلی بارگین ان صاحب سے تو ہوگیا مگر اس معاملہ کی آگے کیا تحقیقات ہوئیں، کیا شہباز شریف کے داماد سے آگے پیسے شہباز شریف کے بیٹوں یا پھر شہباز شریف کو گئے، شہباز شریف کسی طریقے سے اس کیس سے لنک ہوئے ہیں یا ان کے بچے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: یہ جو آپ نے particular سوال کیا اس کے حساب سے جواب یہ ہے کہ 13 کروڑ روپے جو اکرام نوید نے یہاں سے چرائے تھے اس میں سے تیرہ کروڑ بینکنگ ٹرانزیکشن کے ساتھ انہوں نے علی عمران کے پاس بھیجے، through bank بھیجے، اس میں بعض چیک ایسے تھے جس پر لکھا ہوا تھا گورنمنٹ آف پاکستان، یعنی وہ چیک ہی پرنٹڈ ہوتے ہیں جو گورنمنٹ آف پاکستان کے ہیں، تو وہ بڑے صاف نظر آرہے تھے کہ یہ تو سرکاری چیک ہیں تو یہ کیسے میرے پاس آرہے ہیں میں تو ایک پرائیویٹ آدمی ہوں، یہ جو ساری کی ساری بات اور کھیل چل رہی تھی یہ اکرام نوید آڈٹ اکاؤنٹ کے گریڈ 20کے سرونگ آفیسر تھے ان کو لگوانے والے بھی علی عمران صاحب ہی تھے، یہ ساری کی ساری ان کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی اس سے یہ کام چل رہا تھا، انہوں نے پیسے نکالے، کچھ اپنے لے لیے کچھ ان کو دیدیئے، بعد میں انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں یہ تو سرمایہ کاری ہے، ہم نے ان سے سوال کیا علی عمران صاحب ایک بار ہمارے پاس تشریف لائے تھے، ہم نے انہیں سوال کیا کہ اگر سرمایہ کاری ہے تو اپنے ٹرمز اینڈ کنڈیشن دکھائیں، کوئی معاہدہ دکھائیں کہ کس چیز کی سرمایہ کاری ہے کیا چیز لینی ہے تو He had nothing over there ہم نے کہا کوئی اور چیز بتائیں تو ایک چٹ لے کر آگئے جس چٹ پر لکھا ہوا تھا فلور نمبر تھری۔ ہم نے کہا یہ کیا ہے ، یہ بس میں نے فلور نمبر تھری جو تھا وہ ان کو دیدینا تھا، وہ ساری باتیں اتنی مبہم تھیں اور اتنی کلیئر violative تھیں کہ انہوں نے سرکاری چیکس اپنے پرائیویٹ اکاؤنٹ میں ڈلوائے، نہ وہ ان کو واپس ہوئے ، ہم نے اس کو جیسے assumption ہے کہ وہ ان کا حصہ تھا علی عمران کا جو ان کو دیا گیا تھا۔ شاہزیب خانزادہ: علی عمران کے اکاؤنٹس آپ نے چیک کیے کہ وہاں سے وہ پیسے کہاں گئے، کہیں شہباز شریف کی طرف یا شہباز شریف کے بچوں کی طرف نہیں گئے یا ان کو اگر علی عمران نے لگوایا تو پھر کیا شہباز شریف کے کوئی آرڈرز تھے کہ علی عمران جو ان کے داماد ہیں ان کا کہنا مانا جائے اور ان کے کہنے پر تعیناتیاں کی جائیں؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: ہمارا کیس یہ نہیں ہے جو آپ کا سوال ہے، ہمارا کیس یہ ہے کہ وہاں سے جو سرکاری پیسے نکلے وہ کہاں گئے، اس میں سے جو سرکاری پیسے ٹوٹل پچاس کروڑ نکلا، پچاس کروڑ میں سے تیرہ کروڑ ادھر دیئے باقی جو پیسے تھے اس کی اس نے پراپرٹی خریدی، آپ کو یہ بات سن کر خوشی ہوگی کہ نیب نے جس طرح ہمارے پر آپ پلی بارگین کا الزام لگادیتے ہیں کہ اتنی اماؤنٹ تھی اور اتنے میں کرلی، یہ ٹوٹل پچاس کروڑ اماؤنٹ ہے اورا س میں جو پراپرٹیز ہیں جس میں سینٹورس کا بہت ہی قیمتی فلیٹ شامل ہے انہوں نے خریدا ہوا ہے اس کی مالیت ایک ارب دس کروڑ سے کہیں زیادہ ہے، ہم نے یہ سارے کے سارے پیسے national exchecker میں جمع کرانے کیلئے in shape of properties اور وہ پورے کے پورے وہاں پر چلے جائیں گے۔ شاہزیب خانزادہ: یہ تو آپ کی بڑی کامیابی ہے ، اس بار ے میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ آپ نے پیسے ریکور کیے ہیں، میں صرف یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ یہ پیسے ریکور ہوگئے، پلی بارگین انہوں نے کرلیا تو اب یہ کلوز ٹرانزیکشن ہے یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ علی عمران نے اپنا اثر و رسوخ کیسے استعمال کرلیا، شہباز شریف کے کہنے پر کیا یا خود ہی کرلیا، پھر وہ پیسے علی عمران سے آگے کہاں گئے، یہ تو سیدھا سیدھا شہباز شریف کے اوپر کیس بن سکتا ہے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: آپ ایک ٹی وی انٹرویو لے رہے ہیں آپ نیب کی تفتیش تو کر نہیں رہے، پھر ہم بہت زیاہ چیزوں میں چلے جائیں گے، آپ موٹی موٹی بات سمجھ لیں جو ٹی وی اور میڈیا کے پوائنٹ آف ویو سے ہے، اس میں سے تیرہ کروڑ روپے ان کے اکاؤنٹ میں گئے اور بقایا کی انہوں نے جو پراپرٹیز لی تھیں وہ ساری ہم نے سرینڈر کرلیں، ان سب کو اگر ہم جمع کریں گے تو یہ ایک ارب روپیہ ہوگا جو ہمیں انشاء اللہ تعالیٰ گورنمنٹ آف پنجاب کو، یہ پنجاب گورنمنٹ کے پیسے ہیں نیب کا نہیں ہے، ہم ساری کی ساری چیزیں ان کو جمع کرائیں گے۔ شاہزیب خانزادہ: آپ ٹی وی انٹرویو میں ہی ہیں، میں جاننا چاہ رہا ہوں کہ بس تحقیقات یہیں تک ہیں اور پھر یہ کیس کلوز سمجھا جائے، علی عمران سے آگے شہباز شریف implicate نہیں ہیں، شہباز شریف کے بچے implicate ہوسکتے ہیں اس میں کہ آگے پیسے کہاں گئے، کیسے علی عمران نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنا بندہ لگوادیا؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: وہ تو علی عمران بھاگ گئے، ہم جس کو بلاتے ہیں وہ ملک سے باہر بھاگ جاتا ہے یا کوئی اور طریقہ اختیار کرلیا جاتا ہے، ان کو اسی لئے بلانا تھا اسی لئے پھر بلایا وہ آئے نہیں، ان سے یہی پوچھنا تھا کہ آپ نے یہ پیسے کس کو دیئے ہیں، آپ نے شہباز شریف کو دیئے ہیں، آپ نے حمزہ کو دیئے ہیں، آپ نے سلمان کو دیئے ہیں، کڑی توڑی انہوں نے اور یہاں سے چلے گئے پتا نہیں دو تین چار ماہ ہوگئے ہیں وہ مڑ کر واپس ہی نہیں آئے، جب وہ آئیں گے وہ آکر اپنے ان پیسوں کا حساب دیں گے۔ شاہزیب خانزادہ: علی عمران کے پاس بینک سے آئے، علی عمران کی بینکنگ ٹرانزیکشن کا ریکارڈ آپ نے نکالا کہ وہاں سے کہاں گئے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: وہاں سے نکالا ہے، وہ سارا کچھ ہے لیکن اس کو ابھی ہم نے علی عمران کے ساتھ confront کرنا ہے بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو unknown سے نمبر ہیں، اب اللہ جانے وہ کس کے نام پر ہیں اور کون بینیفشری ہے، ہمارے پاس کوئی جادو نہیں کہ ہم دو چار آیتیں پڑھیں گے اور سب کچھ سامنے آجائے گا، ہم کو اس کو اسی طرح چلانا ہوتا ہے، لوگ اگر کوآپریٹ کریں گے تو ہم آگے چلیں گے۔ شاہزیب خانزادہ: اس میں جادو کی کیا بات ہے، بینک ٹو بینک پیسہ کہاں گیاصاف پتا چل جائے گا بینک سے پیسہ کہاں گیا، ان کے پاس بینک سے آیا تھا ان کے بینک سے کہاں گیا؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: بینک ٹو بینک پیسہ جاتا ہے تو یہ آپ کے سامنے جو بے نامی اکاؤنٹس کا ڈھیر لگا ہوا ہے تو یہ کیا جس کے اکاؤنٹس میں جاتا ہے وہ کیا اصل لوگ ہوتے ہیں، اب کیا پتا پیسہ کس کا ہے، اکاؤنٹ کس کا ہے۔ شاہزیب خانزادہ: علی عمران کے اکاؤنٹ سے کسی بے نامی اکاؤنٹ میں گیا ہے، یہ آپ نے ٹریس کیا ہے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: جو بھی اکاؤنٹس میں گیا ہے ہمیں اس کی مکمل تفصیلات کا نہیں پتا، اسی لئے ہم پوچھ رہے ہیں اور وہ بھاگ گئے ہیں اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں میں ڈھونڈ لوں، میں کیسے ڈھونڈ لوں۔ شاہزیب خانزادہ: آپ بینک سے ڈیٹا مانگیں، آپ انویسٹی گیٹو اتھارٹی ہیں، ان کو تو آنا ہی چاہئے اور کیس کا سامنا کرنا چاہئے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: کیس کا طریقہ یہ نہیں ہوتا، ملزمان سے پوچھا جاتا ہے، وہ کافی سارے disclose کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر ان کو اسی لیے حراست میں لیا جاتا ہے کہ جب یہ حراست میں آتے ہیں تو مختلف بات کرتے ہیں، جب یہ باہر ہوتے ہیں تو یہ مختلف بات کرتے ہیں، تفتیش کوئی ہنسی خوشی کا کھیل نہیں ہے یہ سیریس معاملہ ہوتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ: علی عمران آکر confess کرے گا اس کا انتظار کررہے ہیں، آگے کی تحقیقات آپ نے کوئی نہیں کی؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: علی عمران سے نہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں۔ شاہزیب خانزادہ: بینک کا تو آپ کریں، علی عمران کو تو آنا ہی چاہئے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: بینک کا سارا ریکارڈ لے لیا، ہم نے جو کرسکتے ہیں کیا ہوا ہے آپ اس کی فکر نہ کریں، آپ صرف یہ کوشش کریں اور مدد کریں کہ علی عمران واپس آجائے، باقی کام کو چھوڑیئے۔ شاہزیب خانزادہ: قوم کا پیسہ ہے اسی کے لئے آپ کو بلایا ہے تو اس کے سوال تو آپ سے کریں گے، مگر اگلا سوال یہ ہے کہ آپ نے کہا کہ اس مہینے کے آخر تک شہباز شریف کے خلاف ریفرنس داخل ہوجائے گا، بہت زیادہ شواہد آگئے ہیں، کیا ریفرنس شہباز شریف کے خلاف دائر ہونے جارہا ہے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: وہ تو جب آئے گا بتائیں گے، ابھی میں آپ کو ریفرنس بتادوں، یہ تو عدالت میں جانا ہے اب میں ٹی وی میں آپ کو ریفرنس بتاؤں کہ کیا جارہا ہے، ظاہر ہے ہم نے کچھ ایسے ثبوت پکڑلیے ہیں، ایسی statements ہمارے پاس آگئی ہیں کہ ہم بالکل comforatble ہیں کہ ہمارا کیس بہت مضبوط کیس ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ یہ کورٹ آف لاء میں دیکھیں گے بھی۔ شاہزیب خانزادہ: ان پر کرپشن ثابت ہورہی ہے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: یہ کرپشن ہی ہے، mis use of authority خود فائدہ اٹھانے یا کسی دوسرے کو دینا ان دونوں کا مطلب mis use of authority ہوتی ہے اور mis use of authority is a criminal action جس پر سزا ہوتی ہے، کرپشن کی تعریف ایک نہیں ہے۔ شاہزیب خانزادہ: آپ کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف کو کوئی ذاتی فائدہ ہے اس ریفرنس میں؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: ابھی تک جو پیسوں کی بات ہے جو کاغذوں پر فائدہ ہے وہ تو دوسرے لوگوں کو جارہا ہے، اب ہمارے پاس جو ملزمان حراست میں ہیں ان سے کرید رہے ہیں، سوال پوچھ رہے ہیں، کیونکہ جس آرگنائزیشن کو یہ ٹھیکہ گیا وہ ان کا سیاسی اتحادی ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ جو فائدہ ہے وہ انہوں نے in shape of پیسے لیا ہو، وہ in shape of politics بھی ہوسکتا ہے، اس کی کئی shapes ہوسکتی ہیں، اس کی کئی favours ہوسکتی ہیں، یہ اتنا سادہ کیس نہیں ہوتا کہ ہم نوٹ سامنے رکھیں گے اور وہ کہیں گے یہ نوٹ نکلا ہے، ایسے تو نوٹ نہیں نکلیں گے، یہ تو جب ہم کیس کو جوڑیں گے۔ شاہزیب خانزادہ: یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ خود فائدہ نہیں ہوا مگر کسی دوسرے کو اگر فائدہ ہوا تو وہ لازمی نہیں ہے کہ فائنانشل فائدہ ہوا ہو؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: اور خود بھی لازمی نہیں ہے فائنانشل ہوا ہو، فائدہ لینے کے اور بھی طریقے ہیں، صرف کاغذ نوٹ لینا نہیں ہوتا اور بھی بڑے طریقے ہوتے ہیں۔ شاہزیب خانزادہ: کس کو انہوں نے mis use of authority کرکے فائدہ پہنچایا اور کتنے روپے کا پہنچایا؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: یہ پیراگون آپ کے علم میں ہے، پیراگون کے پاس یہ گیا ٹھیکہ اور یہ سارا بینیفٹ، یہ سارا کام پیراگون کے لئے کیا گیا۔ شاہزیب خانزادہ: پیراگون کو کتنے روپے کا ٹھیکہ ملا یا کتنی زمین مل گئی، ان کا کانٹریکٹ تو 2015ء میں کینسل ہوگیا تھا، شہباز شریف نے کتنے پیسے دے دیئے؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: شہباز شریف نے تو پیسے نہیں دینے تھے، یہاں پر تو سرکاری چیزیں جانی تھیں، شہباز شریف کا کوئی ذاتی پراجیکٹ نہیں تھا۔ شاہزیب خانزادہ: سرکاری کتنا پیسہ گیا؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: سرکاری جو گیا اس کی تفصیل ابھی میرے پاس لکھی ہوئی نہیں ہے لیکن اس کے اندر بیس پچیس کروڑ روپیہ تو ان کی فزیبلٹی اسٹڈی اور ان کے مختلف دوسرے اخراجات تھے، پھر انہوں نے جو پہلے والا کنٹریکٹر تھا اس کو discontinue کیا اس کو انہوں نے پیسے دے کر جان چھڑائی کہ دو جگہ چھوڑ دے، اس کو وہاں پر پیسے دیئے گئے، اس کے بعد جب آپ کسی کو disconnect کرتے ہیں تو اس کو جو آپ جرمانہ کرتے ہیں انہوں نے وہ پیسے اکٹھے نہیں کیے، اب اس پورے جھگڑے میں، پچھلے تین سے چار سال میں اس کی کاسٹ کے اندر جو ہم نے ایکسپرٹس سے اسٹیمیٹ کروایا وہ پونے چار ارب ہوگئے۔ شاہزیب خانزادہ: جو پہلے والا کانٹریکٹر تھا لطیف سنز، اس کا کانٹریکٹ انہیں کینسل نہیں کرنا چاہئے تھا، ان سے یہ پراجیکٹ مکمل کرانا چاہئے تھا کہ لاگت نہ بڑھتی؟ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم: تو وہ بالکل ٹھیک تھا، ان کی جو طارق باجوہ کی جو انکوائری ہے اس نے کہا کہ 99.9 فیصد ٹھیک ہے، یہ صرف پوائنٹ ون پرسنٹ کیلئے پیچھے چلے گئے، بھئی پوائنٹ ون پرسنٹ ہر ڈیل میں ایسے ہوتا ہے، ایک چیز 99فیصد ٹھیک ہے آپ کینسل کر کے نئے سرے سے سارا کچھ کررہے ہیں، کیوں کررہے ہیں، کیونکہ ultimately یہ پیراگون کو جانی تھی، یہ بہانہ کوئی اور تھا نشانہ کوئی اور تھا، یہ گیم وائٹ کالر کرائم ہے،یہ ایسے نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں