آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اگلے چند روزمیں پرویز مشرف کے چند اہم ساتھی مسلم ن کا حصہ بننے والے ہیں۔ سیٹوں کی سیاست نے سیاست کے سینے میں سے رہا سہا دل بھی نکال لیا ہے۔ خیر میاں نواز شریف کو مبارک ہو کہ وہ آمریت کے کھلاڑیوں کے سہارے جمہوریت کا میچ جیتنا چاہتے ہیں حالانکہ اب زمانہ بدل گیا ہے پیتل پر سونے کا پانی چڑھا بھی لیا جائے، میڈیا کو قابو بھی کرلیا جائے تب بھی سوشل میڈیا سے بچا نہیں جاسکتا۔ سوشل میڈیا نے سماج اور سیاست میں نئی تاریخ رقم کی ہے اس نے سیاسی جماعتوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے سیکشن بنائیں۔ ایک سال پہلے تک بڑی سیاسی جماعتوں کو گمان بھی نہیں تھا کہ میدان سیاست میں نئے سامان حرب کے طور پر آنے والا سوشل میڈیا ان کی مجبوری بن جائے گا۔
اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ایک زمانے تک پاکستان کی سیاسی جماعتیں میڈیا کی اہمیت سے آگاہ نہیں تھیں وقت کی رفتار کے ساتھ انہیں اس کی اہمیت کا اندازہ ہوا تو سیاسی جماعتوں میں سیکریٹری اطلاعات کے علاوہ بڑے بڑے میڈیا سیل بن گئے۔ جیسے ایک زمانے میں مسلم لیگ ن کا میڈیا سیل پرویز رشید اور فرخ شاہ چلاتے تھے۔ سینیٹر پرویز رشید تو اب بھی مسلم لیگ ن کا میڈیا سیل دیکھتے ہیں اور مہارت کی بات ہے کہ پنجاب میں میڈیا کنٹرول بھی ہوجاتا ہے۔ پرویز رشید نے آج کل

اپنی پرانی پارٹی پیپلزپارٹی کی مخالفت چھوڑ کر نیا دشمن تاڑ لیا ہے ان کے اس نئے دشمن کا نام تحریک انصاف ہے وہ نہ صرف تحریک انصاف کی میڈیا کوریج کم کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ ان کے اشتہارات کی اشاعت رکوانے اور مناسب جگہ دستیاب نہ کرانے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔ حکومتی وسائل کو ڈھنگ سے استعمال کرنے کا گر پرویز رشید کے پاس ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکرٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان صرف ٹی وی ٹاک شوز تک محدود ہیں۔ پچھلے سال تیس اکتوبر سے پہلے مسلم لیگ ن سوشل میڈیا کی قائل نہیں تھی عمران خان کے جلسے نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ لاہور سرکتا ہوا دکھائی دینے لگا تو مریم نواز میدان میں اتر آئیں۔ آج کل مسلم لیگ ن کا سوشل میڈیا مریم نواز کی سربراہی میں کام کررہا ہے۔ معاونین میں احسن اقبال اور طارق عظیم کے علاوہ ”پرانی مسلم لیگی“ ماروی میمن بھی ہیں۔ زبیر عمر اور فائز خان بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں ۔ علی خان یوسف زئی ، مریم نواز کے سیکنڈ کمانڈر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
حالات کے تقاضوں نے پیپلز پارٹی کو بھی سوشل میڈیا سیل بنانے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ نئے زمانے نے بتادیا ہے کہ ٹی وی، اخبارات کی حدیں ہو سکتی ہیں سوشل میڈیا کی نہیں۔ لاہور سے شائع ہونے والے اخبارات کو تو ن لیگ کنٹرول کرسکتی ہے مگر انٹرنیٹ پر ہونے والی جنگ کو نہیں روک سکتی لوگ فیس بک اور ٹویٹر استعمال کرتے ہیں میڈیا والوں کا احتساب بھی سوشل میڈیا پر ہوتا ہے اس خوفناک ہتھیار کی رو میں کسی وقت خود بلاول بھٹو زرداری ، بختاور اور آصفہ کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ شرمیلا فاروقی اور فواد چوہدری بھی خاصے سرگرم رہتے ہیں کیپٹن واصف سید بھی سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
اب آتے ہیں اس جماعت کی جانب جو سوشل میڈیا کو متعارف کرانے والی ہے۔ اس جماعت کا نام پاکستان تحریک انصاف ہے اس کے نوجوانوں نے ہی تو یہ خوفناک ہتھیار سیاست کے میدان میں اتار تھا۔ تحریک انصاف کی طرف سے سوشل میڈیا پر سرگرم رہنے والی بے شمار ٹیمیں ہیں۔ پاکستان کی یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو سوشل میڈیا پر سب سے آگے ہے شاید اس کی بڑی وجہ یہ ہو کہ یہ نوجوانوں کی پارٹی ہے اور پاکستان کے65فیصد نوجوان اپنا مستقبل صرف اسی پارٹی کے ساتھ روشن دیکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی ٹیم نوجوانوں پر مشتمل ہے عواب علوی اس کے سربراہ ہیں عمران غزالی، کامران بنگش اور ماجد اعوان سمیت قریباً چار درجن نوجوان اس ٹیم کا حصہ ہیں جو اپنے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شفقت محمود پرانے بیوروکریٹ ہیں، اخبارات میں مضامین لکھتے رہے ہیں، ان کے ایک کزن جعفر اقبال ن لیگ پنجاب کے سینئر نائب صدر ہیں، دوسرے کرن ذکاء اشرف صدر زرداری کے پہلو میں تشریف فرما ہوتے ہیں، تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو شفقت محمود میڈیا میں نہیں دکھا سکے۔ ہاں البتہ شفقت محمود اور ماہا سوشل میڈیا پر موجود ہوتے ہیں ۔ تحریک انصاف کی مرکزی رہنما عائلہ ملک کی سربراہی میں ایک بڑا میڈیا سیل قائم کیا گیا ہے اور آج کل عائلہ ملک نے اپنی تمام تر توجہ اسی میڈیا سیل پر مرکوز کر رکھی ہے۔ عائلہ ملک باصلاحیت ہیں اگر وہ اسی طرز کے دفاتر ہر صوبے میں قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو پھر یقینا ”لاہوری میڈیا“ ان کا راستہ نہیں روک سکے گا۔
جماعت اسلامی کا میڈیا امیر العظیم اور شمسی صاحب دیکھتے رہے ہیں، یہ واحد مذہبی جماعت ہے جس نے سوشل میڈیا کو اپنا لیا ہے حافظ شمس الیدن جماعت اسلامی کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ ہیں۔ مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا، ڈپٹی سیکرٹری غلام مصطفی ملک اور خواتین کی سیکرٹری اطلاعات ثمینہ خاور حیات ہیں۔ ق لیگ کے سوشل میڈیا کے سربراہ شاکر حسین ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں حیدر عباس رضوی، رضا ہارون، واسع جلیل اور قمر منصور کے علاوہ اپنے اٹھائیس سو افراد ایم کیو ایم کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ ہیں جو ہر وقت ہر ایک سے رابطے میں رہتے ہیں، ایم کیو ایم کے سوشل میڈیا کے سربراہ قاسم ہیں۔سنا ہے کہ ن لیگ کی حالیہ کامیابیوں کے پیچھے سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے اگر یہ سچ ہے تو پھر مریم نواز مبارکباد کی مستحق ہیں ، میری ایک زمانے میں ان سے ملاقاتیں رہی ہیں۔وہ باصلاحیت ہیں جب ان کے خاندان کے افراد جیل میں تھے تو جہاں بیگم کلثوم نواز جلسے جلوسوں کی قیادت کرتی تھیں وہاں مریم نواز سفارت کاروں سے ملاقاتوں میں مصروف رہتی تھیں۔ بیرونی دنیا میں شریف خاندان کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے میں مریم نواز کا بھرپور کردار تھا اب وہ سوشل میڈیا کی سربراہ ہیں۔ ان کی جماعت کو مبارک ہو۔
سیاست کی اگلی جنگ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوگی، دونوں ہی خوفناک ہوں گے مگر سوشل میڈیا تو اس حد تک خطرناک ترین ہے کہ میڈیا کے افراد لرز جاتے ہیں۔ برسوں پہلے اقبال نے کہا تھا کہ
ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں