آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بعض قوتیں فاٹا انضمام کیخلاف کام کر رہی ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کی خاطر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں، ایسی قوتوں کے ارادوں کو ناکام بنانا ہے۔

فاٹا انضمام کے بعد انتظامی و دیگر معاملات پر اب تک کی پیشرفت پر وزیراعظم آفس میں عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ فاٹا والوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ انضمام ان کی بہتری اور بھلائی کے لیے کیا گیا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کو فاٹا انضمام سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے این ایف سی کا 3 فیصد مختص کرنے کے لیے وفاق سے مشاورت جاری ہے اور ٹیکس سے 5 سالہ چھوٹ دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جا چکا ہے۔

اس دوران کہا گیا کہ اب تک فاٹا سیکریٹریٹ کے کئی محکمے صوبہ خیبر پختونخواہ کو منتقل کیے جا چکے ہیں ان محکموں میں تعلیم، زکوۃ، عشر، سوشل ویلفیئر اور پاپولیشن ویلفیئر شامل ہیں جبکہ دیگر محکموں کی منتقلی پر بھی کام جاری ہے۔

بریفننگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے 10سالہ منصوبہ بندی کے لئے خصوصی کمیٹی وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی سربراہی میں تشکیل دی جا چکی ہے۔

انضمام شدہ علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے این ایف سی کا 3 فیصد مختص کرنے کے لئے وفاق سے مشاورت جاری ہے، فاٹا کے علاقوں میں ٹیکس کے حوالے سے 5 سالہ چھوٹ دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جا چکا ہے جبکہ وہاں حلقہ بندیوں کا کام جاری ہے، جسے دسمبر 2018تک مکمل کر لیا جائے گا۔

عدالتی و ویگر معاملات پر پیشرفت پر بھی وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس سے خطاب میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ فاٹا انضمام قبائلی علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے اور ان میں واضح بہتری لانے کے مقصد کے پیش نظر کیا گیا ، انضمام کے بعد انتظامی و دیگر اصلاحات کے عمل کو اس انداز میں سر انجام دیا جائے کہ وہ لوگوں کے لئے دشواری کا باعث نہ بنے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں