آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد کےبڑے بیٹے تیج پرتاپ نے گھر واپس آنے کے لئے شرط رکھ دی اور کہا کہ ان کے گھر والے ایشوریہ کو طلاق دینے کی مخالفت چھوڑ دیں تو گھر واپس آجاؤں گا۔

بھارتی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے اور سابق وزیر تیج پرتاپ یادو نے اہلیہ ایشوریا رائے سے طلاق لینے کا فیصلہ کیا تو ان کے گھر والوں نے مخالفت کی۔

طلاق کی درخواست عدالت میں دائر کرنے کے بعد تیج پرتاپ خاموشی سے گھر چھوڑ گئے۔کچھ روز قبل رانچی میں انہوں نے اپنے والد لالو پرساد سے ملاقات کی اور اپنے فیصلے پرقائم رہنے کا فیصلہ سنایا۔

لالو پرساد نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر بیٹے کو بہت سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور کہا کہ ’’وہ اپنے فیصلے سے کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، گھٹ۔ گھٹ کر جینے سے بہتر ہے شادی کے بندھن سے الگ ہوجانا‘‘۔

گزشتہ روز مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے شادی سے پہلے بھی اپنے والدین سے کہا تھا کہ یہ شادی قائم نہیں رہ سکے گی۔میری بات نہ پہلے کسی نے سنی اور نہ اب کوئی سن رہا ہے اور جب تک میرے گھر والے اس طلاق پر راضی نہیں ہو جاتے میں گھر واپس کیسے آسکتا ہوں۔‘

یاد رہے کہ تیج پرتاپ اور ایشوریا کی شادی اسی سال 12 مئی کو ہوئی تھی۔انہوں نے پٹنہ سول کورٹ کی فیملی کورٹ میں ایشوریا سے طلاق کیلئے درخواست داخل کی ہےجس پر29 نومبر کو سماعت ہونے والی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں