آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن (نیوز ڈیسک) سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 2 سال کے دوران معیشت میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ ڈیلی ایکسپریس کے مطابق گزشتہ کم وبیش 2سال کے دوران معیشت میں تیزی سے ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک مستحکم ہو رہا ہے۔ جولائی سے ستمبر کی سہہ ماہی کے دوران معیشت میں تیزی کی شرح 0.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ اس سے قبل کی سہہ ماہی کے دوران شرح نمو 0.1فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، قومی شماریات آفس کے تازہ ترین اعدادوشمار 2016 کی آخری سہہ ماہی کے بعد سے جب شرح نمو 0.7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، سب سے زیادہ ہے۔ اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ سال بہ سال بنیاد پر شرح نمو 1.2 فیصد سے بڑھ کر 1.5 فیصد ہوگئی ہے۔ اخبار کے مطابق وزیر خزانہ فلپ ہیمنڈ نے حال ہی میں جس بجٹ کا اعلان کیا ہے، وہ توقع سے زیادہ مستحکم تھا، فلپ ہیمنڈ نے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج معیشت میں تیزی کی شرح میں 0.6 فیصد اضافہ ہماری معیشت کے استحکام اور مضبوطی کا ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی معیشت کی تعمیر کر رہے ہیں جو ہر ایک کیلئے ہو، جس سے مزید 3.3 ملین افراد کو

روزگار مل سکے، ملک کے ہر حصے سے بیروزگاری میں کمی ہو اور اجرتوں کی شرح میں گزشتہ ایک عشرے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو۔ اب ہماری توجہ اس ترقی کو اپنی جگہ مستحکم کرنا اور اس بات کویقینی بنانے پر ہے کہ لوگوں کی تنخواہوں میں اضافہ کا سلسلہ جاری رہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے بجٹ میں سخت محنت کرنے والے 32 ملین افراد اور فیملیز کو ٹیکس میں کٹوتی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے عوامی خدمات کیلئے فنڈ کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے اور این ایچ ایس کے فنڈ میں ریکارڈ توڑ اضافہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور ڈیجٹل ٹیکنالوجی کیلئے زیادہ فنڈ فراہم کر کے مستقبل کیلئے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں