آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم،کشمیر یوں کی آوازمیں آواز ملانا ہوگی،مختلف رہنما

لیڈز (ندیم راٹھور) لیڈز کے سیوک ہال میں ایک عظیم الشان کشمیر کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں کشمیر کی پارلیمانی جماعتوں کے نمائندگان کی طرف سے پیش کی گئی انسانی حقوق کی رپورٹ کو زیر بحث لایا گیا۔ اس ضمن میں دونوں اطراف کے کشمیریوں کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل اور حکمت عملی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی معروف کشمیری رہنما صابر دین تھے۔ کانفرنس کی صدارت کونسلر پولین گراہم نے کی، جبکہ تقریب کی میزبانی کے فرائض کونسلر جاوید نے انجام دیئے۔ کانفرنس میں کونسلرز، اکابرین شہر، ہر رنگ و نسل اور قومیت کے معتبر اراکین اور عام لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ تقریب سے کونسلر اقبال، الماس گوہر، غلام حسین، قاری عاصم، ڈاکٹر خان، کامران صابر اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور جرائم کا جو سلسلہ گزشتہ71سال سے جاری ہے اسے روکنے کے لئے تمام جمہوریت، آزادی اور انسان دوست لوگوں کو کشمیریوں کی آواز میں آواز ملانا ہوگی۔ تمام برطانوی پارلیمانی کشمیری سیاسی جماعتوں کی مشترکہ رپورٹ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں پر مہر تصدیق ثبت کررہی ہے۔ مقررین نے کہا1918ء میں لاکھوں جانیں قربان کرکے جس انسانی حقوق کے حصول کی عظیم سعی کی گئی تھی،

فلسطین، شام، برما، یمن، بوسنیا اور کشمیر سمیت دیگر مقامات پہ مسلمانوں پہ ڈھائی جانے والی قیامتوں کی وجہ سے وہ کوشش اب بھی ادھوری اور تشنہ ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے جاری رپورٹس میں جنوری1989ء سے لے کر دسمبر2016ء تک ایک لاکھ دس ہزار سے زائد کشمیری موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے، لاکھوں انڈین فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے قبضہ میں ہیں، دس ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، ایک لاکھ سے زائد عورتیں جبری گینگ ریپ کا شکار ہوئیں اور لگ بھگ ہر کشمیری دھماکوں، تحقیقات، تفتیش، کریک ڈائون اور فسادات کا عینی گواہ یا شکار رہا ہے۔ پیلٹ گنوں کا مسلسل استعمال کشمیریوں پہ ہورہا ہے۔ جس سے ان کی زندگیاں یا تو ختم ہورہی ہیں یا انسانی اعضا سے محروم ہورہی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی صابر دین نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ وقت آگیا ہے کہ برطانیہ اور ساری اقوام عالم زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس اور مربوط اقدامات کے ذریعہ کشمیریوں کی نسل کشی اور ان پہ بربریت کا خاتمہ کروائیں۔ کونسلر پولین گراہم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے مستقل اور پائیدار حل پر زور دیا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں