آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور (نمائندہ جنگ، مانیٹرنگ سیل،نیوز ایجنسیاں) لاہور کی احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ(ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی،جبکہ رمضان شوگر ملز کیس میں بھی گرفتاری، عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق نیب کی استدعا مسترد کردی، صدر مسلم لیگ (ن) کو اب 24نومبر کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائیگا۔نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلا س میں مصروفیت کے باعث اپوزیشن لیڈر سے مکمل تفتیش نہیں کرسکے ، اس لیے ریمانڈ میں توسیع دی جائے، جبکہ شہبازشریف کہا کہ حلفیہ کہتا ہوں پروڈکشن آڈر کے دوران بھی مجھ سے تفتیش کی جاتی رہی ہے۔ نیب کی جانب سے شہباز شریف کو سخت سیکورٹی میں اسلام آباد سے لاہور کی احتساب عدالت پیش کیا گیا، جہاں جج نجم الحسن نے شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کی ، سماعت کے آغاز پر باہر موجود وکلاء نے کمرہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا جس سے سماعت میں خلل پڑا،شہباز شریف نے کہا کہ ʼجج

صاحب یہ کارکن نہیں، وکلاء دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں اس موقع پر جج نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ یہ وکلاء آپ کیلئے آئے ہیں؟ شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ʼہم نے ان وکلا کو نہیں بلایا، ہم تو چاہتے ہیں کہ اچھے حالات میں سماعت ہو جس پر احتساب عدالت کے جج نے برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ میں ان حالات میں سماعت نہیں کرسکتا، بعد ازاں عدالت نے سماعت کچھ دیر کیلئے روکدی، سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو نیب نے رمضان شوگر ملز کیس میں بھی شہباز شریف کی گرفتاری ڈال دی۔ وکیل نیب نے بتایا کہ 10 نومبر کو شہباز شریف کی رمضان شوگر ملز کیس میں عوام کے فنڈ کے استعمال پر گرفتاری ڈالی، رمضان شوگر ملز سے متعلق بھی تفتیش درکار ہے، شوگر مل کے قریب نالہ بنایا گیا، حکومت کے فنڈ استعمال کیے گئے، 215 ملین لاگت آئی ۔دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ انکے موکل کو نیب نے پہلی مرتبہ جون 2018 میں بلایا اور جب بھی نیب نے شہباز شریف کو بلایا وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوتے رہے۔ شہباز شریف نے نیب تحقیقات میں ہر طرح کا تعاون کیا ہے لیکن نیب کی ٹیم جنوری 2018 سے آج تک کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اس دوران نیب پراسیکیوٹر نے شہباز شریف کے ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس اور بطور اپوزیشن لیڈر مصروفیت کے باعث مکمل تفتیش نہیں کرسکے، جس پر شہباز شریف نے خود اٹھ کر کہا کہ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ پروڈکشن آڈر کے دوران بھی مجھ سے تفتیش کی جاتی رہی ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اسی کیس میں گرفتار احد چیمہ نے خود ایک فزیبلٹی رپورٹ بنائی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ فزیبلٹی سے آگے بھی آئیں۔ وکیل شہباز شریف نے کہا کہ جوفزیبلی رپورٹ ایل ڈی اے یا کسی اور نے تیار کی اسکا میرے موکل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، یہ عدالت کسی ملزم کا خودکار طور پر 90 روز کا ریمانڈ دینے کی پابند نہیں ، آج جس درخواست پر ریمانڈ کی استدعا کی جارہی ہے وہ قانون کے مطابق نہیں صرف مفروضوں پر مبنی ہیں،قانون کہتا ہے کہ ایک کیس میں گرفتار شخص کو دوسرے کیسز میں گرفتار سمجھا جائیگا۔جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف پر نیا کیس الگ ہے جبکہ موجودہ کیس ثبوت کے ساتھ ہے ۔ قبل ازیں سابق وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کو سخت سیکورٹی میں ائیرپورٹ سے رینجرز ،پنجاب پولیس اور ایلٹ فورس کے قافلے نے عدالت پہنچایا،حمزہ شہباز،مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری اور خواجہ عمران نذیرسمیت ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی احتساب عدالت پہنچی۔ راستوں کی بندش کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے احتساب عدالت جانے کی کوشش کی تھی جس پر پولیس اور لیگی کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔پولیس کی جانب سے ہنگامہ آرائی روکنے کے لیے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا جبکہ کارکنان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں