آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (انصار عباسی) چیف جسٹس پاکستان کی سخت وارننگ کے باوجود پنجاب میں انیتا تراب کیس کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے اور اب جہلم کے ڈپٹی کمشنر، جنہیں دو ہفتے قبل ہی عہدے پر مقرر کیا گیا تھا، کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اس طرح ایسے افسران کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں راستے کا پتھر بن کر رہ گئے ہیں۔ 12؍ نومبر بروز پیر، سروس اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے محمد سہیل خواجہ کو ڈپٹی کمشنر جہلم کے عہدے سے ٹرانسفر کر دیا۔ انہیں مزید احکامات کیلئے ایس اینڈ جی اے ڈی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ افسر کو دو ہفتے قبل ہی اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خود ان کا انٹرویو لے کر عہدے کیلئے موزوں قرار دیا تھا۔ 28؍ ا کتوبر کو وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد، ایس اینڈ جی اے ڈی نے خواجہ کو ڈائریکٹر (اسٹیٹ مینجمنٹ) لاہور رنگ روڈ اتھارٹی کے عہدے سے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور انہیں ڈپٹی کمشنر جہلم لگایا۔ پی ٹی آئی حکومت آنے کے چند روز بعد، اس وقت کے ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل کو سیاسی دبائو کی وجہ سے اور انیتا تراب کیس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہٹایا گیا، کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی جا چکی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کی مدت ملازمت کو تحفظ

دیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے معاملے کا نوٹس لیا اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اس وقت کے آئی جی پولیس پنجاب کلیم امام کی جانب سے سپریم کورٹ میں افسر کو غلط انداز سے سیاسی دبائو میں ٹرانسفر کرنے کے ایشو میں معافی مانگنے پر یہ معاملہ نمٹا دیا گیا۔ تاہم، ڈی پی او پاک پتن کا کیس نمٹائے جانے کے اگلے ہی دن انیتا تراب کیس کی ایک اور خلاف ورزی کی گئی اور اس وقت کے آئی جی پولیس پنجاب طاہر خان کو غیر شائستہ انداز سے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ طاہر خان کو پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے تعینات کیے جانے کے ایک ماہ بعد ہٹایا گیا۔ اگرچہ چیف جسٹس نے پنجاب آئی جی کے قبل از وقت تبادلے کا نوٹس لینے سے گریز کیا لیکن چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو ایک مرتبہ پھر اس وقت مداخلت کرنا پڑی جب وفاقی حکومت نے آئی جی اسلام آباد پولیس جان محمد کو غیر شائستہ انداز سے ہٹا دیا، افسر کو عہدے کی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور سیاسی دبائو میں ہٹایا گیا۔ اسلام آباد آئی جی پولیس ٹرانسفر کیس میں چیف جسٹس نے اشارہ دیا کہ سپریم کورٹ سابق آئی جی پنجاب طاہر خان کا کیس بھی اٹھا سکتی ہے۔ تاہم، ایسا نہیں کیا گیا۔ جس وقت میڈیا اور عدلیہ کی توجہ سینئر سرکاری ملازمین کے قبل از وقت اور متنازع ٹرانسفر پر ہے، اس وقت پنجاب حکومت نے جونیئر اور مڈ کیریئر افسران کیلئے ایسی ٹرانسفر پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو نہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہے بلکہ پالیسی کی وجہ سے افسران راستے کا پتھر بن چکے ہیں۔ 11؍ نومبر بروز اتوار دی نیوز میں شائع ہوا تھا کہ کس طرح پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر افسران بشمول پولیس اور میونسپل افسران کو ایک پوزیشن سے دوسری پر تعینات کیا جا رہا ہے، اور اس کے بعد چند ہی روز میں دوسرے عہدوں پر مقرر کیا جا رہا ہے۔ اس اخبار میں متعدد مرتبہ ٹرانسفر کیے جانے والے افسران کے واقعات بھی پیش کیے گئے تھے۔ ایک کیس ایسا بھی ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر مظہر علی سرور کو 15؍ دن میں پانچ مرتبہ ٹرانسفر کیا گیا۔ ایک اور کیس میں، اسسٹنٹ کمشنر عابد شوکت کو دو ہفتوں میں چار مرتبہ ٹرانسفر کیا جا چکا ہے۔ ایک اور کیس میں پی اے ایس کے 17؍ گریڈ کے افسر کیپٹن (ر) شاہمیر اقبال کو تین ہفتوں میں انہیں کئی مرتبہ ٹرانسفر کیا جا چکا ہے۔ ایک اور کیس میں کلر سئیداں کے اسسٹنٹ کمشنر علی اکبر (پی ایم ایس گریڈ 17) کو پہلے ایس اینڈ جی اے ڈی کی طرف سے بطور اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ ورکاں ٹرانسفر کیا گیا۔ بعد میں اسی محکمے کی جانب سے ایک اور نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے علی اکبر کو اسسٹنٹ کمشنر فیروزوالا تعینات کیا گیا۔ دو دن بعد یعنی 19؍ اکتوبر کو ایس اینڈ جی اے ڈی نے 17؍ اکتوبر کو نوٹیفکیشن منسوخ کرتے ہوئے علی اکبر کو اسسٹنٹ کمشنر شالیمار ٹائون لاہور لگا دیا۔ ایسے تمام ٹرانسفرز، جن کی تعداد زیادہ ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، پنجاب حکومت کی نظر میں یہ کوئی غیر معمولی اقدام نہیں۔ صوبائ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ معمول کی بات ہے۔ انیتا تراب کیس میں سپریم کورٹ نے مندرجہ ذیل اصول طے کردیے تھے تاکہ سرکاری ملازمین کو سیاست سے بچایا جا سکے۔ ۱) تقرری، عہدے سے ہٹانے اور ترقی کا عمل قانون اور اس کے تحت بنائے گئے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے، جہاں قانون اور اصول موجود نہ ہو وہاں صوابدید کے مطابق فیصلہ کیا جائے، صوابدیدی اختیار کو منظم انداز میں، شفاف طریقے سے اور موزوں انداز سے اور عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے استعمال کیا جائے۔ ۲) جب کسی بھی عہدے کیلئے قانون کے مطابق مدت مقرر کی گئی اور اس کے تحت اصول طے کر دیے گئے ہیں، اس مدت کا احترام کرنا ہوگا اور اس میں صرف ٹھوس وجوہات کے تحت ہی تبدیلی کی جا سکے گی، ان وجوہات کو تحریری طور پر بتانا ہوگا جن پر عدالتیں نظرثانی کر سکتی ہیں۔ ۳) سرکاری ملازمین کا پہلا فرض اور وفاداری قانون اور آئین کے ساتھ ہے۔ انہیں اعلیٰ افسران کے غیر قانونی احکامات ماننے کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی ایسے احکامات ماننے کی بھی ضرورت نہیں جو طے شدہ طریقہ کار، اصولوں اور آئین سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسی صورت میں سرکاری ملازمین اپنی رائے تحریری کریں اور اگر ضروری ہو تو ایسے احکامات کی مخالفت کریں۔ ۴) افسران کو صرف ٹھوس وجوہات پر ہی او ایس ڈی لگایا جائے گا، وجوہات تحریری طور پر پیش کی جائیں گی جن پر عدالتیں نظر ثانی کر سکتی ہیں۔ اگر کسی افسر کو او ایس ڈی لگا بھی دیا گیا ہو تو اس کا دورانیہ کم سے کم مدت کا ہوگا اور اگر اس کیخلاف انضباطی انکوائری جاری ہے تو یہ جلد از جلد مکمل کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اسے اس بات کا ادراک ہے کہ مذکورہ بالا معاملات فیصلہ سازی اور ریاست کی انتظامی مشینری سے متعلق ہیں، ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت کی نشاندہی کی ہے کہ عہدے کی معیاد، اپائنٹمنٹ، ترقی اور ٹرانسفر کے متعلق فیصلے اصولوں کے مطابق رہیں نہ کہ ایسے صوابدیدی اختیارات کے مطابق جن میں کسی طرح کی مداخلت نہیں ہو سکتی یا نظر ثانی نہیں ہو سکتی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر فیصلے کی نقول وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، صوبائی چیف سیکریٹریز، کمشنر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور تمام وفاقی و صوبائی محکموں کے سیکریٹریز کو بھجوائی گئی تھیں۔ تاہم، عمومی طور پر اس تاریخی فیصلے کو متعلقہ حکام نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ اس کا فالو اپ نہیں کرتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں