آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبرپختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کردیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ملنے والی ایک لاش کی تصویر وائرل ہورہی ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ ایس پی طاہر داوڑ کی ہے۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور خیبرپختونخوا کے آئی جی صلاح الدین محسود نےالگ الگ بیانات میں افغانستان میں ایس پی طاہر داوڑ کے قتل کئے جانے کی تصدیق سے گریز کیا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نےسماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لاپتا ایس پی طاہر داوڑ کے افغانستان میں مبینہ قتل کی تصاویر پر اظہار خیال سے انکار کردیا اور کہا کہ طاہر داوڑ کا معاملہ حساس ہے اس پر بات نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فوٹ شاپ کرکے جعلی خبریں اور تصویریں پھیلائی جاتی ہیں، زندگی کا مسئلہ ہے ایسے بات نہیں کرسکتے۔

وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ جن کے پیارے لاپتا ہیں ان کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے،نیشنل سیکیورٹی اور کسی کی زندگی کی بات اوپن فورم پر نہیں کرسکتے۔

دوسری طرف آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود نے کہا کہ طاہر داوڑ کے معاملے پر متعلقہ اداروں کے ذریعےافغان حکومت سے رابطےمیں ہیں،فی الوقت اس خبر کی تصدیق ممکن نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں