آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کا واقعہ میڈیا پر دبائو کے تاثر کو تقویت دیتا ہے، نواز شریف خاموش ہیں اور ان کی خاموشی نہ صرف پارٹی کے اندر خدشات کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس سے ڈیل کی افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے، سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے اور کیا اس حکمت عملی کا براہ راست کسی ڈیل سے تعلق ہے یا نواز شریف کسی خاص بات کا انتظار کررہے ہیں، ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ ملک تین یا چھ ماہ بعد الیکشن کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، جب وقت آئے گا تو تمام چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور پارٹی بھرپور طریقے سے بات کرے گی۔پروگرام میں مفتاح اسماعیلاور فخردرانی نے بھی اظہار خیال کیا۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا پر دباؤ ڈالا جارہا ہے،

آزادانہ کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے، میڈیا کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، ایسے موقع پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو میڈیا پر دباؤ کے تاثر کو تقویت دیتا ہے، آٹھ نومبر کو رات ساڑھے آٹھ بجے سادہ کپڑوں میں مسلح افراد کراچی پریس کلب میں زبردستی داخل ہوئے، انہیں روکنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے پریس کلب کے عملے کی بات نہیں سنی اور کچھ دیر رکنے کے بعد فرار ہوگئے، اس واقعہ کے بعد کراچی کے صحافی اب تک احتجاج کررہے ہیں۔ یہ واقعہ اس لئے بھی غیرمعمولی ہے کہ کراچی پریس کلب کی تاریخ میں کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا، یہاں آج تک سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد داخل نہیں ہوئے، یہ پریس کلب کی روایت ہے کہ یہاں وردی میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے داخلے پر پابندی ہے، اس پابندی کا گزشتہ ستر برس سے احترام کیا جاتا رہا ہے، حکومت اور صحافیوں کے درمیان ایک خاموش مفاہمت ہے جس کی ہمیشہ پاسداری کی گئی، فوجی حکومت نے بھی اس کی پاسداری کی،سول حکومت نے بھی اس کا خیال رکھا مگر آٹھ نومبر کویہ روایت ٹوٹ گئی۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ نواز شریف خاموش ہیں اور ان کی خاموشی نہ صرف پارٹی کے اندر خدشات کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس سے ڈیل کی افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے، سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا نواز شریف اور مریم نواز کی خاموشی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے اور کیا اس حکمت عملی کا براہ راست کسی ڈیل سے تعلق ہے یا نواز شریف کسی خاص بات کا انتظار کررہے ہیں، یا ایک ایسی ڈیل جس کے ذریعہ نواز شریف اور مریم نواز کو نیب کیسوں میں ریلیف مل سکے، دوسری طرف نواز شریف کی خاموشی سے ان کی پارٹی کے اندر بھی خدشات جنم لے رہے ہیں، ن لیگ اس وقت اپنی مرکزی قیادت سے محروم ہے، شہباز شریف نیب تحقیقات میں زیرحراست ہیں اور نواز شریف کو نااہلی کے بعد دیگر کیسوں کا سامنا ہے جن کا فیصلہ جلد آسکتا ہے۔ منگل کو مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ بیرونی ادائیگیوں کے توازن کا فوری مسئلہ حل ہوگیا ہے تو آئی ایم ایف کے پاس کیوں جارہے ہیں، کیا ن لیگ نے بھی معیشت پر وہی سیاست شروع کردی ہے جس کیلئے وہ دوسروں پر الزام لگاتی تھی۔ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف پر حالات کا جبر سہی لیکن جب وہ ایک عدالت پر اعتماد کرتے ہیں تو روز اس عدالت کے باہر کھڑے ہو کر کچھ اور بات نہیں کرسکتے،ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں جو کچھ ہوا اس سے دنیا نے بہت کچھ سیکھا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اس کیس پر ریمارکس پر نواز شریف تو دور ہمیں بھی کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرنا چاہئے، نواز شریف جب مہم چلارہے تھے اس وقت الیکشن ہونا تھا اب الیکشن نہیں ہورہا، اب لوگوں کیلئے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا فوری وقت نہیں آرہا ہے، یہ ملک تین یا چھ ماہ بعد الیکشن کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے، جب وقت آئے گا تو تمام چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور پارٹی بھرپور طریقے سے بات کرے گی، احتساب عدالت میں چلنے والے دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، ن لیگ اور نواز شریف چاہتے ہیں جو بھی فیصلہ ہو وہ عوام کی عدالت میں ہو، ہم کوئی ایسا قدم اٹھانا نہیں چاہتے جس سے ملک جمہوری راستے سے ہٹے۔سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر بیرونی ادائیگیوں کا مسئلہ سنگین تھاتو سعودی عرب کے دورے سے کیسے حل ہوگیا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ حکومت آئی ایم ایف جائے، ہم یہی کہہ رہے تھے کہ مسئلہ اتنا سنگین نہیں جتنا حکومت بیان کررہی ہے، اگر چھ ارب ڈالر سعودی عرب نے دیدیئے، ساڑھے چار ارب ڈالر چین دیدے گا، تین چا رارب ڈالر یو اے ای دیدے گا تو قوم کو بتائیں کہ ہمیں آئی ایم ایف میں کیوں جانا پڑرہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں