آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن (سعید نیازی) پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی نے دعویٰ کیاہے کہ کشمیر اتنا بڑا ایشو نہیں جتنا کہ دنیا نے بنا دیا ہے ،وہ منگل کی شام برطانوی پارلیمنٹ میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ جس کا اہتمام رکن پارلیمنٹ اور آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ آن پاکستان کے چیئرمین رحمٰن چشتی نے کیا تھا۔ تقریب میں لندن کی یونیورسٹیز میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شاہد آفریدی کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ چلیں میں کہتا ہوں کہ پاکستان کو کشمیر نہیں چاہئے، انڈیا کو بھی نہ دو، کشمیریوں کو ایک ملک لینے دیں تاکہ وہاں پر انسانیت پر جو ظلم ہو رہا ہے، اسے تو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’نہیں چاہئے کشمیر پاکستان کو‘‘ پاکستان سے یہ چار صوبے نہیں سنبھل رہے۔ انڈیا کو بھی نہ دو، وہاں پر جو لوگ مررہے ہیں، تکلیف ہوتی ہے۔ ایک او رسوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو حکومت کی کارکردگی دکھانے کے حوالے سے کچھ وقت دیا جانا چاہئے، میں نے ذاتی طور پر انہیں ڈیڑھ برس کا وقت دیا

ہے، کیونکہ 70برس کے مسائل چند دنوں میں حل نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ پاکستان کو زیرو سے شروع کرنا چاہ رہے ہیں، کچھ چیزوں کو درست ہونے میں 15سے20سال لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران کی حکومت اگر کرپشن پر قابو پالے اور جس گائوں میں وائی فائی تک پہنچ چکا ہے، وہاں تعلیم بس پہنچا دے تو یہ پاکستان کی آنے والی نسلوں پر بڑا احسان ہوگا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کپتان سرفراز کی قیادت میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ کھلاڑی انفرادی طور پر بھی اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اگر اسی طرح کھیلتے رہے تو آئندہ برس ہونے والے ورلڈکپ کے جیتنے کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے اپنی فائونڈیشن کے حوالے سے بھی طلبہ کو آگاہ کیا اور کرکٹ کے حوالے سے دلچسپ واقعات بھی سنائے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی زندگی کی سب سے ناخوشگوار یاد وہ ہے، جب میں نے گیند کو دانتوں سے کاٹا تھا۔ قبل ازیں رحمٰن چشتی ایم پی نے شاہد آفریدی کی کرکٹ اور چیرٹی کے لئے خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں طلبہ سے ان کی ملاقات کرانے کا مقصد یہ تھا کہ طلبہ سخت محنت کرنے والوں سے ملیں۔ طلبہ نے بھی شاہد آفریدی سے مختلف سوالات کئے۔ چند طلبہ نے شاہد آفریدی کے کشمیر سے متعلق بیان پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شاہد آفریدی کی ذاتی رائے تو ہو سکتی ہے لیکن ہماری قومی پالیسی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ حق رائے دہی کے ذریعے کرنے دیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں